We have detected Lahore as your city

Jaundice Meaning in Urdu: Yarqan Kya Hai, Alamaat, Asbaab aur Ilaj

4 min read

Find & Book the best "General Physicians" near you

پاکستان میں جگر کی بیماریاں بڑی تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ ان میں یرقان ایک ایسی حالت ہے جو بچوں اور بڑوں دونوں کو متاثر کر سکتی ہے۔

آنکھوں اور جلد کا پیلا ہو جانا اس کی سب سے واضح علامت ہے۔ یہ خود کوئی بیماری نہیں بلکہ کسی اندرونی مسئلے کی نشانی ہے۔

یرقان کیا ہے؟

یرقان اس وقت ہوتا ہے جب خون میں بیلی روبن کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ بیلی روبن ایک زرد رنگ کا مادہ ہے جو خون کے پرانے خلیوں کے ٹوٹنے سے بنتا ہے۔

عام حالات میں جگر اسے صاف کر کے جسم سے باہر نکال دیتا ہے۔ جب جگر یہ کام صحیح طریقے سے نہ کر سکے تو بیلی روبن جسم میں جمع ہونے لگتا ہے، جلد اور آنکھیں پیلی پڑ جاتی ہیں، اور یہ حالت یرقان کہلاتی ہے۔ پاکستان میں یرقان خاص طور پر ہیپاٹائٹس اے اور ای کی وجہ سے عام ہے، جو آلودہ پانی اور خوراک سے پھیلتی ہے۔

یرقان کی اقسام

یرقان کی تین بنیادی اقسام ہیں جو اس کی وجہ کے مطابق الگ ہوتی ہیں۔

  • جگر سے پہلے کا یرقان: خون کے سرخ خلیوں کے زیادہ ٹوٹنے سے ہوتا ہے، جیسے ملیریا یا خون کی کمی میں۔
  • جگر کا یرقان: جگر خود متاثر ہو جائے، جیسے ہیپاٹائٹس یا جگر کی سوجن میں۔
  • جگر کے بعد کا یرقان: صفرے کی نالی بند ہو جانے سے ہوتا ہے، جیسے پتھری یا ٹیومر کی صورت میں۔

یرقان کی وجوہات (Causes of Jaundice)

جگر سے متعلق وجوہات

پاکستان میں یرقان کی سب سے بڑی وجہ ہیپاٹائٹس اے اور ای ہے۔ یہ وائرس آلودہ پانی، کھلے کھانے، اور غیر صحت مند ماحول سے پھیلتا ہے۔

ہیپاٹائٹس بی اور سی بھی جگر کو نقصان پہنچاتے ہیں اور یرقان کا سبب بن سکتے ہیں۔ پاکستان میں ہیپاٹائٹس بی اور سی کے مریضوں کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔

دیگر اہم وجوہات

  • شراب یا زہریلے مادوں کی وجہ سے جگر کو نقصان
  • بعض ادویات کا زیادہ استعمال، خاص طور پر درد کش دوائیں
  • پتھری یا صفرے کی نالی میں رکاوٹ
  • خون کی بیماریاں جیسے تھیلیسیمیا
  • نوزائیدہ بچوں میں پیدائشی یرقان، جو عام طور پر چند دنوں میں ٹھیک ہو جاتا ہے

یرقان کی علامات (Symptoms of Jaundice)

یرقان کی علامات ہلکی بھی ہو سکتی ہیں اور سنگین بھی۔ ان کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔

  • آنکھوں کی سفیدی اور جلد کا پیلا پڑ جانا
  • پیشاب کا رنگ گہرا زرد یا بھورا ہو جانا
  • پاخانے کا رنگ مٹیالا یا سفید ہو جانا
  • شدید تھکاوٹ اور کمزوری
  • متلی اور قے
  • بھوک کا بالکل نہ لگنا
  • پیٹ کے اوپری دائیں حصے میں درد یا بھاری پن
  • خارش، خاص طور پر جب صفرے کی نالی میں رکاوٹ ہو
  • بخار، جب یرقان کسی انفیکشن کی وجہ سے ہو

یرقان کی تشخیص کیسے ہوتی ہے؟

خون کے ٹیسٹ

ڈاکٹر سب سے پہلے خون کا ٹیسٹ کرواتا ہے جس میں بیلی روبن کی سطح دیکھی جاتی ہے۔ جگر کے افعال جانچنے کے لیے ایل ایف ٹی ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔

ہیپاٹائٹس کی تصدیق کے لیے ہیپاٹائٹس اے، بی، سی، اور ای کے الگ ٹیسٹ ہوتے ہیں۔ پاکستان میں یہ سب ٹیسٹ لیبارٹریوں میں آسانی سے دستیاب ہیں۔

الٹراساؤنڈ اور دیگر ٹیسٹ

الٹراساؤنڈ سے جگر، پتھری، اور صفرے کی نالی کی حالت دیکھی جاتی ہے۔ بعض صورتوں میں ڈاکٹر بائیوپسی یا ایم آر آئی بھی تجویز کر سکتا ہے۔

یرقان کا علاج (Jaundice Treatment)

یرقان کا علاج اس کی وجہ پر منحصر ہے۔ ہر قسم کا علاج الگ ہوتا ہے۔

ہیپاٹائٹس سے یرقان

ہیپاٹائٹس اے اور ای کا کوئی خاص علاج نہیں۔ آرام، مناسب پانی، اور صحت مند غذا سے جسم خود ٹھیک ہو جاتا ہے۔ ہیپاٹائٹس بی اور سی کے لیے ڈاکٹر دوائیں تجویز کرتا ہے۔

