We have detected Lahore as your city

ریبیز – ایک جان لیوا بیماری جس سے بچاؤ ممکن ہے

Prof. Dr. Zarfishan Tahir

5 min read

Find & Book the best "Neurologists" near you

ریبیز کیا ہے؟

ریبیز ایک جان لیوا وائرل بیماری ہے جو اس بیماری سے متاثرہ جانور کے کاٹنے سے پھیلتی ہے۔ ایک بار جب کسی شخص کو ریبیز ہو جائے تو اس کا علاج نہیں ہو سکتا۔ تاہم ریبیز کی ویکسین کے بروقت استعمال سے ریبیز سے بچا جا سکتا ہے۔

پاکستان میں کتے، بلے، لومڑی جیسے جانوروں کے کاٹنے سے ہر سال پانچ ہزار افراد ریبیز کے مرض میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

ریبیز ہر کتے کے کاٹنے سے نہیں پھیلتی

  • ایسے مریض جنہیں کتوں کے کاٹنے سے صرف معمولی سی خراشیں آتی ہیں، ان کو ابتدائی طبی امداد کی ضرورت ہوتی ہے جو اگر انہیں بر وقت فراہم کی جائیں تو زیادہ خطرنے کی بات نہیں ہوتی۔
  • ایسے مریض جن کا زخم گہرا نہیں ہوتا، ان کا خون بھی نہیں کلا ہوا ہوتا، ایسے مریضوں کو بھی ابتدائی امداد ہی دی جاتی ہیں اور یہ ابتدائی امدا اس لیے دی جاتی ہیں کیوں کہ ایسے لوگوں میں ریبیز ہونے کے خدشات کم ہوتے ہیں۔
  • ایسے مریض جن کے زخم کے خون نکل رہا ہو اور انہیں کتے نے بے دردی سے کاٹا ہو، انہیں دیکھ کر یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ ریبیز کا شکار ہیں اور انہیں کس جانور نے کاٹا ہے۔ ایسے مرضوں کے علاج میں سب سے پہلے هموگلوبین کا انجیکشن لگایا جاتا ہے جس سے وائرس کا پھیلنے سے روکا جاتا ہے۔ اس کے بعد ایسے مریضوں کو وقفے سے اینٹی ریبیز کے انجیکشنز دیے جاتے ہیں۔  

ریبیز کی علامات

  • اس بیماری کی ابتدائی علامات میں بخار کا ہونا اور متاثر جگہ پر سنسناہٹ سی محسوس ہونا شامل ہیں
  • پانی کا خوف
  • گلے میں جلن اور عجیب سی گھٹن کا احساس ہونا
  • جسم کے اعضاء کو ہلانے کی نا قابلیت
  • متلی 
  • زہنی انتشار اور ہوش کھونا
  • سر درد ہونا
  • الٹیاں ہونا اور طبعیت ہر وقت خراب رہنا
  • عضلات میں کھچاؤ، لعاب دهن کی زیادتی
  • منہ سے جھاگ نکلنا
  • ہوا سے حساسیت
  • اچانک شور سن کر دورہ پڑ جانا
  • نگلنے میں مشکل پیش آنا
  • نیند کا نہ آنا

ریبیز کی تشخیص کیسے کی جا سکتی ہے؟

خون کا ٹیسٹ کروانے سے ریبیز کی آسانی سے  تشخیص نہیں کی جا سکتی۔ اس بیماری کا سو فیصد یقین کا واحد طریقہ یہ ہے کہ کسی جانور کو متاثر کیا گیا دماغ کے ٹشو کی بایبسی لینا ضروری ہے۔ کیوں کہ ریبیز ویکسین دماغ پر حملہ کرتی ہیں اس لیے اس سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ دماغ میں دکھائی دے گا۔

اس بیماری کی تشخیص کروانے کا واحد ایک یہی طریقہ ہے۔ ایک بار جب ریبیز کی علامات ظاہر ہو جاتی ہیں اس کے بعد اس بیماری کے علاج کا بہترین طریقہ نکالا جاتا ہے۔ اگر آپ کو یہ شبہ ہے کہ آپ کے کتے کو ریبیز ہے تو آپ کے کتے کی موت ہو سکتی ہے۔ 

