We have detected Lahore as your city

ڈینگی وائرس کی علامات، وجوہات اور علاج

6 sec read

Find & Book the best "General Physicians" near you

ڈینگی وائرس

ڈینگی مچھروں کی وجہ سے پھیلنے والی ایک بیماری ہے جو کہ ڈینگی وائرس کی وجہ سے ہوتی ہے۔ یہ وائرس شہری اور نیم شہری علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ ڈینگی کا وسبب بننے والا وائرس ڈینگی وائرس (DENV) کهلا تا ہے۔ چار (DENV) سیرو ٹائپس ہیں، اسکا مطلب یہ کہ  اس وائرس سے چار بار متا ثر ہونا ممکن ہے۔ ڈینگی وائرس فی میل مچھر ایڈس کے کاٹنے سے پھیلتا ہے۔ یہ مچھر 100 سے زائد ممالک میں عام ہے۔ ڈینگی وائرس ہونے کی وجوہات، علامات اور علاج و احتیاط بر وقت کرنے سے اس وائرس سے خود کو اور اپنے عزیزوں کو بچایا جا سکتا ہے۔

ڈینگی بخار کیوں ہوتا ہے؟  

ڈینگی بخار بظاہر ایک معمولی سی بیماری ہے، جو چند ہی روز میں خطرناک صورتحال اختیار کر لیتی ہےاور موت کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ ڈینگی کا نشانہ عام طور پر ایسے افراد زیادہ بنتے ہیں جن کی قوت مدافعت کمزور ہوتی ہے۔ ڈینگی کا مچھر عام طور پر رنگین ہوتا ہےاس کا جسم زیبرے کی طرح دھاری دار جبکہ ٹانگیں عام مچھروں کی نسبت لمبی ہوتی ہیں۔

ڈینگی بخار کی علامات

ڈئنگی سے متاثرہ چار میں سے ایک شخص بیمار ہو جائے گا۔  ان لوگوں کے لیے جو ڈینگی سے بیمار ہو جاتے ہیں، ان کی علامات ہلکی یا شدید ہو سکتی ہیں۔ شدید ڈینگی  چند گھنٹوں میں جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے اور اسے اکثر ڈاکٹ کی نگرانی میں دیکھ بھال کی ضروت ہوتی ہے۔

ڈینگی کی ہلکی علامات دوسری بیماریوں سے الجھ سکتی ہیں جو بخار، درد اور درد کا سبب بنتی ہیں۔

ڈینگی کی سب سے عام علامات دکھانے والے انسانی جسم کا گرافک مندرجہ ذیل میں سے کسی کے ساتھ بخار ہے جیسا کہ آنکھوں میں درد، سر کا درد، پٹھوں میں درد، خارش، ہڈیوں میں درد، جوڑوں کا درد ہو سکتی ہیں۔

سر درد

ڈینگی بخار کی پہلی علامت یہ ہے کہ مریض کے سر میں شدید قسم کا درد ہوتا ہے۔

تیز بخار

ڈینگی وائرس جسم میں داخل ہوتے ہی تیز بخار ہو جاتا ہے جو کہ 104 اور 105 سے آگے بھی بڑھ سکتا ہے جسم کے درجہ حرارت میں غیر معمولی تبدیلی ہوتی ہے۔

جوڑوں میں درد

ڈٰنگی وائرس کے سبب کمر کے پچھلے حصے میں، اور ٹانگوں اور پٹھوں میں شدید درد ہوتا ہے۔

منہ سے خون کا آنا

ڈینگی بخار بڑھ جائے تو مریض کے منہ سے ،ناک سے خون آنے لگتا ہے۔

ڈائریا

بخار کے باعث ڈائریا بھی ہو سکتا ہے جس کی وجہ سے جسم سے نمکیات خارج ہو جاتی ہیں اور مریض میں کمزوری بڑھ جاتی ہے۔

