We have detected Lahore as your city

Hernia Meaning in Urdu: Fatq Kya Hai, Aqsaam aur Ilaj

4 min read

Find & Book the best "General Physicians" near you

پیٹ یا کمر میں ابھار محسوس ہو تو اکثر لوگ اسے نظرانداز کر دیتے ہیں۔ یہ ابھار فتق کی ابتدائی علامت ہو سکتا ہے۔

فتق ایک ایسی طبی کیفیت ہے جو پاکستان میں بہت عام ہے، مگر اس کے بارے میں آگاہی بہت کم ہے۔ بروقت تشخیص اور علاج سے سنگین پیچیدگیوں سے بچا جا سکتا ہے۔

فتق کیا ہے؟ Hernia is What

فتق اس وقت ہوتا ہے جب جسم کے کسی حصے میں پٹھوں یا بافتوں میں کمزوری آ جائے اور اندرونی عضو یا چربی اس کمزور جگہ سے باہر نکل آئے۔ پیٹ، ران کی اندرونی جگہ، اور ناف کے قریب یہ کیفیت سب سے زیادہ دیکھی جاتی ہے۔ علاج نہ ہو تو یہ تکلیف دہ اور خطرناک ہو سکتا ہے۔

پاکستان میں بھاری وزن اٹھانے والے مزدور، حاملہ خواتین، اور موٹاپے کے شکار افراد میں فتق کا خطرہ زیادہ پایا جاتا ہے۔ عمر کے ساتھ پٹھوں کی کمزوری بھی اس کا سبب بن سکتی ہے۔

فتق کی اقسام Hernia of Types

فتق کی کئی اقسام ہیں، جو مختلف جگہوں پر ہو سکتی ہیں:

  • نالی کا فتق (Hernia Inguinal): ران اور پیٹ کے درمیان والی جگہ سے ابھار نکلتا ہے۔ یہ مردوں میں سب سے عام قسم ہے۔
  • ناف کا فتق (Hernia Umbilical): ناف کے قریب ابھار بنتا ہے۔ یہ بچوں اور حاملہ خواتین میں زیادہ دیکھا جاتا ہے۔
  • آپریشن کے بعد کا فتق (Hernia Incisional): پرانے آپریشن کی جگہ پر کمزوری سے ابھار بنتا ہے۔
  • سینے کا فتق (Hernia Hiatal): معدے کا اوپری حصہ سینے کی طرف ابھر آتا ہے۔ یہ سینے میں جلن کی ایک بڑی وجہ ہے۔
  • ران کا فتق (Hernia Femoral): ران کی اندرونی نالی کے قریب ہوتا ہے۔ خواتین میں یہ زیادہ پایا جاتا ہے۔

فتق کی وجوہات Hernia of Causes

فتق کی بنیادی وجہ پٹھوں میں کمزوری ہے، جو کئی اسباب سے ہو سکتی ہے:

  • بھاری وزن اٹھانا: پاکستان میں تعمیراتی مزدور اور کسان اکثر اس مسئلے کا شکار ہوتے ہیں۔
  • مسلسل کھانسی: دائمی کھانسی پیٹ کے پٹھوں پر مسلسل دباؤ ڈالتی ہے۔
  • موٹاپا: اضافی وزن پیٹ کے پٹھوں پر غیر ضروری دباؤ بڑھاتا ہے۔
  • حمل: بار بار حمل سے پیٹ کے پٹھے کمزور پڑ سکتے ہیں۔
  • قبض: پیشاب یا فضلے کے دوران زور لگانا بھی اس کا سبب بنتا ہے۔
  • پیدائشی کمزوری: کچھ افراد میں پیٹ کی دیوار پیدائشی طور پر کمزور ہوتی ہے۔

فتق کی علامات Hernia of Symptoms

فتق کی علامات اس کی قسم اور مقام کے لحاظ سے مختلف ہو سکتی ہیں:

  • پیٹ، ناف، یا ران کے قریب ابھار یا گلٹی کا محسوس ہونا
  • کھڑے ہونے، کھانسنے یا جھکنے پر ابھار نمایاں ہونا
  • متاثرہ جگہ پر درد یا بھاری پن محسوس ہونا
  • سینے کے فتق میں سینے میں جلن اور کھانا نگلنے میں دشواری
  • بعض اوقات متلی یا قے کا ہونا

اہم بات: کچھ فتق بالکل بے درد ہوتے ہیں اور الٹراساؤنڈ پر ہی سامنے آتے ہیں۔ پاکستان میں بہت سے مریض درد نہ ہونے کی وجہ سے علاج میں تاخیر کرتے ہیں، جو خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

فتق کی تشخیص کیسے ہوتی ہے؟ Hernia of Diagnosis

ڈاکٹر سب سے پہلے جسمانی معائنہ کرتے ہیں اور متاثرہ جگہ کو ہاتھ لگا کر جانچتے ہیں۔ اکثر معاملات میں الٹراساؤنڈ سے فتق کی تصدیق ہو جاتی ہے۔

پیچیدہ صورتوں میں ایم آر آئی یا سی ٹی اسکین بھی تجویز کیا جا سکتا ہے۔ سینے کے فتق کی تشخیص کے لیے اینڈوسکوپی کی بھی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

فتق کا علاج Hernia of Treatment

آپریشن سے پہلے کی احتیاطیں

فتق کا مکمل علاج صرف آپریشن سے ممکن ہے۔ ابتدائی یا چھوٹے فتق میں ڈاکٹر کچھ عرصے کے لیے نگرانی کا مشورہ دے سکتے ہیں۔

وزن پر قابو رکھنا، بھاری وزن اٹھانے سے گریز، اور قبض کا علاج علامات کو کم کر سکتا ہے۔ مگر یہ اقدامات فتق کو ٹھیک نہیں کرتے۔

