We have detected Lahore as your city

سفید موتیا کیا ہے اور اس کا علاج کیسے کیا جاتا ہے؟

7 min read

Find & Book the best "Eye Specialists" near you

انسانی جسم کے اعضاء میں سے آنکھ کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ آنکھوں کی قدر اسے معلوم ہوتی ہے جو اس سے معذور ہو جائے۔ آنکھیں اللہ تعالی کی بہترین نعمت ہیں۔ ان کی ٹھیک سے دیکھ بھال کرنا ہمارا فرض ہے۔ سفید ماتیا ہو یا کالا موتیا دونوں ہی بینائی کو متاثر کرتی ہیں اور ان کا بر وقت علاج بہت ضروری ہے۔آنکھ کا قدرتی عدسہ جو کہ تصویر کو پردہ بصارت پر مرتکز کرتا ہے۔

Cataract Meaning in Urdu

The meaning of cataract in Urdu is “Safed Motia”. It is written as سفید موتیا in Urdu. Cataract is a common eye condition in which the normally clear lens of the eye becomes cloudy. Cataracts can affect one or both eyes and may lead to loss of vision and blindness if left untreated.

سفید موتیا کیا ہے؟

سفید موتیا ہو یا کالا موتیا دونوں ہی بینائی کو متاثر کرتی ہیں اور ان کا بر وقت علاج بہت ضروری ہے۔ آنکھ کا قدرتی عدسہ جو کہ تصویر کو پردہ بصارت پر مرتکز کرتا ہے۔ یہ تصویری نظام کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس میں عمر گزرنے کے ساتھ پیدا ہونے والی دھنلاہٹ کو موتیا کہا جاتا ہے۔  

امراض چشم میں موتیا بند پاکستان میں اندھے پن کی ایک بڑی وجہ ہے۔ آنکھ کے اندر ایک قدرتی لینز ہوتا ہے جو عمر کے ساتھ اپنا رنگ بدل رہا ہوتا ہے۔ ماهرین طب کے مطابق اس بیماری کے پھیلنے کی رفتار تو سست ہوتی ہے مگر وقت کے ساتھ ساتھ نظر کا یہ دھندلا پن تکلیف دہ ثابت ہونے لگتا ہے۔

اس صورت میں ماہرین معالج مریض کو سرجری کروانے کا مشورہ دیتا ہے۔ ماہرین امراض چشم کا کہنا ہے کہ یہ سرجری مکمل طور پر محفوظ اور موثر ثابت ہوتی ہے۔ اس سرجری سے ایسے مریضوں کی اکثریت بینائی سے محروم ہونے سے بچ جاتی ہے۔ یہ بیماری مرد اور عورت دونوں کو ہوتی ہے۔اگر سفید موتیے کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ بڑھ کر پوری انکھ پر پردہ کر لیتا ہے۔ ڈاکٹر اس کا حل صرف آپریشن بتاتے ہیں۔

سفید موتیا کی وجوہات – Cataract Causes

آنکھوں میں موتیا کی وجوہات یہ ہوسکتی ہیں۔

  • تمباکو نوشی کی کثرت
  • الکوحل کا زیادہ استعمال
  • پیدایشی نقصٓ
  • فضائی آلودگی 
  • بڑھاپا 

موتیا کی علامات – Symptoms of Cataract

  • اکثریت سہی آنکھ سے دوہرا نظر آنا۔ روشنی کے آس پاس چمک کا نظر آنا۔
  • روشنی اور کسی چمکتی ہوئی چیز کو درست طریقے سے دیکھنے میں مشکل پیش آنا۔
  • آنکھوں میں پانی کا بہنا،پتلی کی رنگت کا تبدیل ہو جانا، پتلی کا سست بے حرکت ہوجانا۔
  • مطالعہ کرتے ہوئے زیادہ روشنی کی ضرورت کو محسوس کرنا۔ دهند لا پن اور کم دکھائی دینا۔
  • رات کو دیکھنے میں دشواری کا سامنا۔ آنکھوں کی حساسیت میں اضافہ۔
  • روشنی کا پھیلنا یا برقی قمقوں کے گرہالہ اور دائرے دکھائی دینا۔
  • تیز دھوپ کی روشنی میں نظر آنا مشکل ہو جاتا ہے۔
  • موتیا 60 سے زیادہ عمر کے لوگوں میں ہو سکتا ہے۔
  • آنکھ کے ڈھیلے کا پتھر کی طرح سخت ہوجانا۔
  • چیزوں کے ساتھ سایہ نظر آنا اہم علامت ہے۔
  • ایک چیز کے دو عکس کا نظر آنا۔
  • انڈور لائٹس کا بہت زیادہ روشن نظر آنا۔
  • آنکھوں میں درد کا ہونا، جلن پیدا ہونا۔