پتھری سے یرقان

اگر صفرے کی پتھری رکاوٹ کا سبب ہے تو آپریشن یا اینڈوسکوپی سے اسے نکالا جاتا ہے۔ یہ علاج فوری راحت دیتا ہے۔

خوراک اور پرہیز

یرقان میں خوراک کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے:

  • تیل، گھی، اور مرچ مصالحے سے مکمل پرہیز
  • سادہ ابلا ہوا کھانا جیسے دلیہ، ابلے چاول، اور دہی
  • زیادہ پانی، تازہ پھل، اور سبزیاں
  • بازاری کھانے اور کٹے ہوئے پھل سے مکمل گریز
  • چکنائی والی غذائیں بالکل بند

دیسی علاج کے بارے میں

پاکستان میں یرقان کے لیے گنے کا رس، مکئی کے بھٹے کے بال، اور جوشاندے عام طور پر گھر میں آزمائے جاتے ہیں۔ یہ نقصاندہ نہیں لیکن کافی بھی نہیں۔ ڈاکٹر سے تصدیق کے بغیر صرف دیسی علاج پر بھروسہ درست نہیں۔

یرقان سے بچاؤ

یرقان سے بچنا مشکل نہیں اگر چند احتیاطی تدابیر اپنائی جائیں۔

  • صاف اور فلٹر شدہ پانی پینا
  • بازار کے کھلے کھانے سے پرہیز، خاص طور پر گرمیوں میں
  • ہیپاٹائٹس اے اور بی کی ویکسین لگوانا، جو پاکستان میں دستیاب ہے
  • خون منتقلی سے پہلے جانچ یقینی بنانا
  • استعمال شدہ سوئی یا سرنج سے بچنا
  • ہاتھ دھونے کی عادت، خاص طور پر کھانے سے پہلے

پاکستان میں گرمیوں کے موسم میں یرقان کے کیس زیادہ ہوتے ہیں کیونکہ گرمی میں پانی اور کھانے میں وائرس تیزی سے پلتے ہیں۔

ڈاکٹر سے کب رجوع کریں

یرقان کی کچھ علامات ایسی ہیں جن میں فوری ڈاکٹر سے ملنا ضروری ہے:

  • آنکھیں اور جلد تیزی سے پیلی ہو رہی ہوں
  • تیز بخار کے ساتھ یرقان ہو
  • پیٹ میں شدید درد ہو
  • الجھن یا ہوش میں کمی ہو
  • قے میں خون آئے

یرقان کو گھر پر سنبھالنے کی کوشش وقت ضائع کر سکتی ہے۔ تصدیق شدہ ماہرِ امراضِ معدہ و آنت کراچی اور پاکستان کے دیگر بڑے شہروں میں مشاورت کے لیے دستیاب ہیں۔

خلاصہ

یرقان ایک علامت ہے، بیماری نہیں۔ اس کی وجہ جاننا ضروری ہے تاکہ صحیح علاج ہو سکے۔ پاکستان میں ہیپاٹائٹس اور آلودہ پانی اس کی سب سے بڑی وجوہات ہیں۔ ویکسین، صاف پانی، اور وقت پر ڈاکٹر سے مشورہ اس بیماری سے بچا سکتا ہے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

یرقان میں کیا کھانا چاہیے؟

یرقان میں سادہ اور ہلکی غذا کھانی چاہیے جیسے ابلے چاول، دلیہ، تازہ پھل، اور دہی۔ تیل، گھی، اور مسالے دار کھانے سے مکمل پرہیز ضروری ہے۔

یرقان کتنے دنوں میں ٹھیک ہوتا ہے؟

ہیپاٹائٹس اے یا ای سے ہونے والا یرقان عام طور پر دو سے چھ ہفتوں میں ٹھیک ہو جاتا ہے۔ پتھری یا دیگر وجوہات میں علاج اور وقت زیادہ لگ سکتا ہے۔

کیا یرقان چھوت کی بیماری ہے؟

یرقان خود چھوت کی بیماری نہیں ہے، لیکن ہیپاٹائٹس اے اور ای جو یرقان کا سبب بنتے ہیں، آلودہ پانی اور کھانے سے پھیل سکتے ہیں۔

نوزائیدہ بچے میں یرقان خطرناک ہے؟

نوزائیدہ بچوں میں پیدائش کے پہلے چند دنوں میں ہلکا یرقان عام ہے اور خودبخود ٹھیک ہو جاتا ہے۔ اگر یرقان شدید ہو یا دو ہفتوں سے زیادہ رہے تو فوری طور پر ماہرِ اطفال سے ملنا ضروری ہے۔

یرقان میں گنے کا رس پینا چاہیے؟

گنے کا رس نقصاندہ نہیں، لیکن صرف اسی پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ یرقان کی وجہ جانے بغیر کوئی بھی علاج ناکافی ہو سکتا ہے۔

یرقان اور ہیپاٹائٹس میں کیا فرق ہے؟

ہیپاٹائٹس جگر کی سوجن کی بیماری ہے، اور یرقان اس کی ایک علامت ہو سکتی ہے۔ یرقان دوسری وجوہات سے بھی ہو سکتا ہے جیسے پتھری یا خون کی بیماریاں۔

Disclaimer: The contents of this article are intended to raise awareness about common health issues and should not be viewed as sound medical advice for your specific condition. You should always consult with a licensed medical practitioner prior to following any suggestions outlined in this article or adopting any treatment protocol based on the contents of this article.

Amina Afzal
Amina Afzal - Author Amina Afzal is a medical content writer at oladoc with experience in creating original, well-researched, and evidence-based health content.

Book Appointment with the best "General Physicians"