By Amina Afzal
Reviewed By Dr. Huma Ameer
By Amina Afzal
Reviewed By Dr. Huma Ameer
پاکستان میں ہر چار بالغوں میں سے ایک کو ذیابیطس ہے۔ یہ دنیا کی سب سے زیادہ پھیلنے والی بیماریوں میں سے ایک ہے۔ بہت سے لوگ اس بیماری کو “شوگر” کہتے ہیں، مگر اس کے بارے میں درست معلومات بہت ضروری ہے۔
اس مضمون میں ذیابیطس کی اقسام، وجوہات، علامات، اور علاج سب آسان زبان میں بیان کیا گیا ہے۔
Table of Contents
ذیابیطس ایک دائمی بیماری ہے جس میں خون میں شکر کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ یہ اس وقت ہوتی ہے جب لبلبہ کافی انسولین نہ بنائے یا جسم اسے درست طریقے سے استعمال نہ کر سکے۔ انسولین ایک ہارمون ہے جو خون میں شکر کو جسم کے خلیوں تک پہنچاتا ہے۔ جب یہ عمل درست نہ ہو تو خون میں شکر جمع ہونے لگتی ہے اور کئی اعضاء کو نقصان پہنچاتی ہے۔
پاکستان میں یہ بیماری تیزی سے عام ہو رہی ہے اور شہری علاقوں میں خاص طور پر بے قاعدہ خوراک اور غیر فعال طرز زندگی اس کی بڑی وجوہات ہیں۔
یہ قسم اکثر بچوں اور نوجوانوں میں ہوتی ہے۔ اس میں لبلبہ بالکل انسولین نہیں بناتا۔ جسم کا مدافعتی نظام خود لبلبے کے خلیوں کو ختم کر دیتا ہے۔ اس قسم کے مریضوں کو ہمیشہ انسولین کے انجیکشن کی ضرورت ہوتی ہے۔
یہ سب سے عام قسم ہے اور پاکستان میں زیادہ تر مریض اسی سے متاثر ہیں۔ اس میں لبلبہ انسولین بناتا ہے، مگر جسم اسے ٹھیک سے استعمال نہیں کر پاتا۔ موٹاپا، بے قاعدہ خوراک، اور ورزش نہ کرنا اس کی بڑی وجوہات ہیں۔
یہ قسم حمل کے دوران ہوتی ہے۔ بچے کی پیدائش کے بعد اکثر ٹھیک ہو جاتی ہے، مگر مستقبل میں ٹائپ ٹو ذیابیطس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ پاکستانی خواتین میں اس کی تشخیص اکثر دیر سے ہوتی ہے، اس لیے حمل کے دوران باقاعدہ خون کا ٹیسٹ ضروری ہے۔
اس حالت میں خون میں شکر معمول سے زیادہ ہوتی ہے، مگر ابھی ذیابیطس کی سطح تک نہیں پہنچی۔ یہ ایک تنبیہ ہے۔ طرز زندگی میں تبدیلی سے اسے ٹائپ ٹو بننے سے روکا جا سکتا ہے۔
ذیابیطس کی کوئی ایک وجہ نہیں ہوتی، بلکہ کئی عوامل مل کر اس کا خطرہ بڑھاتے ہیں:
پاکستانی کھانوں میں گھی، سفید چاول، میٹھے مشروبات، اور مٹھائیوں کا زیادہ استعمال ٹائپ ٹو ذیابیطس کا خطرہ بڑھاتا ہے۔
ذیابیطس کی علامات بعض اوقات آہستہ آہستہ ظاہر ہوتی ہیں۔ کچھ لوگوں کو سالوں تک پتہ نہیں چلتا۔ یہ علامات نظر آئیں تو فوری خون کا ٹیسٹ کروانا چاہیے:
ان علامات کو نظرانداز نہ کریں۔ جتنی جلدی تشخیص ہو، علاج اتنا مؤثر ہوتا ہے۔
ذیابیطس کی تشخیص خون کے سادہ ٹیسٹ سے ہوتی ہے۔ ڈاکٹر عام طور پر یہ ٹیسٹ تجویز کرتے ہیں:
پاکستان میں یہ ٹیسٹ ہر بڑے ہسپتال اور لیبارٹری میں آسانی سے دستیاب ہیں۔ چالیس سال کے بعد ہر سال یہ ٹیسٹ کروانا ضروری ہے، خاص طور پر اگر خاندان میں ذیابیطس ہو۔
ذیابیطس کا مکمل علاج فی الحال ممکن نہیں، مگر اسے پوری طرح قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔ علاج کا انحصار ذیابیطس کی قسم اور شدت پر ہوتا ہے۔
یہ علاج کی بنیاد ہے۔ پاکستانی ماہرینِ غذائیت کی تجویز کردہ غذا میں شامل ہونا چاہیے:
روزانہ تیس منٹ کی پیدل چال بھی خون میں شکر کو قابو میں رکھنے میں مدد دیتی ہے۔
ٹائپ ٹو ذیابیطس میں ڈاکٹر منہ سے کھانے والی دوائیں تجویز کرتے ہیں۔ سب سے عام دوا میٹفارمن ہے۔ بعض اوقات ایک سے زیادہ دوائیں بھی دی جاتی ہیں۔
ٹائپ ون ذیابیطس میں انسولین لازمی ہے۔ ٹائپ ٹو میں بھی کچھ مریضوں کو انسولین کی ضرورت پڑتی ہے جب دوائیں کافی نہ ہوں۔ پاکستان میں انسولین سرکاری ہسپتالوں میں بھی دستیاب ہے۔
ٹائپ ٹو ذیابیطس کو کافی حد تک روکا جا سکتا ہے۔ یہ اقدامات خطرہ کم کرتے ہیں:
اگر آپ کو بہت زیادہ پیاس، بار بار پیشاب، اچانک وزن کم ہونا، یا نظر کا دھندلا ہونا محسوس ہو تو فوری ڈاکٹر سے ملیں۔ ذیابیطس کے مریضوں کو ہر تین ماہ بعد اپنے معالج سے ملنا چاہیے۔
تصدیق شدہ ماہرِ غدد اور عمومی معالج لاہور میں مشاورت کے لیے دستیاب ہیں۔
ذیابیطس ایک قابلِ انتظام بیماری ہے۔ بروقت تشخیص، درست خوراک، ورزش، اور دوا سے مریض معمول کی زندگی گزار سکتا ہے۔ پاکستان میں اس بیماری کا پھیلاؤ تیزی سے بڑھ رہا ہے، اس لیے آگاہی اور جلد از جلد ٹیسٹ بہت ضروری ہے۔
ذیابیطس کیا ہوتی ہے؟
ذیابیطس ایک دائمی بیماری ہے جس میں خون میں شکر کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ یہ اس وقت ہوتی ہے جب لبلبہ کافی انسولین نہ بنائے یا جسم اسے درست طریقے سے استعمال نہ کر پائے۔
ذیابیطس کی کتنی اقسام ہیں؟
ذیابیطس کی تین اہم اقسام ہیں: ٹائپ ون، ٹائپ ٹو، اور حمل کی ذیابیطس۔ پاکستان میں ٹائپ ٹو سب سے عام ہے۔
کیا ذیابیطس کا مکمل علاج ممکن ہے؟
ابھی تک ذیابیطس کا مکمل علاج نہیں ہے، مگر درست خوراک، ورزش، اور دوا سے اسے پوری طرح قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔ مریض معمول کی صحت مند زندگی گزار سکتا ہے۔
ذیابیطس کی علامات کیا ہیں؟
بہت زیادہ پیاس، بار بار پیشاب، تھکاوٹ، نظر کا دھندلا ہونا، اور زخم کا دیر سے بھرنا ذیابیطس کی عام علامات ہیں۔ یہ علامات ظاہر ہوں تو فوری خون کا ٹیسٹ کروائیں۔
کیا ذیابیطس کے مریض رمضان میں روزہ رکھ سکتے ہیں؟
ہاں، ذیابیطس کے بہت سے مریض روزہ رکھ سکتے ہیں۔ مگر روزے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے تاکہ دوا کا وقت اور مقدار مناسب طریقے سے ترتیب دی جا سکے۔
ذیابیطس سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟
متوازن خوراک، باقاعدہ ورزش، وزن پر قابو، اور سال میں ایک بار خون کا ٹیسٹ ذیابیطس کے خطرے کو کافی حد تک کم کرتے ہیں۔
A single peach has fewer than 60 calories, yet it delivers a solid dose of…
Crooked or crowded teeth can be treated with more than one method today. Invisible braces…
If OTC creams have not cleared your skin, you are not alone. Persistent acne is…
چنبل ایک ایسی بیماری ہے جس کا نام بہت سے لوگوں نے سنا ہے، مگر…
Most people in Pakistan do not realize they are Vitamin D deficient until a blood…
A child who pushes away every meal worries most Pakistani parents. Loss of appetite is…