فشار خون اور دل

ڈینگی کی وجہ سے بلڈ پریشر اور دل کی دھڑکن کم ہو جاتی ہے۔ یہ وائرس خون کے بہائو کو متاثر کرتا ہے۔ مچھر کے کاٹنے سے پیدا ہونے والی یہ بیماری خون کے سفید خلیات پر حملہ کرتی ہیں اور انہیں آہستہ آہستہ ناکارہ کرنے لگتی ہے۔

غنودگی

 ڈینگی کے متاثرہ مریض کو شدید بخار کے سبب ہر وقت غنودگی طاری رہتی ہے۔

خراشیں

اس بیماری میں ابتدائی طور پر جسم میں خراشیں پر جاتی ہیں اور اکثر مریض کی جلد اترنے لگتی ہے۔

  • ڈینگی بخار شدید فلو جیسی بیماری ہے
  • جسم پر دھبوں کا نمودار ہونا ڈینگی کی علامات میں سے ایک علامت ہے
  • سانس لینے میں دشواری آنا
  • رنگت کا زرد پر جانا
  • مریض کا صدمے کی حالت میں پہنچ جانا
  • غنودگی یا کثرت سے نیند کا آنا
  • کھانے ہینے کو دل نہ کرنا
  • ہاتھ پائوں کا ٹھنڈا ہونا
  • ڈینگی کا مریض میں ہر وقت چڑ چڑا پن سا رہتا ہے
  • بے ربط بہکی بہکی باتیں کرنا
  • 6-4 گھنٹے تک پیشاب کا نہ آنا
  • خون کا اجراء
  • مسوڑوں سے خوں کا آنا۔
  • مستقل قے آنا
  • قے اور متلی
  • ریش

جب یہ سردرد، بخار،متلی اور قے ،کمر درد جسم میں سرخ دانے نکلنے جیسی علامات ظاہر ہوں تو فوری مریض کو ڈاکٹر کو دکھا لینا چاہیے اور خون کا ٹیسٹ کروا لیں، ورنہ اگر اسے بروقت نہ دکھایا جائے تو پھر “ڈینگو ہمبرج فیور شروع ہو جاتا ہے جو کہ جان لیوا ہے اور ساتھ زیادہ بخار بڑھ جانے کی صورت میں دماغ کی رگیں پھٹ جانے کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ ڈینگی وائرس کی صورت میں جسم میں سرخ خلئیے ختم ہو جاتے ہیں۔

ڈینگی بخار کی وجوہات

اس بیماری کو پھیلانے والی مچھر(Ades Egypting) مادہ ہوتی ہے۔ مادہ مچھروں کو انڈا دینے کے لیے خون کی ضروت ہوتی ہے جو وہ انسان کو کاٹ کر پوری کرتی ہے۔ کاٹنے والی مادہ مچھر اپنی تھوک نکالتی ہے جو کہ خون کو جمنے نہیں دیتا اور اس دوران وہ اپنے انڈے کے لیے درکار خون حاصل کرلیتی ہے۔ یہ مچھر صبح طلوع آفتاب سے لے کر

اگراس کی تھوک میں ڈینگی وائرس موجود ہو تو اس شخس کو ڈینگی بخار ہونے کے مکمل امکان ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بیماری ڈیلیوری کے وقت ماں سے بچے میں اور خون کی منتقلی کے دوران بھی پھیل سکتی ہے۔

ڈینگی بخار وائرس کی چار اقسام میں سے کسی ایک کی وجہ سے ہوتا ہے۔

 آپ کسی متاثر شخص کے آس پاس رہنے سے ڈینگی بخار حاصل نہیں کر سکتے۔

جب مچھر ڈینگی وائرس سے متاثرہ شخص کو کاٹتا ہے تو وائرس مچھر میں داخل ہع جاتا ہے۔ پھر جب متاثرہ مچھر کسی دوسرے شخص کو کاٹتا ہے تو وائرس اس شخص کے خون میں داخل ہوتا ہے اور انفیکشن کا سبب بنتا ہے۔

ڈینگی بخار سے صحت یاب ہونے کے بعد آپ کو وائرس کی طویل مدتی استثنی حاصل ہوتی ہے جو کہ آپ کو دوبارہ متاثرہ کر سکتی ہے۔