موتیا کا علاج – Cataract Treatment 

موتیا کو دور کرنے کا آزمودہ نسخہ 

100 گرام خشک جامن گٹلی، حسب ضرورت شہد۔ جامن کی گٹلی کا سفوف بنا لیں پھر کسی شیشی میں دو چمچ جامن کے سفوف میں خالص شہد ڈال کر اسے استعمال کریں اس کے استعمال سے آنکھوں میں اترا موتیا ٹھیک ہو جائے گا۔

 سفید پیاز اور شہد

سفید پیاز کا رس نکال کر اس میں اس کے وزن کے مطابق شہد مکس کر لیں۔ اب اس کو آنکھوں میں صبح شام لگائیں اس سے آنکھوں میں اترا موتیا ٹھیک ہو جائے گا۔

عرق گلاب اور شہد

عرق گلاب حسب ضرورت لیں اور شہد بھی حسب ضرورت لیں پھر عرق گلاب سے آنکھوں کو اچھی طرح سے دھو کر ان پر شہد کی ایک سلائی لگائیں۔ اس کے استعمال سے کچھ ہی دنوں میں سفید موتیا ختم ہو جائے گا۔

سیاہ سرمہ اور الائچی

سیاہ سرمہ دو تولہ، دو تولہ سبز الائچی، ایک تولہ تمباکو دیسہ کڑوا ایک تولہ۔ ان تمام اشیاء کو پیس کر ان کا سرمہ بنا لیں اور اسے محفوظ کر لیں۔ اس سرمہ کی روزانہ ایک سلائی آنکھوں میں لگانے سے آنکھوں کا موتیا چند ہی دنوں میں ٹھیک ہو جائے گا۔

موتیا کا سرجری کے ذریعے علاج – Cataract Surgery

سفید موتیا کا واضح اور موثر علاج اپریشن ہے۔ اپریشن کے ذریعے سے دھندلا لنز نکال کر مصنوعی شفاش لنز رکھ دیا جاتا ہے۔ جس سے نظر پہلے کی طرح بحال ہو جاتی ہے۔ بشطریہ پردہ بصارت اور آنکھ کے دوسرے حصے ٹھیک ہوں۔ اس مصنوعی لنز کو امپلانٹ کہا جاتا ہے۔ سفید موتیے کے اپریشن کے دوران یا اپریشن کے بعد پچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں جن کا علاج ممکن ہے۔

سفید موتیا کے اپریشن کروانے کے کیا فوائد ہیں؟

  • آپ کے آنکھوں کے سرجن نے سفید موتیا کے اپریشن کا مشورہ اس لیے دیا کیونکہ آپ کی آنکھ کا عدسہ دھندلا ہو گیا ہے۔ جس کی وجہ سے آپ کے لیے اپنی معمول کی سرگرمیوں کی انجام دہی کے دوران ٹھیک طرح سے دیکھنا مشکل ہو گیا ہے۔ اپریشن کے دوران سرجن دھندلا عدسہ نکال دیں گے اور اس کی جگہ ایک مصنوعی عدسہ لگا دیں گے۔
  • این ایچ ایس میں دستیاب مصنوعی عدسے فوکس ایک فاصلے پر مرکوز کرتے ہیں۔ اگر آپ کو ایسٹگماٹزم ہو جس کو سرجری کے دیگر ذرائع کے ذریعے خاطر خواہ طور پر ٹھیک نہیں کیا جاسکتا لیکن اس اپریشن کے بات اس بات کا تھوڑا بہت امکان ہے کہ وہ عدسہ گھومنے لگے۔ اس میں آپ کو شائد ایک دوسرئ سرجری کی ضرورت ہو تا کہ عدسے کی پوذیشن تبدیل کی جاسکے۔ لیکن عام طور پر اس چیز کی ضرورت نہیں پڑتی۔
  • عدسوں کی دیگر اقسام جو مختلف فاصلوں پر توجہ مرکوز کرتی ہیں این ایچ ایس میں دستیاب ہیں۔ یہ عدسے بصارت کے مختلف ضمنی اثرات کے ساتھ منسوب کیے جاتے ہیں اور یہ بہترین بصارت اور مختلف فاصلوں پر دیکھنے کی اہلیت کے دومیان ایک سمجھوتا ہوتے ہیں۔ عام طور پر یہ اس صورت میں دستیاب نہیں ہوتے اگر آپ کو آنکھوں کی دیگر بیماریاں لاحق ہوں۔
  • مریضوں کی واضع اکثریت میں سفید موتیا کی سرجری کے بعد بصارت ٹھیک ہو جاتی ہے۔ سب سے نمایاں فوائد میں بصارت کا مزید واضع ہونا اور رنگوں اور تضاد کے بہتر منظر شامل ہیں۔
  • زیادہ تر لوگ 90 فیصد سے زیادہ سرجری کے وقت پر چنی گئی لینز امپلامنٹ پاور کی ایک طاقت کے اندر ہوں گے جس قدر بہتر انداز میں موجودہ پیمائشوں کے ذریعے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اس سرجری کے بعد پڑھنے کے علاوہ دور کے لیے بھی عینک کی ضرورت پر سکتی ہے۔
  • اگر آپ کو آنکھوں کی کوئی دوسری شکایات جیسا کہ ایمبلیوپیا یعنی کہ آنکھ کا سست ہونا یا ذیابطیس کی وجہ سے آنکھوں کی بیماری کا ہونا، گلوکوما یا عمر سے متعلقہ پٹھوں کی کمزوری لاحق ہوں تو کامیاب سرجری کے بعد بھی بصارت کا معیار محدود ہو سکتا ہے۔

