By Amina Afzal
Reviewed By Dr. Huma Ameer
By Amina Afzal
Reviewed By Dr. Huma Ameer
Table of Contents
ہچکی ایک غیرارادی عمل ہے جس میں سانس کی نالی اچانک سکڑتی ہے اور آواز پیدا ہوتی ہے۔ یہ خاص عضلے کی اچانک حرکت سے شروع ہوتی ہے جسے پردہ حجاب کہتے ہیں۔ یہ عضلہ پھیپھڑوں اور معدے کے درمیان واقع ہوتا ہے۔
جب یہ عضلہ اچانک کھنچتا ہے تو سانس تیزی سے اندر آتی ہے اور گلے کی آواز کی نالی بند ہو جاتی ہے۔ یہی عمل “ہک” کی آواز پیدا کرتا ہے جسے ہم ہچکی کہتے ہیں۔ عام طور پر یہ چند منٹ میں خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔
زیادہ تر ہچکی معمولی وجوہات سے آتی ہے اور جلد ختم ہو جاتی ہے۔
پاکستان میں گرمیوں میں برف کا پانی یا لسی تیزی سے پینا ہچکی کی بہت عام وجہ ہے۔ اسی طرح رمضان میں افطار کے وقت جلدی کھانا بھی ہچکی کا باعث بنتا ہے۔
عام ہچکی دو سے پانچ منٹ میں ختم ہو جاتی ہے۔ اگر ہچکی 48 گھنٹے سے زیادہ جاری رہے تو اسے “مستقل ہچکی” کہتے ہیں۔ اگر ہچکی دو ماہ سے زیادہ رہے تو اسے “ناقابل علاج ہچکی” کہا جاتا ہے۔
مستقل ہچکی کسی اندرونی بیماری کی علامت ہو سکتی ہے، جیسے:
اگر ہچکی کے ساتھ سینے میں درد، سانس لینے میں دشواری یا الٹی ہو تو فوری طبی مدد لینا ضروری ہے۔ تجربہ کار معالج لاہور میں دستیاب ہیں۔ مستقل ہچکی کو نظرانداز نہ کریں کیونکہ یہ کسی اندرونی تکلیف کی علامت ہو سکتی ہے۔
گھر پر معمولی ہچکی بند کرنے کے کئی آزمودہ طریقے ہیں۔
نوزائیدہ بچوں میں ہچکی بہت عام ہے اور عموماً بے ضرر ہوتی ہے۔ دودھ پلانے کے دوران یا بعد میں ہچکی آنا فطری بات ہے۔ دودھ پلانے کے بعد بچے کو کندھے سے لگا کر پیٹھ تھپتھپانا ہچکی روکنے میں مددگار ہے۔
پانچ سال سے کم عمر بچوں میں اگر ہچکی کھانے میں رکاوٹ ڈالے یا رات کو نیند خراب کرے تو بچوں کے ڈاکٹر سے ملنا چاہیے۔
چند احتیاطیں ہچکی کو بار بار آنے سے روک سکتی ہیں:
ہچکی ایک عام اور عموماً بے ضرر کیفیت ہے جو چند منٹ میں خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔ سانس روکنا، ٹھنڈا پانی پینا یا گہری سانس لینا اسے فوری طور پر روکنے میں مددگار ہے۔ اگر ہچکی 48 گھنٹے سے زیادہ رہے یا اس کے ساتھ اور علامات ہوں تو ڈاکٹر سے ضرور ملیں۔
ہچکی اس وقت آتی ہے جب پردہ حجاب اچانک سکڑ جاتا ہے۔ یہ تیزی سے کھانا کھانے، ٹھنڈا یا گرم مشروب لینے یا جذباتی صدمے سے ہو سکتی ہے۔
گہرا سانس لے کر 10 سے 15 سیکنڈ روکیں یا آہستہ آہستہ ٹھنڈے پانی کے چھوٹے گھونٹ پئیں۔ یہ دونوں طریقے اکثر فوری اثر کرتے ہیں۔
عام ہچکی دو سے پانچ منٹ میں خود ختم ہو جاتی ہے۔ اگر 48 گھنٹے سے زیادہ رہے تو یہ کسی بیماری کی علامت ہو سکتی ہے۔
دودھ پلانے کے بعد بچے کو کندھے سے لگا کر پیٹھ تھپتھپائیں۔ نوزائیدہ بچوں میں ہچکی عموماً بے ضرر ہوتی ہے اور خود ختم ہو جاتی ہے۔
جی ہاں، اگر ہچکی بار بار آئے یا 48 گھنٹے سے زیادہ جاری رہے تو یہ معدے، گردے یا اعصاب کی کسی تکلیف کی علامت ہو سکتی ہے۔
افطار کے وقت تیزی سے کھانا اور پینا پردہ حجاب کو اچانک متاثر کرتا ہے۔ آہستہ اور چھوٹے گھونٹوں میں افطار کرنا ہچکی سے بچاتا ہے۔
A yeast infection is one of the most common reasons women visit a gynaecologist in…
Fungal skin infections are one of the most common skin complaints seen by doctors across…
An itchy, red patch that will not settle down is one of the most common…
A scratchy throat or slow-healing cut often sends people straight to the pharmacy for Vitamin…
A single peach has fewer than 60 calories, yet it delivers a solid dose of…
پاکستان میں ہر چار بالغوں میں سے ایک کو ذیابیطس ہے۔ یہ دنیا کی سب…