We have detected Lahore as your city

نیوروپیتھی کی علامات اور علاج

Dr. Zahid Rustam

12 sec read

Find & Book the best "General Physicians" near you

نیوروپیتھی انسانی صحت میں آنے والی ایسی خرابیوں کو کہتے ہیں جو دماغ اور حرام مغز سے پیغام رسانی کا کام کرنے والے اعصابی ریشوں یا نروّز (Nerves) میں پیدا ہوجانے والے نقص سے جنم لیتی ہیں۔ نیوروپیتھی کا علاج اگر فوری طور پر نہ کیا جائے تو اس کا نتیجہ مستقل معذوری بھی ہو سکتا ہے۔ 

نیوروپیتھی کی علامات 

چونکہ ہمارے اعصابی نظام کا ہر ایک عصبہ یا نروّ (nerve) ایک مخصوص کام کرتا ہے، اسی لیے نیوروپیتھی کی علامات کا داروعمدار بھی اس پر ہوتا ہے کہ کس قسم کے نروّ میں نقص واقع ہوا تھا۔ اعساب یا نروّ تین طرح کے ہوتے ہیں: 

  •  حِسّی اعصاب یا سینسری نروّ (Sensory Nerves): یہ تمام تر محسوسات جیسے کہ سردی یا گرمی، درد، ارتعاش یا لمس کے احساس کو جلد سے دماغ تک پہنچاتے ہیں؛ ان کی خرابی کی علامات کا اظہار مندرجہ ذیل کیفیات سے ہوتا ہے: 
    • ہاتھوں یا پیروں میں بتدریج سُن ہونے، سوئیاں چبھنے یا بےتابی کا محسوس ہونا؛ 
    • زرا سے چھوئے جانے کا شدید ردِّعمل؛ اور 
    • ایسے کاموں سے بھی تکلیف یا درد کا احساس جن کے کرنے سے عام طور پر درد یا کوئی تکلیف نہ ہوتی ہو جیسے کہ پاؤں پر وزن ڈالنے یا ان پر کمبل اوڑھنے سے بھی درد یا تکلیف کا احساس۔
    •  اعضا کا ہم آہنگ نہ ہونا اور گر جانا؛ 
    •  عضلاتی کمزوری (muscle weakness)؛ اور
    •  دستانے یا جرابیں نہ پہنے ہوئے ہونے کے باوجود بھی یہ محسوس کرنا کہ جیسے انہیں پہنا ہوا ہے۔ 
  •  حرکی اعصاب یا موٹر نروّ (Motor Nerve): یہ حرکت کے احکامات کو دماغ سے متعلقہ عضلات تک پہنچانے کام کرتے ہیں؛ ان میں نقص کی وجہ سے فالج ہو جاتا ہے اور جس حصأے کے حرکی اعصاب میں نقص آ جائے وہ حرکت نہیں کر سکتا۔ 
  •  خود مختار اعصاب یا آٹونومک نروّ (Autonomic Nerves): یہ بلڈ پریشر، دل کی دھڑکن، ہاضمے اور مثانے کے کاموں کو کنٹرول کرنے کا کام کرتے ہیں۔ ان اعصاب کی خرابی کی وجہ سے حرارت کی عدم برداشت، پسینہ بہت زیادہ یا بالکل نہ آنے، پیشاب، پاخانے یا ہاضمے کے معمولات میں بگاڑ، بلڈ پریشر میں اتار چڑھاؤ، یا سر چکرانے جیسی علامات کا اظہار ہوتا ہے۔ 

نیوروپیتھی کا علاج

نیوروپیتھی کسی حادثاتی صدمے، انفیکشن، غذا کے ہضم ہوکر جزو بدن بننے کے نظام کی خرابی،کسی نشہ آور شئے کے مسلسل استعمال یا کسی زہر سے متاثر ہونے کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اس کی عام وجوہات میں شوگر کی بیماری ایک اہم وجہ ہے۔

نیوروپیتھی کا علاج اس کی وجہ بننے والے عوامل اور اس کی علامات دور کرنے کی مندرجہ ذیل تدابیر سے کیا جاتا ہے: 