ریبیز سے بچاؤ

  • ریبیز سے بچنے کے لیے ایک انجیکشن لگانا بے حد ضروری ہے جو ریبیز کی روک تھام میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ریبیز کے انجیکشن مارکیٹ اور ہسپتالوں میں باآسانی دستیاب ہیں جو مفید اور موثر بھی ہیں۔
  • قومی ادارہ صحت کے مطابق ہر سال پانچ ہزار پاکستانی ریبیز کا شکار ہوتے ہیں۔ اسلام آباد میں ریبیز کے بارے میں آگاہی کے لیے قومی ادارہ صحت نے ایک واک کا اہتمام کیا ہے۔ اس واک میں لوگوں کو ریبیز کے متعلق آگاہ کیا گیا ہے کہ اگر کوئی جانور کاٹ لے تو سب سے پہلے زخم کو صابن سے  اچھی طرح سے دھویا جائے اور پھر اس کا بروقت علاج کیا جائے۔
  • پاکستان میں گزشتہ سالوں میں سب سے زیادہ کتا کاٹنے کے کیسیز سامنے آئے ہیں جس میں کتا کاٹنے کے باعث دو لاکھ سے زائد افراد نے ہسپتالوں کا رخ کیا تھا۔
  • معالج کا کہنا ہے کہ یہ وائرس پالتو جانروں سمیت جنگلی جانوروں اور کتوں کے کاٹنے سے انسانوں میں منتقل ہو کر انسان کے سنٹرل نروس سسٹم کو تباہ کر دیتا ہے، ایسی صورتحال میں اگر بروقت علاج نہ کر وایا جائے تو دماغ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے اور جس شخص کو یہ وائرس لاحق ہو اس کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ 

 ریبیز سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر

اس وائرس سے بچاؤ کے لیے درج زیل تدابیر پر عمل کرنا چاہیے۔

  • تمام کتوں کو معیاری ویکسین لگوانی چاہیے، جو لوگ کتوں اور دیگر جانوروں کی دیکھ بھال یا ان کے ساتھ کام کرتے ہیں انہیں بھی اپنی احتیاط کے لیے ویکسین لگوانی چاہیے۔
  • اگر کتا کاٹ لے تو سب سے پہلے کسی بھی ااچھے سے اینٹی وائرل صابن یا نیم کے پتوں کے پانی سے اس زخم کو اچھی طرح سے دھو کر پھر اس کی ویکسین لگوانی چاہیے۔ اس عمل سے زخم میں موجود کتے کے منہ سے منتقل ہونے والے جراثیموں کو صاف کرنے میں کافی مدد ملے گی۔ اس کے لیے کوئی بھی صابن استعمال کیا جا سکتا ہے اگرچہ صابن جراثیم کش ہو تو زیادہ بہتر رہے گا۔
  • ویکسین کو 24 گھنٹے مناسب درجہ حرارت پر رکھا جائے اور اگر کہیں لوڈ شیڈینگ ہوتی ہے تو اسے جنریٹر لگا کر اس کے مناسب درجہ حرارت پر رکھنا نہایت ضروری ہے۔ ویکسین کے معیار پر کبھی سمجھوتہ نہ کیا جائے اور ہمیشہ عالمی ادارہ صحت کی تجویز کردہ ویکسین ہی لگوائی جائے۔
  • اگر کسی شخص کو کتا کاٹ لے تو اسے چاہیے کہ فوری طور پر زخم کا معائنہ کرے آیا کہ صرف جلد پر خراشیشں ہیں یا کتے کے دانتوں نے متاثر شخص کے گوشت کو پھاڑ دیا ہے۔ معمولی خراشیں ہوں تو ان کا علاج گھر میں ہی کیا جا سکتا ہے لیکن اگر کتا دانت گارنے میں کامیاب ہو جائے تو پھر ان حالات میں ڈاکٹرز سے علاج کروانا لازمی ہے۔

