معمر افراد کو کرونا سے بچانے کی پانچ تدابیر

Ms. Ayesha Nasir

9 sec read

کرونا وائرس کے انفیکشن کی وجہ سے ہونے والی بیماری کووڈـ19 کے حوالے سے چاروں طرف پھیلی افواہوں کے باوجود بھی اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ دنیا کی آبادی میں سے معمر افراد اس بیماری میں مبتلاء ہونے کے زیادہ خطرے کی زد میں ہیں۔ گو اس کے بارے میں کوئی سائنسی شواہد تو ابھی تک سامنے نہیں آئے پھر بھی اگر انفیکشن ہو تو نوجوان اور درمیانی عمر کے مقابلے میں معمر افراد میں اس سے بیمار پڑنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ 

تو پھر معمر افراد کو کرونا وائرس کی وبأ کے دنوں میں کیا کرنا چاہیے؟ آئے دیکھتے ہیں: 

 عالمی ادرۂِ صحت یعنی ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن یا ڈبلیو ایچ او (WHO) کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر سختی سے عمل کریں

عالمی ادارۂِ صحت نے کرونا وائرس کی موجودہ وبأ کے دنوں میں اس وائرس کے انفیکشن سے بچنے کے لیے معمر افراد کے لیے ایک خصوصی ہدایت نامہ جاری کیا ہے۔ اس میں انہیں کہا گیا ہے وہ: 

  •  اپنے ہاتھوں کو تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد کم از کم 20 سیکنڈ تک صابن سے اچھی طرح مل کر دھوئیں؛ 
  •  جب بھی کسی ایسے شخص سے ملنا ہو جس کے بارے میں اس کے انفیکشن زدہ ہونے کا شک ہو تو حفاظتی لباس پہنا ہو؛ 
  •  اپنے استعمال اور ارد گرد کی اشیاء کو جراثیم سے پاک کرتے رہیں؛ 
  •  ہاتھوں پر جراثیم کش محلول یا سینیٹائزر اکثراوقات لگاتے رہیں؛ اور سب سے اہم یہ کہ
  •  سماجی فاصلہ برقرار رکھیں۔ 

امریکی ریاست آریگن کے شہر پورٹلیند کی آریگن ہیلتھ اینڈ سائنس یونیورسٹی کی چیف جیریاٹرکس ڈاکٹرالزبیتھ اِکسٹورم (Dr. Elizabeth Eckstorm) کا کہنا ہے کہ لوگ یہ فرض کر لیتے ہیں کہ اگر ان کے روزمرہ معمولات میں کوئی مشکل پیش نہیں آرہی تو وہ کسی خطرے کی زد میں نہیں ہیں جبکہ ایسے معمر افراد جو پہلے سے ہی کسی دائمی مرض کا شکار ہوں انہیں اپنے مرض کے کنٹرول میں ہونے کے باوجود بھی زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ 

ماہرین متفق ہیں کہ معمر افراد اکثر ایک سے زیادہ صحت کے دائمی مسائل کا شکار ہوتے ہیں؛ جیسے کہ بلڈ پریشر کا زیادہ ہونا، دل کو خون کی سپلائی کے کم ہونے کی بیماری اور شوگر وغیرہ۔ یہ دیرینہ مسائل ان کے جسم کے لیے کووڈ 19 کی بیماری سے نپٹنا مشکل بنا دیتے ہیں۔ وائرس ان کے اعضاء کے لیے انفیکشن سسے نپٹنا مشکل بنا دیتا ہے۔ 

برطانیہ کے ہیلتھ سیکریٹری میٹ ہینکاک (Matt Hancock) نے ستّر برس سے زائد عمر کے ہر شخص کو کم از کم بارہ روز تک گھر سے باہر نہ نکلنے کا مشورہ دیا ہے۔ اس قانون کا ابھی تک نفاذ تو نہیں کیا گیا تاہم لیکن ایسے فیصلے کیے جارہے ہیں جو معمر افراد کو اس بیماری سے محفوظ رکھنے کے لئے کارگر ہوں کیونکہ ابھی تک کے اعدادوشمار کے مطابق کووڈـ19 کی وجہ سے ہونے والی اموات میں اکثریت معمر افراد کی تھی۔ 

 خطرہ کس قدر شدید ہے؟ 

ماہرین کے نزدیک ہر وہ شخص کہ جس کی عمر 60 برس سے زیادہ ہو اسے معمر شمار کیا جانا چاہیے۔ اس عمر کے گروپ کے افراد کو بیماری سے بچنے کی خصوصی احتیاطیں اختیار کرنا ہونگی۔ کیونکہ مدافعتی نظام عمر کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ کمزور پڑنے لگتا ہے اور معمر افراد کے لیے کووڈـ19 کی بیماری سے بچنا محال ہو سکتا ہے۔ 

