We have detected Lahore as your city

بچے کی پیدائش کے بعد وزن کم کرنے کے آسان طریقے

Ms. Sarah Farooqi

6 min read

Find & Book the best "Gynecologists" near you

اگر آپ ایک ماں ہیں یا ماں بننے والی ہیں تو یہ خیال تو اندازہ تو آپ کے دماغ میں ضرور ہوگا کہ بچے کی پیدائش کے بعد صحت مند حد میں رہ کر وزن کم کرنا ایک بہت مشکل کام ہو سکتا ہے۔ اپنی بچے کی دیکھ بھال کرنا، خود کو نئی روٹین کا عادی بنانا، اور بچے کی پیدائش کے عمل سے خود کو ذہنی طور پر نکالنن یقینا ایک بہت مشکل کام ہے اور اس میں کافی دیر لگ جاتا ہی اور ساتھ ساتھ آپ کو کافی پریشانیوں کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ 

لیکن بچے کی پیدائش کے بعد اپنا وزن کم کر کے ایک صحت مند وزن قائم کرنا آپ کے لئیے انتہائی ضرورہ ہے۔ خاص طور پر اگر آپ مستقبل میں  دوبارہ بچہ پیدا کرنا چاہتے ہیں تو۔ ویسے تو آپ کو اپنے بچے کی پیدائش کے بعد تقریبا 6 سے 12 مہینے کے اندر اندر اپنے حاملہ ہونے سے پہلے جو آپ کا وزن تھا اس وزن تک پہنچ جانا چاہئیے۔

کافی زیادہ خواتین ویسے ہی بچے کی پیدائش کے بعد 6 مہینے کے اندر ہی تقریبن اپنا آدھا وزن کم کر لیتی ہیں۔ باقی کا وزن پھر وقت کے ساتھ ساتھ زیادہ تر آنے والے چند مہینوں میں کم ہو جاتا ہے۔

ببچے کی پیدائش کے بعد آپ کے جسم میں کیا تبدیلیاں آتی ہیں

حمل کے دوران اور بچے کی پیدائش کے بعد آپ کے جسم میں کسی بھی قسم کی تبدیلیاں آنا ایک قدرتی عمل ہے۔ تو پھر بچے کی پیدائش کے بعد آپ کے جسم میں کس قسم کی تبدیلیاں آتی ہیں؟

آپ کے جسم میں موجود وہ تمام ہارمونز جو آپ کا حمل قائم رکھنے میں کام آتے ہیں یہی تمام ہارموں آپ کے بچے کی پیدائش کے بعد بھی اسی طرح آپ کے جسم مہین تبدیلیاں لاتے رہتے ہیں۔ زیادہ تر یہ تمام تبدیلیاں بچے کی پیدائش کے فورن بعد ہی ختم ہو جاتی ہیں جبکی کچھ تبدیلیاں ایسی ہوتی ہیں جنکو تھوڑا وقت درکار ہوتا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ آپ واپس اپنی نارمل باڈی شیپ میں واپس آجاتے ہیں۔

بچے کی پپیدائش کے بعد آپ کو کتنا وزن کم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے؟

اس سے پہلے کہ آپ خود کو وزن کم کرنے کی جد و جہد میں مصروف کرین، یہ جاننا ضروری ہے کہ آپ کے جسم میں یہ سارا وزن آخر آتا کہان سے ہے۔ مثال کے طور پر آپ کا بچہ آپ کے بڑھے ہوئے وزن میں تقریبا 7 سے 8 پائونڈ کا ازافہ کر رہا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ آپ کے جسم میں باقی وزن کی وجوہات مندرجہ ذیل ہیں:

  • بڑھی ہوئی چھاتی ( 1 سے 2 پائونڈ)
  • بڑی بچی دانی (2 پائونڈ)
  • پلاسینٹا (1۔5 پائونڈ)
  • جسم میں خون کی زیادہ مقدار ( 3 سے 4 پائونڈ)
  • جسم میں بڑھے ہوئے سیال ( 2 سے 3 پائونڈ)
  • جسم میں چربی کے ذخائر ( 6 سے 8 پائونڈ)

سا کے علاوہ حمل کے دوران آُ کتنا وزن بڑہاتے ہیں یہ بہت سی دوسری وجوہات پر بھی منحسر کرتا ہے جیسے کہ آپ کی صحت کیسی ہے یا آپ کا لائف اسٹائل سٹیٹس کیسا ہے اور یہ کہ حمل کے دوران آپ کی غذا کیسی تھی یا اگر آپ کسی کٓقسم کی ورزش کرتے تھے یا نہیں۔ اب چونکہ ہر شخص کی حالت مکتلف ہوتی ہے تو آپ کے لئیے بہتر ہے کہ کسی بھی قسم کا قدم اٹھانے سے پہلے یا فیصلہ کرنے سے پہلے آپ امنے ڈاکٹر سے ایک بار مشورہ ضرور کر لیں کہ بچے کی پیدائش کے بعد آپ کو کتنا وزن کم کرنے کی ضرورت ہے۔

