By Amina Afzal
Reviewed By Dr. Huma Ameer
By Amina Afzal
Reviewed By Dr. Huma Ameer
پاکستان میں گرمیوں کے موسم میں اور مون سون کے بعد اسہال کے مریضوں کی تعداد بہت بڑھ جاتی ہے۔ یہ ایک ایسی تکلیف ہے جو کسی بھی عمر کے شخص کو ہو سکتی ہے، بچوں سے لے کر بوڑھوں تک۔
بیشتر لوگ اسہال کو معمولی سمجھ کر نظرانداز کر دیتے ہیں۔ لیکن اگر یہ دو سے تین دن سے زیادہ رہے، تو یہ کسی سنگین بیماری کی علامت بھی ہو سکتی ہے۔
Table of Contents
اسہال اس کیفیت کو کہتے ہیں جب دن میں تین یا اس سے زیادہ بار پتلا یا پانی جیسا پاخانہ آئے۔ یہ عام طور پر آنتوں میں کسی انفیکشن، خراب کھانے یا پانی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ پاکستان میں آلودہ پانی اور بازاری کھانا اسہال کی سب سے عام وجوہات میں شامل ہیں۔ اکثر یہ چند دنوں میں خود بخود ٹھیک ہو جاتا ہے، لیکن جسم میں پانی کی کمی سے بچنا ضروری ہے۔
اسہال کی دو بنیادی اقسام ہیں جن کو سمجھنا علاج کے لیے ضروری ہے۔
یہ اچانک شروع ہوتا ہے اور عام طور پر ایک سے دو ہفتوں میں ختم ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں یہ قسم سب سے زیادہ عام ہے، خاص طور پر گرمیوں میں۔
یہ چار ہفتوں سے زیادہ رہتا ہے اور اکثر کسی اندرونی بیماری کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس قسم میں فوری طبی معائنہ ضروری ہے۔
اسہال کی وجوہات متعدد ہو سکتی ہیں۔ پاکستان کے تناظر میں درج ذیل وجوہات سب سے زیادہ عام ہیں:
رمضان کے دوران افطاری میں تلی ہوئی اور بھاری غذاؤں کا زیادہ استعمال بھی اسہال کا سبب بن سکتا ہے۔
اسہال میں سب سے بڑا خطرہ جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی ہے، جسے طبی زبان میں پانی کی کمی کہا جاتا ہے۔ یہ کمی جان لیوا بھی ہو سکتی ہے، خاص طور پر چھوٹے بچوں اور بوڑھوں میں۔
او آر ایس (ORS) محلول اس کا سب سے مؤثر گھریلو علاج ہے۔ یہ پاکستان کے ہر میڈیکل اسٹور پر آسانی سے ملتا ہے۔
گھر پر بھی او آر ایس بنایا جا سکتا ہے:
بڑوں کو ہر پتلے پاخانے کے بعد ایک گلاس او آر ایس پینا چاہیے۔ بچوں کو چمچ چمچ کر کے پلانا بہتر ہے۔
زیادہ تر اسہال کے لیے گھر پر دیکھ بھال کافی ہوتی ہے۔ اسہال کے علاج کے اہم اقدامات یہ ہیں:
اگر ڈاکٹر نے انفیکشن کی تشخیص کی ہو، تو وہ مناسب دوائیں تجویز کریں گے۔ معدے اور آنتوں کے ماہر ڈاکٹر لاہور اور پاکستان کے دیگر بڑے شہروں میں دستیاب ہیں۔
اسہال سے بچنا اس کے علاج سے آسان ہے۔ چند احتیاطی تدابیر اپنانے سے اس سے بچا جا سکتا ہے:
پاکستان میں سیلاب یا بارش کے بعد پانی آلودہ ہو جاتا ہے۔ ان موسموں میں خاص احتیاط ضروری ہے۔
اسہال پاکستان میں ایک عام لیکن قابلِ علاج مسئلہ ہے۔ اس میں سب سے پہلی ترجیح جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی کو پورا کرنا ہے۔ او آر ایس محلول، ہلکی غذا اور صفائی کا خیال رکھنا عام اسہال میں کافی ہوتا ہے۔ تاہم اگر علامات سنگین ہوں یا تین دن سے زیادہ جاری رہیں، تو ڈاکٹر سے ملنا ضروری ہے۔
اسہال جاری رہنے تک او آر ایس پینا ضروری ہے۔ ہر پتلے پاخانے کے بعد ایک گلاس او آر ایس لینا چاہیے تاکہ جسم میں پانی اور نمکیات کا توازن برقرار رہے۔
اسہال کے دوران دودھ اور دودھ سے بنی اشیاء سے پرہیز بہتر ہے۔ البتہ سادہ دہی استعمال کیا جا سکتا ہے کیونکہ اس میں مفید جراثیم ہوتے ہیں جو آنتوں کو صحت یاب ہونے میں مدد کرتے ہیں۔
بچوں کو تھوڑا تھوڑا او آر ایس پلاتے رہیں اور ماں کا دودھ پینے والے بچوں کو دودھ جاری رکھیں۔ اگر بچہ پانی پینے سے انکار کرے، بہت کمزور ہو یا پاخانے میں خون آئے تو فوری ڈاکٹر سے ملیں۔
اینٹی بایوٹک صرف اس وقت فائدہ کرتی ہے جب اسہال کسی بیکٹیریل انفیکشن کی وجہ سے ہو۔ یہ دوا ڈاکٹر کے معائنے اور تشخیص کے بغیر نہ لیں کیونکہ غلط استعمال نقصاندہ ہو سکتا ہے۔
ہاں، سادہ ابلا چاول اسہال میں بہترین غذا ہے۔ یہ آسانی سے ہضم ہوتا ہے، آنتوں پر بوجھ نہیں ڈالتا اور جسم کو توانائی دیتا ہے۔
پاکستان میں آلودہ پانی اور بازاری کھانا اسہال کی سب سے عام وجہ ہے۔ گرمیوں اور مون سون کے موسم میں یہ خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے، اس لیے ان موسموں میں صفائی اور پانی کی احتیاط خاص طور پر ضروری ہے۔
پیٹ میں بے چینی اور منہ میں پانی آنے کا احساس اچانک ہو سکتا ہے۔…
More than 33 million Pakistanis live with diabetes. Most of them focus on managing blood…
پیٹ میں بھاری پن، گیس کا احساس، اور کپڑے تنگ لگنے لگیں تو یہ سب…
Fatty liver is one of the most common liver conditions in Pakistan, and most people…
ٹیبلٹ ایک غیر سٹیرائیڈل اینٹی انفلیمیٹری دوا ہے۔ Pytex یہ دوا درد، سوزش اور جوڑوں…
Vitamin D deficiency is far more common than most people expect. A large portion of…