یہ خطرہ 80 سال سے زائد عمر کے افراد کے لیے تو اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ امریکہ کی میڈیکل ایسوسی ایشن کے مؤقر رسالے جاما (JAMA) کے حالیہ شمارے میں شائع شدہ ایک رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ چین میں کووڈ 19 کے شکار 72000 مریضوں میں سے مرنے والوں کی شرح محض 2.3فیصد تھی لیکن ان میں سے 15 فیصد افراد معمر تھے۔ 

 کیا حفاطتی اقدامات کیے جائیں؟

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سان فرانسسکو (امریکہ) کے میڈیکل یونٹ کے جیریاٹرک ڈویژن کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر کلارا پیرِسنوٹو (Dr.Clara Perissinotto) کا کہنا ہے کہ معمر افراد کو اپنی ہر طرح کی گھر سے باہر نکلنے کی مصروفیات ـــــــــــ حتّٰیٰکہ کسی طبیب سے طبی مشورہ لینے جانے تک کی بھی ـــــــــــ لازمی طور پر ترک کر دینا چاہیے۔ ایسے حالات میں کہ جب کووڈـ19 کے انفیکشن کی ذد میں آنے والے مریضوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہو، اپنے کسی اور طبی مسئلے کے حل کے لیے ڈاکٹر کے پاس جانے سے بھی گریز کرنا چاہیے۔ 

اگر کوئی اشد طبی ضرورت ہو تو تب بھی اسے گھر سے باہر جانے کی بجائے ٹیلیفون یا وڈیو کال کی مدد سے حل کرنے کی کوشش کرنا چاہیے۔ امریکہ کے بیماریوں کو کنٹرول کرنے کے مرکز یعنی سی ڈی سی (CDC) والوں نے تو عام لوگوں کو اشیائے ضروریہ کے وافر سٹاک کو گھر میں ذخیرہ کر کے رکھنے کا بھی مشورہ دیا ہے تاکہ انہیں سودا سلف لینے بار بار گھر سے باہر نہ نکلنا پڑے۔ ان ضروری اشیاء میں چھوٹی سے چھوٹی ضرورت کی شئے جیسے کہ کپڑے دھونے کا پاؤڈر، صابن اور ٹوتھپیسٹ وغیرہ بھی شامل ہو نا چاہیے تاکہ آپ کو کسی بھی شئے کو لا نے کے لیے گھر سے قدم باہر نہ نکالنا پڑے۔ آپ کو اپنی دوا تک بھی گھر بیٹھے آن لائن فارمیسی سروس سے منگوا لینا چاہیے۔ 

جس گھر میں مختلف عمروں کے لوگ رہتے ہوں وہاں بزرگوں کے برتن گھر کے ایسے افراد سے الگ کر دینا چاہیئں جو اکثر کسی انفیکشن کا شکار رہتے ہوں۔ مزید برآں، گھر کے ہر فرد کو ہاتھوں کی صفائی اور انہیں بار بار صابن سے 20سیکنڈ تک دھونے کی ہدائت پر سختی سے عمل پیرا رہنا چاہیے۔ 

وباء کے پھیل جانے کی صورت میں کیا کرنا چاہیے؟ 

کرونا وائرس کی وبا کے علمی شکل اختیار کر لینے کی صورت میں ہر کسی کو اور خصوصی طور پر اس سے بیمار پڑنے کے زیادہ خطرے کی زد میں آنے والے معمر افراد کو سماجی فاصلے کی ہدائت پر بڑی سختی سے عمل کرنا چاہیے۔ وباء کے دنوں میں، ایسے افراد جو خود کو بیمار محسوس کریں انہیں خود سے ہی اپنے آپ کو اور لوگوں سے الگ کر لینا چاہیے۔ 

ایسے علاقے کہ جہاں وباء کے پھییلنے کا خطرہ ہو وہاں کے معمر افراد کو ایسی جگہوں پر جانے سے گریز کرنا چاہیے جہاں بہت زیادہ ہجوم رہتا ہو۔ اسی طرح انہیں ایسی عمارتوں اور مکانوں میں بھی جانے سے گریز کرنا چاہیے جہاں ہوا اور روشنی کا گزر بہت کم ہو کیونکہ ایسی جگہوں میں انفیکشن کے پھیلنے کے امکانات زیادہ ہو تے ہیں۔ معمر افراد کے باقی اہلِ خانہ کو بھی ایسی احتیاطی تدابیر کے اختیار کرنے میں کسی تأمل سے کام نہیں لینا چاہیے جو وباء کو پھیلنے سے روکنے والی ہیں۔ 