سفید موتیا کے اپریشن میں کیا خطرا ت پیش آتے ہیں؟

یہ ایک محفوظ اپریشن ہے لیکن ہر اپریشن اور بے ہوشی کی ہر دوائی میں تھورا بہت خطرہ ہوتا ہے۔ سفید موتیا کے اپریشن کے دوران ہونے والے خطرات یہ ہیں۔

  • لینز کیپسول کی سپورٹ کا پھٹنا یا ٹوٹ جانا۔ یہ آنکھ کے اند کی جیلی کو متاثر کر سکتا ہے اور ا س کے نتیجے میں صحت یابی کے لیے ایک طویل عرصہ درکار ہو سکتا ہے۔ تقریبا 100 میں سے ایک یا دو لوگوں کے ساتھ یہ واقع پیش آسکتا ہے۔ تاہم زیادہ تر مریض آخر کار قبل اطمینان بصارت پا لیتے ہیں۔
  • آنکھ پردے یعنی رٹینا کی سوجن ہوسکتی ہے۔ آنکھ کے پردے کی خون کی نالیوں سے مایع کے بہ نکلنے کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے۔ عام طور پر یہ علاج سے ٹھیک ہو جاتا ہے۔ 100 میں سے ایک یا دو لوگوں کے ساتھ یہ پیش آتا ہے۔
  • پورا سفید موتیا یا اس کے کچھ حصے کا آنکھ کے عقبی حصے میں گم ہو جانا۔ اس کے لیے ایک اور اپریشن درکار ہوتا ہے تا کہ اسے نکالا جائے۔ 200 میں سے ایک شخص کو مزید سرجری درکار ہوتی ہے۔
  • آنکھ میں سوزش جس کے نتیجے میں نظر ختم ہو سکتی ہے یا خود انکھ بھی ضائع ہو سکتی ہے۔ 3000 لوگوں میں سے کسی ایک کو یہ مسلہ پیش آسکتا ہے۔
  • آنکھ کے اندر عارضی طور پر دبائو کا بڑھ جانا۔ 100 میں سے 8 افراد کے ساتھ یہ حادثہ پیش آسکتا ہے۔
  • کبھی کبھی آنکھ کی پتلی کو نمایاں نقصان پہنچنا۔ ایسا تب ہوتا ہے جب اپریشن میں پیچیدگی یا آپ گولیوں کی شکل میں کوئی دوائیاں لے رہے ہوں ۔ 
  • لینز کے کیپسول کا عقبی حصہ جو کہ امپلانٹ کے سہارے کے لیے آنکھ میں چھوڑ دیا جاتا ہے وہ بے چوڑا اور دھندلا ہو سکتا ہے۔ اسکا طبی نام posterior capsular opacification ہے۔
  • سنگین پچیدگیاں شاذونادر ہی ہوتی ہیں اور زیادہ تر پچیدگیوں کا موثر انداز میں علاج کیا جاتا ہے۔
  • کبھی کبھیا کچھ پچیدگیوں میں اندھا پن بھی ہو سکتا ہے۔ 1000 میں سے ایک شخص کو یہ پیش آتا ہے۔
  • دیگر نادر پچیدگیاں جیسے آپٹک نیوروپیتھی اور آنکھ کے پردے کی خون کی نالیوں کا بند ہو جانا، یہ سب خدشات سرجرے کے بعد واقع ہو سکتے ہیں اور اس کے نتیجے میں نظر کمزور ہو سکتی ہے۔
  • نظر کے خراب ہونے کے نتیجے میں سفید موتیا کی سرجری کے بعد آنکھوں کے چارٹ پر تین لائنز کم پڑھنے کا امکان زیادہ ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت کا امکان 100 میں سے ایک مریض میں پائے جاتے ہیں۔
  • لینز امپلانٹ کا نتیجہ خراب فوکس کرنے کا انعطاف کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ اس مسلے کو عام طور پر عینک کی مدد سے ٹھیک کیا جاسکتا ہے۔ کبھی کبھار اس میں عدسوں کی تبدیلی یا ایک اضافی عدسے کی امپلانٹیشن درکار ہو سکتی ہے۔
  • علیحدہ ہوا آنکھ کا پردہ یعنی رٹیناجو نظر ضائع ہونے کا سبب بن سکتا ہے۔ 3000 میں سے ایک شخص کے ساتھ یہ مسلہ پیش آتا ہے۔
  • ڈھیلے یعنی کورنیا کی جھکی کا دھندلا جانا، ایک ٹھیک آنکھ میں اس چیز کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ مخصوص حالات میں خطرہ زیادہ ہوتا ہے اور اس سلسلے میں آپکا سرجن آپ سے خود بات کرے گا۔
  • سرجری کے خطرات اس وقت تک تبدیل نہیں ہوتے جب تک سفید موتیا بہت زیادہ بڑھ نہ جائے۔

