By Amina Afzal
Reviewed By Dr. Huma Ameer
By Amina Afzal
Reviewed By Dr. Huma Ameer
پیٹ یا کمر میں ابھار محسوس ہو تو اکثر لوگ اسے نظرانداز کر دیتے ہیں۔ یہ ابھار فتق کی ابتدائی علامت ہو سکتا ہے۔
فتق ایک ایسی طبی کیفیت ہے جو پاکستان میں بہت عام ہے، مگر اس کے بارے میں آگاہی بہت کم ہے۔ بروقت تشخیص اور علاج سے سنگین پیچیدگیوں سے بچا جا سکتا ہے۔
Table of Contents
فتق اس وقت ہوتا ہے جب جسم کے کسی حصے میں پٹھوں یا بافتوں میں کمزوری آ جائے اور اندرونی عضو یا چربی اس کمزور جگہ سے باہر نکل آئے۔ پیٹ، ران کی اندرونی جگہ، اور ناف کے قریب یہ کیفیت سب سے زیادہ دیکھی جاتی ہے۔ علاج نہ ہو تو یہ تکلیف دہ اور خطرناک ہو سکتا ہے۔
پاکستان میں بھاری وزن اٹھانے والے مزدور، حاملہ خواتین، اور موٹاپے کے شکار افراد میں فتق کا خطرہ زیادہ پایا جاتا ہے۔ عمر کے ساتھ پٹھوں کی کمزوری بھی اس کا سبب بن سکتی ہے۔
فتق کی کئی اقسام ہیں، جو مختلف جگہوں پر ہو سکتی ہیں:
فتق کی بنیادی وجہ پٹھوں میں کمزوری ہے، جو کئی اسباب سے ہو سکتی ہے:
فتق کی علامات اس کی قسم اور مقام کے لحاظ سے مختلف ہو سکتی ہیں:
اہم بات: کچھ فتق بالکل بے درد ہوتے ہیں اور الٹراساؤنڈ پر ہی سامنے آتے ہیں۔ پاکستان میں بہت سے مریض درد نہ ہونے کی وجہ سے علاج میں تاخیر کرتے ہیں، جو خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
ڈاکٹر سب سے پہلے جسمانی معائنہ کرتے ہیں اور متاثرہ جگہ کو ہاتھ لگا کر جانچتے ہیں۔ اکثر معاملات میں الٹراساؤنڈ سے فتق کی تصدیق ہو جاتی ہے۔
پیچیدہ صورتوں میں ایم آر آئی یا سی ٹی اسکین بھی تجویز کیا جا سکتا ہے۔ سینے کے فتق کی تشخیص کے لیے اینڈوسکوپی کی بھی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
فتق کا مکمل علاج صرف آپریشن سے ممکن ہے۔ ابتدائی یا چھوٹے فتق میں ڈاکٹر کچھ عرصے کے لیے نگرانی کا مشورہ دے سکتے ہیں۔
وزن پر قابو رکھنا، بھاری وزن اٹھانے سے گریز، اور قبض کا علاج علامات کو کم کر سکتا ہے۔ مگر یہ اقدامات فتق کو ٹھیک نہیں کرتے۔
پاکستان میں فتق کے لیے دو طریقے عام ہیں:
دونوں آپریشنوں میں جال (mesh) لگانا عام ہے تاکہ دوبارہ فتق نہ ہو۔
آپریشن کے بعد چند ہفتوں تک بھاری وزن اٹھانے سے گریز ضروری ہے۔ ڈاکٹر کی ہدایات پر سختی سے عمل کرنا جلد صحت یابی کی ضمانت ہے۔
زیادہ تر مریض چند ہفتوں میں معمول کی زندگی پر واپس آ جاتے ہیں۔ کھلے آپریشن میں صحت یابی میں قدرے زیادہ وقت لگتا ہے۔
فتق کی روک تھام مکمل طور پر ممکن نہیں، مگر خطرہ ضرور کم کیا جا سکتا ہے:
فوری طور پر ڈاکٹر سے ملنا ضروری ہے اگر ابھار سخت ہو جائے، اچانک شدید درد شروع ہو، یا قے آنے لگے۔ یہ اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ فتق پھنس گیا ہے، جو ایک طبی ہنگامی صورتحال ہے۔
عام علامات میں بھی تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ تجربہ کار ماہرِ جراحی کراچی اور پاکستان کے دیگر بڑے شہروں میں مشاورت کے لیے دستیاب ہیں۔ لاہور، اسلام آباد، اور راولپنڈی میں بھی اہل ڈاکٹروں سے آن لائن اپائنٹمنٹ لی جا سکتی ہے۔
فتق ایک عام مگر قابلِ علاج بیماری ہے۔ پٹھوں کی کمزوری سے اندرونی عضو باہر نکل آتا ہے اور ابھار بنتا ہے۔ نالی، ناف، اور سینے کا فتق پاکستان میں سب سے زیادہ دیکھا جاتا ہے۔
علاج صرف آپریشن سے ممکن ہے، جو آج کل کافی محفوظ اور مؤثر ہے۔ ابھار نظر آتے ہی ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔ تاخیر خطرناک پیچیدگیوں کا سبب بن سکتی ہے۔
فتق اس وقت ہوتا ہے جب جسم کے کسی حصے میں پٹھوں میں کمزوری آئے اور اندرونی عضو یا چربی اس کمزور جگہ سے باہر نکل آئے۔ پیٹ اور ناف کے قریب یہ کیفیت سب سے عام ہے۔
فتق خود بخود ٹھیک نہیں ہوتا۔ وقت کے ساتھ یہ بڑا ہو سکتا ہے اور پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔ مکمل علاج کے لیے آپریشن ضروری ہے۔
اگر ابھار اچانک سخت ہو جائے اور شدید درد کے ساتھ قے آنے لگے تو یہ فوری طبی ہنگامی صورتحال ہے۔ اسے پھنسا ہوا فتق کہتے ہیں اور فوراً ڈاکٹر سے رجوع کرنا لازمی ہے۔
آج کل فتق کا آپریشن ایک معیاری اور محفوظ عمل ہے۔ دوربین کا آپریشن خاص طور پر کم تکلیف دہ ہوتا ہے اور مریض جلد صحت یاب ہو جاتا ہے۔
پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں فتق کا آپریشن ہوتا ہے۔ تجربہ کار سرجن سے پہلے مشاورت ضروری ہے تاکہ آپریشن کی صحیح قسم طے کی جا سکے۔
جال (mesh) لگانے سے دوبارہ فتق کا خطرہ بہت کم ہو جاتا ہے۔ آپریشن کے بعد وزن قابو میں رکھنا اور بھاری وزن سے گریز ضروری ہے۔
Grandmothers have pushed a warm glass of haldi doodh at bedtime for generations. Turns out,…
A chest infection is one of the most common reasons people visit a clinic, especially…
Millions of Pakistanis live with a zinc deficiency and never know it. The symptoms come…
تیزابیت ایک عام معدے کا مسئلہ ہے جسے انگریزی میں Acidity کہا جاتا ہے۔ یہ…
عرق النساء، جسے انگریزی میں Sciatica کہا جاتا ہے، ایک عام اعصابی مسئلہ ہے جس…
Antibiotics are some of the most searched, most self-prescribed, and most misunderstood medicines out there.…