 یہ مچھر صبح طلوع آفتاب سے لے کر 8 بجے تک اور شام غروب آفتاب کے وقت باہر نکلتے ہیں اور لوگوں کو کاٹتے ہیں۔ امریکی تحقیقات کے مطابق ڈینگی بخار کا مرض امریکی بند گاہ پر پرانے برآمد شدہ ٹائروں میں کھڑے پانی کی وجہ سے پھیلا ہے۔

ڈینگی وائرس کی منتقلی اس وقت ہوتی ہے جب کسی متاثرہ شخص کو انٹر میڈیٹ مچھر نے کاٹ لیا ہو۔ متاثرہ  لوگوں سے وائرس مچھروں کے زریعہ لے جائیں گے، اور دوسرے لوگوں کو بھی مبتلا کریں گے جو مچھروں کے کاٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ ڈینگی وائرس صرف مچھروں کے زریعہ پھیلتا ہے، نہ کہ ایک شخص سے دوسرے شخص تک۔

جب کوئی DEN1, DEN2,DEN3, DEN4 ڈی انجیو وائرس کو چار اقسام میں تقسیم میں کیا گیا ہے، یعنی انجیو وائرس سے متاثر ہوتا ہے اور کامیاب کے ساتھ بازیافت ہوتا ہے تو اس کا جسم اس D شخص ایک قسم کے وائرس کے خلاف تاحیات استسنی پیدا کرے گا۔ تاہم ،ایک وائرس سے استسنی دیگر قسم کے ڈٰنگی وائرس سے انفیکشن کو مسترد نہیں کرتا ہے۔ در حقیقت، جو بھی شخص ڈٰینگی وائرس سے متاثر ہوا ہے اس میں دوسری بار انفیکشن کا خطرہ ہوتا ہے۔

ڈینگی وائرس کے انفیکشن کا تجربہ کرنے کے علاوہ، دوسرے عوامل جو انسان کے ڈینگی بخار کے خطرہ کو بڑھا سکتے ہیں وہ اشنکڈبند  کی زندگی گزار رہے ہیں یا سفر کررہے ہیں۔ بچوں ،بوڑھوں اور کمزور استسنی والے لوگوں کے لیے بھی ڈینگی بخار کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

ڈینگی کی تشخیص

اوپر بتائی گئی علامات کی موجودگی کی صورت میں ڈایکٹر ڈاکٹر مندرجہ ذیل ٹیسٹس تجویز کر سکتا ہے۔

نیو کلیک ایسڈ امپلیفیکیشن ٹیسٹ

یہ ٹیسٹ علامات ظاہر ہونے کے 7 دن بعد تک کیا جاسکتا ہےاور یہ انسان کے سیرم میں وائرس کا جینیٹک میٹیرل کی موجودگی بتاتا ہے۔

سیرولو جیکل ٹسٹس

یہ ٹیسٹ بھی علامات ظاہر ہونے کے 7 دن کے بعد کیا جاتا ہے۔ یہ ٹیسٹ خون میں وائرس کے خلاف بننے والی اینٹی باڈیز کی موجودگی کا پتہ چلاتے ہیں۔ آئی جی اے انفیکشن کے 5 دن بعد جبکہ آئی جی ایم 2 سے 4 ہفتوں بعد بنتی ہیں۔

یہ دونوں ٹیسٹ کرنے کے بعد ڈاکٹر کی تشخیص بلا شک و شبہ ڈینگی کی بن جاتی ہے۔

ڈینگی بخار کا علاج

 اس بخار کا کوئی واضح ولاج  موجود نہیں ہے لہذا ڈاکٹرز علامات کو کم کرنے کے لیے ادوایات تجویز کرتے ہیں۔ اس بخار کی معمولی علامات کی صورت میں محض پین کلرز جیسا کہ پینا ڈال بھی کار آمد ثابت ہو سکتی ہیں۔ مزید یہ کہ اس بیماری کی صورت میںایسپرین فطا استعمال نہیں کرنی چاہیئے کیونکہ اس سے خون بہنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