اپریشن کے بعد احتیاطی تدابیر

  • اپریشن کے بعد تجویز کردہ ادویات کا باقائدگی سے استعمال کریں۔
  • اپنے معالج کی ہدایت کے مطابق دیے گئے وقت پر معاینہ ضرور کروائیں۔
  • آنکھ کے اندر، پانی، شیمپو یا صابن مت جانے دیں۔
  • آنکھ کو کسی بھی قسم کے کپڑے سے مت ڈھانپیں۔
  • اپنی آنکھوں کو دھووئیں سے بچائیں۔
  • جب باہر نکلیں تو ٹوپی اور سن گلاسز کا استعمال کریں۔
  • سورج کی روشنی سیدھی آنکھوں پر نہ پڑنے دیں۔
  • باقاعدگی سے آنکھوں کے ڈاکٹر سے چیک اپ کروائیں۔

آنکھ کے موتیے کا علاج بغیر اپریشن کے بھی ممکن ہے۔ کیسے؟

آنکھوں کی بیماری موتیا بند سے ہر سال سینکڑوں افراد بینائی کی کمزوری اور اندھے پن کا شکار ہوتے ہیں۔ ایک رپوٹ کے مطابق موتیا بند کا علاج اب تک اپریشن ہی تھا جس کی مدد سے آنکھ کا متاثر لینز ہٹا کر اس کی جگہ مصنوعی پلاسٹک کا بنا ہوا لینز لگایا جاتا تھا۔ لیکن اب سائنسدان آنکھوں کی بیماری موتیا بند کا سرجری کے بغیر علاج دریافت کر چکے ہیں۔

موتیا بند کے علاج کے لیے آنکھوں میں استعمال کیے جانے والے قطرے دریافت کیے گئے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق آنکھ میں قطروں کا استعمال اپریشن کے مقابلے میں قدرے سستا طریقہ علاج ہے۔ اس معجزاتی تھیراپی میں ایک ایسا کیمیکل استعمال کیا گیا ہے جو بینائی کو دھندلا کرنے والے پروٹین کے زرات کو اکٹھا ہونے سے روکتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ 65 سال کی عمر کے تقریبا 5۔2 ملین افراد کا علاج بھی اب بغیر کسی اپریشن کے آئی ڈراپس کے استعمال سے ممکن ہو سکے گا۔

ایک برطانوی طبی ماہرین کے مطابق مذکورہ طریقہ علاج سے سینکڑوں اندھے پن کا شکار افراد کی بینائی واپس آچکی ہے۔ اس طریقہ علاج کے دریافت ہونے سے دنیا بھر میں موجود لاکھوں آنکھوں کی بینائی سے محروم ہوتے افراد کو امید کی ایک نئی کرن نصیب ہوئی ہے۔

Disclaimer: The contents of this article are intended to raise awareness about common health issues and should not be viewed as sound medical advice for your specific condition. You should always consult with a licensed medical practitioner prior to following any suggestions outlined in this article or adopting any treatment protocol based on the contents of this article.
Book Appointment with the best "Eye Specialists"