!اینٹی ریبیز ویکسین بے حد ضروری ہے

  • کتے کے کاٹنے کی صورت میں متاثرہ شخص کو اینٹی ریبیز ویکسین دینا بہت ضروری ہے، یہ صرف اس میں ہی نہیں دی جاتی جب متاثر شخص کو حتمی طور پر معلوم ہو کہ جس کتے نے اسے کاٹا ہے اس کی ویکسین ہو چکی ہے اور بالخصوص اسے اینٹی ریبیز لگوائی گئی ہوں۔ پاکستان میں جہاں آوارہ کتوں کی بہتات ہے وہاں مریض کو اینٹی ریبیز ویکسین دینا بے حد ضروری ہے۔
  • ویکسین کا پہلا شاٹ جانور کے کاٹنے کے بعد جس قدر جلد ممکن ہو مریض کو لگ جانا چاہیے، جتنی زیادہ تاخیر کی جائے گی اتنا زیادہ مریض کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ ویکسین کی مقدار اور شارٹس کی تعداد کا تعین ڈاکٹر مریض کی جنس، عمر اور اس کے جسمانی خدوخال جیسا کہ قد اور وزن کو دیکھتے ہوئے طے کرتا ہے، اس لیے ہو سکے تو ویکسین کسی مستند ادارے سے ہی لگوانی چاہیے۔ 
  • ریبیز کی ویکسین مرض کی علامت ظاہر ہونے سے پہلے لگوانا ہوتی ہیں، یہ وائرس دماغ ہر اثرانداز ہوتا ہے۔ ایک بار جب اس کے اثر سامنے آنا شروع ہو جائیں تو پھر مریض کی جان بچانا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے، دنیا میں بہت کم ایسے لوگ ہیں جنہوں نے علامات ظاہر ہونے کے بعد فوری ویکسین لی اور وہ جلد ہی صحت یاب ہو گئے۔
  • اگر مریض کو گزشتہ پانچ سالوں میں ٹیٹنین کا انجیکشن نہ لگا ہو اور زخم کی نوعیت ایسی ہے کہ اس میں انفیکشن کا امکان ہو سکتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ اینٹی ریبیز ویکسین کے ساتھ مریض کو ٹیٹنس کا انجیکشن بھی دیا جائے۔ 
  • اس معاملے میں سب سے زیادہ  ضرورت آگاہی کی ہوتی ہے، اکثر لوگ غربت یا اپنی زمہ داریوں میں مشغول ہو کر متاثر شخص کو ویکسین لگوانے میں تاخیر کر دیتے ہیں۔ ایک ایسا شخص جس کی جان بچائی جا سکتی ہے وہ محض اس لیے موت کے منہ میں چلا جاتا ہے کہ اس کے لواحقین نے بروقت اس معماملے پر  سنجیدہ مظاہرہ نہیں کیا ہوتا۔
  • سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹرز کو بھی چاہیے کہ جب کوئی اس وائرس سے متعلق مریض آئے تو اس کہ فوری امداد کریں چاہے اس کا زخم چھوٹا ہی کیوں نہ ہو۔ کٹے کے کاٹنے کے بعد جو مروجہ پروسس ہے اسے پورا کرنا چاہیے، اور مریض کے لواحقین کو مکمل آگاہی فراہم کریں کہ یہ معاملہ کس قدر سنجیدہ ہے اور انہیں اس سلسلے میں کیا کردار ادا کرنا چاہیے۔
  • اینٹی ریبیز کی بروقت ویکسین ایک قیمتی انسانی جان بچا سکتی ہے۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ معاشرے کا ہر فرد خواہ اس کے گھر والے ہوں یا معاشرے میں کوئی بھی ہر کسی کو اپنی زمہ داری نبھانی چاہیے تا کہ کوئی بھی انسانی قیمتی جان بے جا ضائع نہ ہو۔
  • اپنے پالتو جانور کو اس وائر بیماری سے بچانے کے لیے سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ آپ اسے ویکسین لگوائیں۔ آپ کے کتوں کو ویکسین لگنا بے حد ضروری ہے، یہ نہ صرف آپ کے کتوں کو بیماری پکڑنے میں بچانے سے مدد کرے گا بلکہ اسے دیگر بیماریوں سے بھی حفاظت ملے گی۔

ریبیز کے لیے ویکسین لگوانے کے لیے، اپنے قریبی ہسپتال جائیں یا اولا ڈاک کے ذریعے متعدی امراض کے ماہر سے ملیں۔

Disclaimer: The contents of this article are intended to raise awareness about common health issues and should not be viewed as sound medical advice for your specific condition. You should always consult with a licensed medical practitioner prior to following any suggestions outlined in this article or adopting any treatment protocol based on the contents of this article.

Prof. Dr. Zarfishan Tahir - Author Prof. Dr. Zarfishan Tahir is well versed Infectious Disease Specialist and Microbiologist having vast experience in treating Dengue patients, COVID patients, TB, Hepatitis, AIDS, Syphilis, respiratory tract infections, urinary tract infections, abdominal infections, wound infections, skin soft tissue and bone infections, typhoid fever, malaria, fever of unknown origin, parasitic infections, fungal infections, meningitis and encephalitis. She is also an expert in overseeing animal bite cases for rabies prevention.
Book Appointment with the best "Neurologists"