شدید علامات کی صورت میں ہسپتال داخل کیا جاتا ہے اور آئی وی لائن کے ذریعے بلڈ ٹرانسفیوثن یا فلودز دیے جاتے ہیں۔

ڈینگی وائرس کا علاج اب گھریلو نسخوں سے بھی کیا جا سکتا ہے جو بہت جلدی اس بخار سے نجات دلواسکتے ہیں۔ ڈینگی کی وجہ سے جسم میں وائٹ بلڈ سیلز کم ہو جاتے ہیں اور اس کمی کو پورا کرنے کے لیے سب سے بہترین غذا پپیتے کے پتے ہیں جو بہت جلدی اس کمی کو پورا کرتے ہیں جس سے ڈٰینگی وائرس سے نجات مل سکتی ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ایک انقلابی تجربے میں ڈینگی بخار کے کیسز 77 فیصد کمی کی گئی ہے،اس سے تجربے میں یہ نتائج ڈینگی بخار پھیلانے والے مچھروں میں ردوبدل کر کے حاصل کیے  گئے ہیں۔

 مچھروں کے عالمی پروگرام کی ٹیم کا کہنا کہ اس طریقے سے پوری دنیا میں ڈینگی وائرس کا حل نکالا جاسکتا ہے۔

ڈینگی وائرس سے دنیا بھر میں سالانہ  25 ہزار اموات  اور 39 کروڑ سے زائد افراد متاثر ہوتے ہیں۔

ڈینگی مچھر سے بچنے کی تدابیر

عالمی ادارہ صحت کے مطابق ڈینگی سے  ہونے والی اموات دنیا میں ہونے والی اموات کا 4  فیصد ہیں اور احتیاط کے ذریعے ہی اس مرض سے بچنا ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

  • ڈینگی کے مچھر صاف پانی میں رہنا پسند کرتے ہیں اور طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے وقت زیادہ نمودار ہوتے ہیں، اس لیے گھر میں کھانے ہینے کی تمام اشیا ،گھروں میں موجود پینے کے پانی کے برتن بھی ڈآنپ کر رکھے جائیں تبھی اس خطرناک بیماری سے بچا جاسکتا ہے۔
  • گھروں میں استعمال ہونے والی ٹنکیوں کو اچھی طرح صاف کیا جائے اور اس بات کا خیال رکھا جائے کہ پانی اسٹور کرنے والے برتن صبح و شام صاف کیے جائیں۔
  • ڈینگی مچھر کے حملے سے بچنے کے لیے سب سے ضروری ہے کہ اس کی افزائش نسل کو روکا جائے، جس کے لیے ضروری ہے کہ گھروں میں صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھا جائے ۔ آس پاس موجود پینے کے پانی خاص طور پر گڑھوں میں ٖصفائی کا مکمل خیال رکھا جائے تاکہ ان میں مچھر پیدا نہ ہو۔
  • گھر میں ہرمل اور گوگل کی دھونی دینے سے ہر قسم کے کیڑے مکوڑے، مچھروں ،لال بیگ اور چهپکلی و غیره ختم ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ اگر ہرمل کا پودا کمرے میں رکھا جائے تو اس سے مچھر کمرے میں داخل نہیں ہوں گے۔
  • اگر جسم کے کھلے حصے پر کروا تیل جیسے کہ تارا میرا کا تیل لگایا جائے تو مچھر کاٹنے سے پہلے ہی مر جاتا ہے۔ اس کے علاوہ جسم کے کھلے ہصے پر لوشن وغیرہ لگانا بھی بہتر ہے۔
  • ڈینگی مچھر سے بچنے کے لیے اپنے گھروں میں مچھر مار سپرے کروانا بہت ضروری ہے۔
Disclaimer: The contents of this article are intended to raise awareness about common health issues and should not be viewed as sound medical advice for your specific condition. You should always consult with a licensed medical practitioner prior to following any suggestions outlined in this article or adopting any treatment protocol based on the contents of this article.
Book Appointment with the best "General Physicians"