By Amina Afzal
Reviewed By Dr. Huma Ameer
By Amina Afzal
Reviewed By Dr. Huma Ameer
پاکستان میں جگر کی بیماریاں بڑی تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ ان میں یرقان ایک ایسی حالت ہے جو بچوں اور بڑوں دونوں کو متاثر کر سکتی ہے۔
آنکھوں اور جلد کا پیلا ہو جانا اس کی سب سے واضح علامت ہے۔ یہ خود کوئی بیماری نہیں بلکہ کسی اندرونی مسئلے کی نشانی ہے۔
Table of Contents
یرقان اس وقت ہوتا ہے جب خون میں بیلی روبن کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ بیلی روبن ایک زرد رنگ کا مادہ ہے جو خون کے پرانے خلیوں کے ٹوٹنے سے بنتا ہے۔
عام حالات میں جگر اسے صاف کر کے جسم سے باہر نکال دیتا ہے۔ جب جگر یہ کام صحیح طریقے سے نہ کر سکے تو بیلی روبن جسم میں جمع ہونے لگتا ہے، جلد اور آنکھیں پیلی پڑ جاتی ہیں، اور یہ حالت یرقان کہلاتی ہے۔ پاکستان میں یرقان خاص طور پر ہیپاٹائٹس اے اور ای کی وجہ سے عام ہے، جو آلودہ پانی اور خوراک سے پھیلتی ہے۔
یرقان کی تین بنیادی اقسام ہیں جو اس کی وجہ کے مطابق الگ ہوتی ہیں۔
پاکستان میں یرقان کی سب سے بڑی وجہ ہیپاٹائٹس اے اور ای ہے۔ یہ وائرس آلودہ پانی، کھلے کھانے، اور غیر صحت مند ماحول سے پھیلتا ہے۔
ہیپاٹائٹس بی اور سی بھی جگر کو نقصان پہنچاتے ہیں اور یرقان کا سبب بن سکتے ہیں۔ پاکستان میں ہیپاٹائٹس بی اور سی کے مریضوں کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔
یرقان کی علامات ہلکی بھی ہو سکتی ہیں اور سنگین بھی۔ ان کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
ڈاکٹر سب سے پہلے خون کا ٹیسٹ کرواتا ہے جس میں بیلی روبن کی سطح دیکھی جاتی ہے۔ جگر کے افعال جانچنے کے لیے ایل ایف ٹی ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔
ہیپاٹائٹس کی تصدیق کے لیے ہیپاٹائٹس اے، بی، سی، اور ای کے الگ ٹیسٹ ہوتے ہیں۔ پاکستان میں یہ سب ٹیسٹ لیبارٹریوں میں آسانی سے دستیاب ہیں۔
الٹراساؤنڈ سے جگر، پتھری، اور صفرے کی نالی کی حالت دیکھی جاتی ہے۔ بعض صورتوں میں ڈاکٹر بائیوپسی یا ایم آر آئی بھی تجویز کر سکتا ہے۔
یرقان کا علاج اس کی وجہ پر منحصر ہے۔ ہر قسم کا علاج الگ ہوتا ہے۔
ہیپاٹائٹس اے اور ای کا کوئی خاص علاج نہیں۔ آرام، مناسب پانی، اور صحت مند غذا سے جسم خود ٹھیک ہو جاتا ہے۔ ہیپاٹائٹس بی اور سی کے لیے ڈاکٹر دوائیں تجویز کرتا ہے۔
اگر صفرے کی پتھری رکاوٹ کا سبب ہے تو آپریشن یا اینڈوسکوپی سے اسے نکالا جاتا ہے۔ یہ علاج فوری راحت دیتا ہے۔
یرقان میں خوراک کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے:
پاکستان میں یرقان کے لیے گنے کا رس، مکئی کے بھٹے کے بال، اور جوشاندے عام طور پر گھر میں آزمائے جاتے ہیں۔ یہ نقصاندہ نہیں لیکن کافی بھی نہیں۔ ڈاکٹر سے تصدیق کے بغیر صرف دیسی علاج پر بھروسہ درست نہیں۔
یرقان سے بچنا مشکل نہیں اگر چند احتیاطی تدابیر اپنائی جائیں۔
پاکستان میں گرمیوں کے موسم میں یرقان کے کیس زیادہ ہوتے ہیں کیونکہ گرمی میں پانی اور کھانے میں وائرس تیزی سے پلتے ہیں۔
یرقان کی کچھ علامات ایسی ہیں جن میں فوری ڈاکٹر سے ملنا ضروری ہے:
یرقان کو گھر پر سنبھالنے کی کوشش وقت ضائع کر سکتی ہے۔ تصدیق شدہ ماہرِ امراضِ معدہ و آنت کراچی اور پاکستان کے دیگر بڑے شہروں میں مشاورت کے لیے دستیاب ہیں۔
یرقان ایک علامت ہے، بیماری نہیں۔ اس کی وجہ جاننا ضروری ہے تاکہ صحیح علاج ہو سکے۔ پاکستان میں ہیپاٹائٹس اور آلودہ پانی اس کی سب سے بڑی وجوہات ہیں۔ ویکسین، صاف پانی، اور وقت پر ڈاکٹر سے مشورہ اس بیماری سے بچا سکتا ہے۔
یرقان میں سادہ اور ہلکی غذا کھانی چاہیے جیسے ابلے چاول، دلیہ، تازہ پھل، اور دہی۔ تیل، گھی، اور مسالے دار کھانے سے مکمل پرہیز ضروری ہے۔
ہیپاٹائٹس اے یا ای سے ہونے والا یرقان عام طور پر دو سے چھ ہفتوں میں ٹھیک ہو جاتا ہے۔ پتھری یا دیگر وجوہات میں علاج اور وقت زیادہ لگ سکتا ہے۔
یرقان خود چھوت کی بیماری نہیں ہے، لیکن ہیپاٹائٹس اے اور ای جو یرقان کا سبب بنتے ہیں، آلودہ پانی اور کھانے سے پھیل سکتے ہیں۔
نوزائیدہ بچوں میں پیدائش کے پہلے چند دنوں میں ہلکا یرقان عام ہے اور خودبخود ٹھیک ہو جاتا ہے۔ اگر یرقان شدید ہو یا دو ہفتوں سے زیادہ رہے تو فوری طور پر ماہرِ اطفال سے ملنا ضروری ہے۔
گنے کا رس نقصاندہ نہیں، لیکن صرف اسی پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ یرقان کی وجہ جانے بغیر کوئی بھی علاج ناکافی ہو سکتا ہے۔
ہیپاٹائٹس جگر کی سوجن کی بیماری ہے، اور یرقان اس کی ایک علامت ہو سکتی ہے۔ یرقان دوسری وجوہات سے بھی ہو سکتا ہے جیسے پتھری یا خون کی بیماریاں۔
بواسیر ایک تکلیف دہ بیماری ہے جس میں مقعد کے اندر یا باہر کی رگیں…
پاکستان میں گرمیوں کے موسم میں اور مون سون کے بعد اسہال کے مریضوں کی…
پیٹ میں بے چینی اور منہ میں پانی آنے کا احساس اچانک ہو سکتا ہے۔…
More than 33 million Pakistanis live with diabetes. Most of them focus on managing blood…
پیٹ میں بھاری پن، گیس کا احساس، اور کپڑے تنگ لگنے لگیں تو یہ سب…
Fatty liver is one of the most common liver conditions in Pakistan, and most people…