یہ ذمہ داری بھی بھی معمر افراد کے باقی اہلِ خانہ پر آتی ہے کہ ان کے بزرگ اگر الگ کر دئے جانے کی حالت میں ہوں تو وہ خود کو تنہا نہ محسوس کریں۔ اس کے لیے وہ باری باری ان سے موبائل پریا  ویڈیو کال کے زریعے ان سے رابطے میں رہ سکتے ہیں۔ انہیں بہر حال اپنے بزرگوں کو اکیلے پن کے احساس اور مایوسی سے بچانا ہو گا۔ 

اگر نوجوان لوگ کسی بھی وجہ سے کسی کووڈـ19 کے مریض کے قریب رہنے پر مجبور ہو چکے ہوں تو وہ اس انفیکشن کے مخفی طور پر پھیلانے والے ثابت ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا انہیں چاہیے کہ وہ اپنے خاندان کے معمر افراد سے سماجی فاصلے کے اصول پر بڑی سختی سے عمل پیرا ہوں مبادا کہ ان کے اندر ممکنہ طور پر موجود انفیکشن، ان سے انکے کسی بزرگ میں منتقل ہوکر اسے بیمار نہ کردے۔ 

اگر اپ میں کووڈ ـ19 کی بیماری کے پائے جانے کی تشخیص ہو، تو؟ 

اگر آپ کے خیال میں، آپ میں بذاتِ خود یا آپ کے کسی عزیز میں کرونا کے انفیکشن کا شکار ہونے کی کوئی علامات پائی جاتی ہیں تو آپ کو حکومت کی طرف سے قائم کردہ ہیلپ لائن پر موجود صحت کے عملے کو بزریعہ ٹیلی فون مطلع کرنا چاہیے اور پھر ان کے آپ کی طرف آنے کا انتظار کرنا چاہیے۔ آپ کو خود سے ان کے پاس نہیں جانا چاہیے کیونکہ ایسی حالت میں آپ کا یا آپ کے ایسے عزیز کا گھر سے باہر نکلنا دوسرے لوگوں میں اس انفیکشن کے پھیلنے کا باعث بن سکتا ہے۔ 

یہ فیصلہ صحت کے عملے کے افراد کریں گے کہ آپ کی علامات کی کیا کیفیت ہے۔ کیا آپ کو اور لوگوں سے الگ تھلگ ہو کر اپنے گھر میں رہنے کی ضرورت ہے یا آپ کو ہسپتال میں داخل کرنے کی ضرورت ہے۔ 

انتباہ (Disclaimer)

اس مضمون کے مندرجات صحت کے عمومی مسائل سے آگاہی فراہم کرنے کی نیّت سے تحریر کیے گیے ہیں اور انہیں اپنی صحت کے کسی مخصوص مسئلہ کے حل کی مسلمہ طبی تجویز کے طور پر نہیں لینا چاہیے۔ آپ اس مضمون میں تجویز کردہ کسی بھی دوا کے استعمال یا طبی طریقے پر عمل کرنے سے قبل کسی بھی مستند ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کر لیں۔ 

ڈاکٹر حرا تنویر

اس مضمون کی مصنِّفہ ڈاکٹر حرا تنویر ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں اور آج کل لاہور کے سی ایم ایچ ہسپتال میں اپنے فرائض سر انجام دے رہی ہیں۔ لکھنا انکا محبوب مشغلہ ہے۔ وہ اپنی پیشہ ورانہ مہارت و قابلیّت سے عوام الناس کو انکے صحت، عمومی خوشحالی، صحت بخش خوراک اور طرزِ زندگی سے معلقہ مسائل سے نپٹنے میں مدد فراہم کرنے میں دلی مسرّت محسوس کرتی ہیں۔

Disclaimer: The contents of this article are intended to raise awareness about common health issues and should not be viewed as sound medical advice for your specific condition. You should always consult with a licensed medical practitioner prior to following any suggestions outlined in this article or adopting any treatment protocol based on the contents of this article.

Ms. Ayesha Nasir - Author Ms. Ayesha Nasir is a Dietitian practicing in Lahore. Ms. Ayesha Nasir has the following degrees: M.Phil Food and Nutrition, B.S Home Economics and has 5 years of experience. You can book an appointment with Ms. Ayesha Nasir by calling us or using the 'book appointment' button.Dr ayesha believes that a healthy diet is more than half of what constitutes good physical health. She thus tries to make the public aware about some basic healthy diet principles. You can look at some of her advice through these links.