اس آرٹیکل میں ہم آپ کے بچے کی پیدائش کے بعد وزن کم کرنے کے صحت مند طریقوں کے بارے میں بتائیں گے اس لئیے اس آرٹیکل کو پورا ضرور پڑہیں۔

بچے کی پیدائش کے بعد وزن کم کرنے کے طریقے

۔1 اپنا وقت لیں

یہ ایک قدرتی اصول ہے کہ آپ کے جسم کو واپس نارمل کی طرف آنے کے لئیے وقت درکار ہوتا ہے۔ اگر آپ بچے کی پیدائش کے فوری بعد ہی وزن کم کر لیں تو بعد میں آپ کو نارمل کی طرف آنے میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔ وزن کم کرنے کی کوشش شروع کرنے سے پہلے اپنے آپ کو کم سے کم 6 ہفتوں کا وقت دیں۔

اگر آپ بچے کو دودھ پلا رہی ہیں تو ایک دم سے اپنی کیلوریز کو روکنے سے پہلے کم سے کم اپنے بچے کے دو مہینت تک ہونے کا انتظار کریں۔ ایک ہفتے میں کم سے کم ڈیڑھ پائونڈ وزن کم کرنے کا ارادہ کریں۔ آپ ایسا صحت مند غذا کھا کر اور اپنی روز مرہ کی زندگی میں ورزش کو شامل کر کے کر سکتے ہین۔

۔2 بچے کو اپنا دودھ پلائیں

اگر آپ بچے کو اپنا دودھ پلا رہی ہیں تو آپ کا وزن آہستہ آہستہ کم ہوگا۔ اگر آپ کا وزن بہت تیزی سے کم ہو رہا ہے تو یہ آپ کے دودھ کی پیداوار کو پتاثر کر سکتا ہے۔ اگر آپ ایک ہفتے میں ڈیڑھ پائند یعانی 670 گرام وزن کم کر رہی ہیں تو یہ ایک صحت مند عمل ہے اور اس طرح یہ آپ کے دودھ کی پیداوار یا پھر آپ کی صحت کو متاثر نہیں کر سکتا۔

 بچے کو دودھ پلانے سے آپ کے جسم مین موجود کیلوریز برن ہو جاتی ہیں جس کی مدد سے آپ اپنا وزن کم کر سکتے ہیں۔ اگر آپ صبر و تحمل سے کام لیں تو آپ کو یہ دیکھ کر حیرانی ہوگی کہ صرف بچے کو اپنا دودھ پلانے سے یہ آُ کس حد تک اپنا وزن کم کر سکتی ہیں۔

۔3 وزن کم کرنے کے لئیے کھانا ضروری ہے

اگر آپ مندرجہ ذیل صحت مند طریقوں سے کھانا کھاتے ہیں تو آپ کم عرصے میں صحت مند طور پر اپنا وزن کم کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہین۔

اپنا کھانا  وقت پر کھائیں اور کھانا نہ چھوڑیں۔ اکثر نئی مائیں کھانا کھانا بھول جاتی ہیں۔ اگر آپ کھانا نہیں کھائیں گے تو اس طرح اپ کے جسم میں طاقت کم ہوگی جس کے نتیجے میں آپ کو اپنا وزن کم کرنے میں مدد نہیں مل سکتی۔

دن میں صرف تین بار بڑا کھانا کھانے سے بہتر ہے کہ آپ دن میں تقریبن 5 سے 6 دفع تھوڑا تھوڑا کر کے کھانا کھائیں۔

ناشتہ کرنا نہ بھولیں۔ بیشک اگر آپ پہلے ناشتہ کرنے کے عادی نہ رہے ہوں لیکن ایسی حالت مین روزانہ اپنا ناشتہ کرنے کی عادت ضرور بنائیں۔ اس طرح آپ کو اپنے دن کا آغاز کرنے کے لئیے طاقت ملے گی اور آپ بعد میں تھکا ہوا محسوس نہیں کریں گے۔

کھانا آہسہ اور آرام آرام سے کھاہیں۔ جب آپ کھانا کھاتے ہوئے اپنا وقت لیتے ہیں تو آپ یہ نوٹ کریں گے کہ یہ بتانا آسان ہوتا ہے کہ کب آپ کا پیٹ بھر گیا ہے اور اب مزید کھانے کی ضرورت نہیں رہی۔ کھاتے وقت دوسرے کاموں میں ساتھ ساتھ مصروف رہنا اچھا لگ سکتا ہے لیکن اگر آپ اپنے کھانے پر روجہ دے کر کھائیں تو آپ ضرورت سے زیادہ کھانے سے گریز کر سکتے ہیں۔

اپنی خوراک میں فائبر اور پروٹین سے بھرپور غزائیں شامل کریں جو آپ کے پیٹ کو بھرا ہوا رکھیں اور آپ ضرورت سے زیادہ نہ کھائیں۔ دن میں کم سے کم 12 کپ سیال ضرور پئیں۔