آپریشن کی اقسام

پاکستان میں فتق کے لیے دو طریقے عام ہیں:

  • کھلا آپریشن (Surgery Open): روایتی طریقہ جس میں چیرا لگا کر ابھرا ہوا حصہ واپس رکھا جاتا ہے۔
  • دوربین کا آپریشن (Surgery Laparoscopic): چھوٹے سوراخوں سے آلات داخل کر کے آپریشن کیا جاتا ہے۔ اس میں ٹھیک ہونے کا وقت کم ہوتا ہے۔

دونوں آپریشنوں میں جال (mesh) لگانا عام ہے تاکہ دوبارہ فتق نہ ہو۔

آپریشن کے بعد کی دیکھ بھال

آپریشن کے بعد چند ہفتوں تک بھاری وزن اٹھانے سے گریز ضروری ہے۔ ڈاکٹر کی ہدایات پر سختی سے عمل کرنا جلد صحت یابی کی ضمانت ہے۔

زیادہ تر مریض چند ہفتوں میں معمول کی زندگی پر واپس آ جاتے ہیں۔ کھلے آپریشن میں صحت یابی میں قدرے زیادہ وقت لگتا ہے۔

فتق سے بچاؤ

فتق کی روک تھام مکمل طور پر ممکن نہیں، مگر خطرہ ضرور کم کیا جا سکتا ہے:

  • صحت مند وزن برقرار رکھنا پیٹ کے پٹھوں کو مضبوط رکھتا ہے
  • بھاری چیز اٹھاتے وقت گھٹنوں کو موڑنا اور پیٹ پر دباؤ سے بچنا ضروری ہے
  • قبض کا بروقت علاج کرانا فتق کے خطرے کو کم کرتا ہے
  • تمباکو نوشی ترک کرنا دائمی کھانسی سے بچاتا ہے
  • پٹھوں کو مضبوط کرنے والی ورزشیں پیٹ کی دیوار کو مضبوط رکھتی ہیں

ڈاکٹر سے کب رجوع کریں

فوری طور پر ڈاکٹر سے ملنا ضروری ہے اگر ابھار سخت ہو جائے، اچانک شدید درد شروع ہو، یا قے آنے لگے۔ یہ اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ فتق پھنس گیا ہے، جو ایک طبی ہنگامی صورتحال ہے۔

عام علامات میں بھی تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ تجربہ کار ماہرِ جراحی کراچی اور پاکستان کے دیگر بڑے شہروں میں مشاورت کے لیے دستیاب ہیں۔ لاہور، اسلام آباد، اور راولپنڈی میں بھی اہل ڈاکٹروں سے آن لائن اپائنٹمنٹ لی جا سکتی ہے۔

خلاصہ

فتق ایک عام مگر قابلِ علاج بیماری ہے۔ پٹھوں کی کمزوری سے اندرونی عضو باہر نکل آتا ہے اور ابھار بنتا ہے۔ نالی، ناف، اور سینے کا فتق پاکستان میں سب سے زیادہ دیکھا جاتا ہے۔

علاج صرف آپریشن سے ممکن ہے، جو آج کل کافی محفوظ اور مؤثر ہے۔ ابھار نظر آتے ہی ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔ تاخیر خطرناک پیچیدگیوں کا سبب بن سکتی ہے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات FAQs

فتق کیا ہوتا ہے؟

فتق اس وقت ہوتا ہے جب جسم کے کسی حصے میں پٹھوں میں کمزوری آئے اور اندرونی عضو یا چربی اس کمزور جگہ سے باہر نکل آئے۔ پیٹ اور ناف کے قریب یہ کیفیت سب سے عام ہے۔

کیا فتق خود ٹھیک ہو سکتا ہے؟

فتق خود بخود ٹھیک نہیں ہوتا۔ وقت کے ساتھ یہ بڑا ہو سکتا ہے اور پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔ مکمل علاج کے لیے آپریشن ضروری ہے۔

فتق کی سب سے خطرناک علامت کیا ہے؟

اگر ابھار اچانک سخت ہو جائے اور شدید درد کے ساتھ قے آنے لگے تو یہ فوری طبی ہنگامی صورتحال ہے۔ اسے پھنسا ہوا فتق کہتے ہیں اور فوراً ڈاکٹر سے رجوع کرنا لازمی ہے۔

فتق کا آپریشن کتنا محفوظ ہے؟

آج کل فتق کا آپریشن ایک معیاری اور محفوظ عمل ہے۔ دوربین کا آپریشن خاص طور پر کم تکلیف دہ ہوتا ہے اور مریض جلد صحت یاب ہو جاتا ہے۔

پاکستان میں فتق کا آپریشن کہاں ہوتا ہے؟

پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں فتق کا آپریشن ہوتا ہے۔ تجربہ کار سرجن سے پہلے مشاورت ضروری ہے تاکہ آپریشن کی صحیح قسم طے کی جا سکے۔

کیا فتق دوبارہ ہو سکتا ہے؟

جال (mesh) لگانے سے دوبارہ فتق کا خطرہ بہت کم ہو جاتا ہے۔ آپریشن کے بعد وزن قابو میں رکھنا اور بھاری وزن سے گریز ضروری ہے۔

Disclaimer: The contents of this article are intended to raise awareness about common health issues and should not be viewed as sound medical advice for your specific condition. You should always consult with a licensed medical practitioner prior to following any suggestions outlined in this article or adopting any treatment protocol based on the contents of this article.

Amina Afzal
Amina Afzal - Author Amina Afzal is a medical content writer at oladoc with experience in creating original, well-researched, and evidence-based health content.

Book Appointment with the best "General Physicians"