  •  ادویات کا استعمال : ان عوامل کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ کہ جو نیوروپیتھی کی وجہ بنتے ہوں نیوروپیتھی کی علامات سے نجات کے لیے مندرجہ ذیل اقسام کی دوائیں استعمال کروائی جاتی ہیں: 
  •  درد دور کرنے والی دوائیں: کسی بھی قسم کے جسمانی درد کی صورت میں فارمیسیوں سے بغیر نسخہ ملنے والی دواؤں میں سے کوئی بھی استعمال کی جاسکتی ہے اگر افاقہ نہ ہو تو پھر ڈاکٹر صاحب کی تجویز کردہ دوا لی جا سکتی ہے۔ نیوروپیتھی کے علاج کے لیے اگر دافع درد ادویات افیونی مرکبات (opioids) پر مشتمل ہوں تو پھر ان کا مسلسل استعمال مریض کو ان کا عادی بھی بنا سکتا ہے؛ 
  •  مرگی کے علاج میں مستعمل ادویات: مرگی کے علاج کے لیے مستعمل ادویات اعصاب کی درد بھی دور کرنے والی ثابت ہوسکتی ہیں۔ ان کے ذیلی اثرات غنودگی اور چکر آنا ہیں؛ 
  •  مقامی استعمال کی دوائیں: کیپسے سین (Capsaicin) کریم جو کالی مرچ میں موجود مواد سے تیار کی جاتی ہے کی مالش سے نیوروپیتھی کی علامات میں کس قدر افاقہ دیکھنے میں آیا ہے۔ تاہم اس کی مالش سے بعض لوگوں میں جلن اور خارش کی علامات بھی ظاہر ہو سکتی ہیں لیکن یہ وقتی ہوتی ہیں۔ پھر بھی ایسے لوگ جو اسے برداشت نہ کر سکیں ان کو اسے نیوروپیتھی کے علاج کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے؛ 
  •  مقامی طور پر سن کردینے والی ایک دوا لڈوکین (Lidocain) کے پھاہوں کا مقامی طور پر چپکانا بھی نیوروپیتھی کا ایک علاج سمجھا جاتا ہے؛ 
  •  مایوسی دور کرنے کی دوائیں بھی نیوروپیتھی کی علامات دور کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔ تاہم ان کے ذیلی اثرات جیسے کہ منہ اور حلق خشک ہونا، متلی، غنودگی، سر چکرانا، بھاک نہ لگنا اور قبض طاہر ہونے کی صورت میں کسی متبادل علاج کا متقاضی ہوتا ہے۔ 

دیگر علاج: 

نیوروپیتھی کا علاج عام مستعمل ادویہ کے علاوہ دیگر تدابیر سے بھی کیا جاتا ہے؛ جیسے کہ: 

  • ٹرانس کیوٹینیئس الیکٹرکل نروّ سٹیمولیشن (Transcutaneous electrical nerve stimulation): اس طبی عمل کو مختصراً ٹینز (TENS) بھی کہتے ہیں۔ اس میں جلد کے اوپر برقی موصل پھاہے جلد پر چپکا کر ہلکی سی برقی رو ان میں سے گزاری جاتی ہے جو غیر فعال اعصاب میں تحریک پیدا کر تی ہے۔ ٹینز کے عمل کو ایک ماہ تک روزانہ آدھے گھنٹے کے لیے کرنا ہوتا ہے۔ 
  • خون کی صفائی یا پلازما اکسچینج (plasma exchange): اس عمل کے ذریعے مریض کے سارے خوں کو ایک مشین میں سے غزارنے کے دوراں اس میں سے ایسے مادوں کو الگ کردیا جاتا ہے جو اعصاب کو ناکارہ بنا رہے ہوتے ہیں۔ 
  •  مدافعتی خلیات کا بذریعہ وریدی انجیکشن خون میں شامل کرنا (Intravenous immune Globulin) 
  • فِزیو تھیراپی: اگر عضلات کمزور ہو جائیں تو ایسی نیوروپیتھی کا علاج کرنے کے لیے فزیو تھیراپی کا استعمال کیا جاتا ہے۔ جس میں جسمانی ورزشوں، مالش اور سینکنے یا دبانے کی تکنیکوں سے مقامی طور پر اعصابی تحریک پیدا کرنے کی چارہ جوئی کی جاتی ہے۔ اس طریقِ علاج میں لچکدار پٹیاں باندھنا، چھڑی، واکر یا ویل چیئر کا استعمال بھی سکھایا جاتا ہے۔ 
  • جرّاحی: اگر نیوروپیتھی کی وجہ اعصاب پر کسی پتھری یا گلٹی کا دباؤ ہو تو پھر جراحی کے عمل سے اعصاب سے اس دباؤ کو ہٹا کر انہیں دوبارہ فعال بنایا جا سکتا ہے۔ 
Disclaimer: The contents of this article are intended to raise awareness about common health issues and should not be viewed as sound medical advice for your specific condition. You should always consult with a licensed medical practitioner prior to following any suggestions outlined in this article or adopting any treatment protocol based on the contents of this article.

Dr. Zahid Rustam - Author Dr. Zahid Rustam completed his MBBS from Army Medical College and pursued his further education in the UK and USA. Recently Dr. Zahid has Earned qualification of FIPP WIP USA which is the only recognized Post-graduation degree in Interventional pain practice. He is one of only 06 physicians in Pakistan to earn this degree Dr. Zahid Rustam has vast years of experience of in managing patients with diverse illnesses. Presently Dr. Zahid Rustam heads his own practice, Islamabad Pain Spine and Stroke center G-8 Markaz and practices mainly Interventional Pain management for chronic pain (mainly Backache neck and other Chronic Pain), Musculoskeletal & Electro-diagnostic Medicine, Geriatric/elderly care Medicine, and Neuro-Rehabilitation.
General Physician in Pakistan


Book Appointment with the best "General Physicians"