اپنے ساتھ آپ جس جگہ پر بچے کو دودھ پلاتی ہیں اس جگہ پر ایک پانی کی بوتل ضرور رکھیں۔ اس طرح آپ کو یاد رہے گا کہ جب آپ کا بچی دودھ پی رہا ہے تب آپ کو بھی پانی پینے کی ضرورت ہے۔

سوڈا، جوس یا ایسے سیال جن میں چینی یا کیلوریز شامل ہوں، ان کو پینے سے گریز کریں۔ یہ آپ کے وزن میں مزید اضافہ کر سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسے کھانوں کا استعمال بھی نہ کریں جن میں نقلی سویٹنرز کا استعمال ہوتا ہے۔

پھلوں کا جوس پینے کی بجائے پھلوں کو اسی طرح کھائیں۔ پھلوں کے جوس کو درمیانی مقدار میں لینا چاہئیے کیوں کہ یہ ویکسٹرا کیلوریز میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ جبکی پھل آپ کو وٹامنس اور دوسرے غزائی اجزا فراہم کرتا ہے اور اس میں زیادہ فائبر بھی موجود ہوتا ہے جو آُ کی بھوک کو کم کرتا ہے اور کم کیلوریز فراہم کرتا ہے۔

کھانوں کو تل کے کھناے کی بجائے ابال کر کھانے پر ترجیح دیں۔ میٹھے کھانے، چکناےی اور چینی کھانے سے پرہیز کریں

۔4 ورزش کریں

ایک صحت مند اور متوازن غزا کھانے کے ساتھ ساتھ روزانہ کے معمول میں ورزش کو شامل کرنا آپ کے وزن کو کم کرنے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔ ورزش آپ کے مسل کو کم کرنے اور آپ کو کمزور بنانے کی بجائے آپ کے غیر ضروری وزن کو کم کرتی ہے اور آپ کو صحت مند بناتی ہے۔

بچے کی پیدائش کے بعد جب آپ اپنا وزن کم کرنے کے لئیے تیار ہوں، تو پھر اپنے روزانہ کے معمول میں اپنا خوراک کو کم اور اپنی ورزش کو زیادہ کر لیں۔ ایک دم سے سخت روٹین اپنا کر وزن کم کرنے کا خیال آپ کو سوچنے میں بہتر لگتا ہوگا۔ لیکن ایسا کرنے سے گریز کریں کیوں کے تیزی سے وزن کم کرنا آپ کی صحت کے لئیے ٹھیک نہیں ہے اور یہ آپ کے جسم کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

بہت زیادہ اور بار بار ورزش نہ کریں۔ اپنے بچے کو پرام میں ڈال کر اپنے گھر کے آس پاس تھوڑی سی واک کرنا اپنے روزانہ کے معمول میں ورزش کو شامل کرنے کا ایک اچھا طریقہ ہو سکتا ہے۔

۔5 اپنی نیند پوری کریں

ساری 8 گھنٹے کی نیند پوری کرنا ایک ناممکن سا عمل لگتا ہے جب آپ نئی نئی مان بنی ہوں اور ساری رات آپ کو اپنے بچے کا خیال اور بیچینی سکون سے نہ سونے دیتی ہو۔ لیکن اگر آپ کی نیند پوری نہیں ہو رہی تو بچے کی پیدائش کے بعد بڑہا ہوا وزن کم کرنے میں آپ کو مشکل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ایک مطالعے کے مطابق، نئی مائیں اپنے بچوں کی پیدائش کے بعد جو راتوں کو 5 گھنٹے یا اس سے کم سوتی تھیں ان میں ان منئی مائوں کی نسبت جو ررات کو 7 گھنٹے کی نیند پوری کرتی ہیں، زیادہ وزن دیکھا گیا ہے۔ جب آپ تھکے ہوئے ہوتے ہیں اور آپ کی نیند پوری نہیں ہوتی، تو آپ کے جسم میں کارٹیسول اور دوسرے سٹریس ہارمون خارج ہونا شروع ہو جاتے ہین جو آپ کے وزن کو بڑہاتے ہیں۔ اس لئیے اپنی نیند کو پورا کریں اور کوشش کریں جب جب آپ کا بچہ سوئے تو اس کے ساتھ آپ بھی سوجائیں۔

Disclaimer: The contents of this article are intended to raise awareness about common health issues and should not be viewed as sound medical advice for your specific condition. You should always consult with a licensed medical practitioner prior to following any suggestions outlined in this article or adopting any treatment protocol based on the contents of this article.

Ms. Sarah Farooqi
Ms. Sarah Farooqi - Author Sarah Farooqi is a leading Dietician at Shapes and Diet360. She worked as Nutritionist at Fatima Memorial Hospital previously. Sarah can be seen sharing her expertise in Shapes Newsletter and at seminars on various health and nutrition topics.
Book Appointment with the best "Gynecologists"