We have detected Lahore as your city

کیا حاملہ خواتین کو رمضان میں روزے رکھنے چاہیے؟

5 min read

Find & Book the best "Gynecologists" near you

اگر حاملہ عورت کو روزہ رکھنے کی وجہ سے کسی قسم کا نقصان، بیماری کا خدشہ ہو یا روزہ کی وجہ سے حمل کو نقصان پہنچنے کا خوف ہو تو ایسی صورت میں حاملہ عورت پر روزہ فرض نہیں ہے۔  حمل کی وجہ سے عورت روزہ نہیں رکھے گی اور اس کے بعد میں صرف روزے کی قضا کرے گی اور حاملہ کو یہ رخصت دی گئی ہے کہ ایسی حالت میں روزہ نہ رکھے۔

جیسے مریض پر روزہ فرض نہیں ہے اسی طرح حاملہ عورت پر بھی روزہ فرض نہیں ہے، لیکن بعد میں جتنے بھی روزے قضاء ہوںگے وہ رکھنے ہوں گے۔ اگر حاملہ عورت کو ظن غالب ہو کہ روزہ رکھنے کی صورت میں خود اس کی جان یا بچے کی صحت کو خطرہ ہے تو وہ یہ عمل کر سکتی ہے. آئیے اس پے مزئد نظر دھراتے ہیں۔

جیسا کہ اسلام میں چند لوگوں کا روزہ چھوڑنے پر کوئی گناہ نہیں ہے ان میں وہ لوگ شامل ہیں جو سفر میں ہوں، بیمار لوگوں کو روزہ چھوڑنے کی اجازت دی گئی ہے پھر چاہے تکلیف کسی بھی صورت میں کم ہو یا زیادہ ہو، البتہ تکلیف میں اگر روزہ رکھ لیا جائے تو بے شک یہ افضل ترین کاموں میں سے ایک کام ہے۔ روزہ دو صورت میں چھوڑنے پر کوئی سزا نہیں ہے، ان میں سے پہلی صورت یہ ہے کہ اگر روزہ رکھا گیا ہے اور آپ اگر کسی بیماری میں مبتلا ہیں تو ایسی صورت میں روزہ رکھنا ایک خطرے سے بڑھ کر اور کچھ نہیں۔

اور دوسری صورت میں حاملہ خاتون روزہ رکھ سکتی ہے لیکن اگر روزہ رکھنے کی وجہ سے حاملہ خاتون بہت زیادہ تکلیف محسوس کرے یا پھر ہونے والے بچے کی جان کو نقصان کا خطرہ ہو تو ایسی حالت میں روزہ رکھنا ٹھیک نہیں ہو گا۔ 

حمل کے پہلے تین مہینوں میں خواتین کو اکثر قے کی شکایت ہوتی ہے اور ایسی صورت میں ان کے لیے روزہ رکھنا مناسبت نہیں ہے۔ 

ایک صحت مند اور نارمل انسان کی صحت اور جسم پر روزہ رکھنے سے کوئی بُرا اثر نہیں پڑتا بلکہ طبی ماہرین روزے کو انسانی صحت کے لیے مفید قرار دیتے ہیں۔ تاہم حاملہ خواتین کا روزے کے حوالے سے معاملہ ذرا پچیدہ ہے۔ لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر حاملہ خاتون کے ساتھ ایسا ہی ہو، اکثر خواتین رمضان المبارک کے فضائل و برکات سے محروم نہیں ہونا چاہیتیں اور وہ روزہ رکھنے کو ہی ترجیح دیتی ہیں۔ 

حمل کا ساتواں مہینہ آنے والے بچے کی صحت کے حوالے سے بہت خاص ہوتا ہے۔ حمل کے ساتویں مہینے میں بچے کی نشونما ہونا شروع ہو جاتی ہے اور یہ نشونما تیزی سے ہونا شروع ہو جاتی ہے جس کے لیے ماں کو بچے کی صحت برقرار رکھنے کے لیے زیادہ خوراک کی ضرورت ہوتی ہے۔ گائناکولوجسٹ کے مطابق حاملہ خواتین کو ساتویں مہینے میں روزے نہ رکھنے کا مشورہ دیتی ہے۔

لیکن حمل کے صرف پہلے تین اور ساتویں مہینہ ہی اس لحاظ سے اہم نہیں ہوتے، حاملہ خواتین کے روزے رکھنے کے حوالے سے دوسرے بھی کئی عوامل ہوتے ہیں جنہیں بہر صورت لحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔ 

گائناکولوجسٹ کے مطابق پاکستان میں خواتین کی ایک بڑی تعداد خون کی کمی کا شکار ہے اور اگر یہ حاملہ خواتین  ایسی صورتحال سے دوچار ہوں تو اس کے لیے روزہ رکھنا خطرے سے خالی نہیں ہے۔ موسم گرما کے روزے ویسے ہی طویل ہوتے ہیں اور ایسے میں حاملہ عورت کے لیے روزے رکھنا کسی خطرے سے کم نہیں ہیں۔ 

روزے میں انسانی جسم میں پانی کی کمی ہونا شروع ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے پیشاب کی نالی میں انفیکشن ہو سکتا ہے جسے یو ٹی آئی کہتے ہیں۔ اس انفیکشن کی شکایت بار بار ہو سکتی ہے جو انسانی جسم میں پانی کی کمی کا باعث بن سکتی ہے۔ سب حاملہ خواتین کو روزے میں ایک جیسی تکالیف نہیں ہوتیں ہر کسی میں تکلیف کی اقسام الگ الگ ہوتی ہیں۔ حاملہ خاتون کے خون میں شکر کی مقدار یا فشار خون بہت زیادہ ہونے کی صورت میں معالج ان خواتین کو روزے رکھنے سے روکتے ہیں۔

حاملہ خواتین کو چند باتوں کا ضرور خیال رکھنا چاہیے جن میں متوازن غذا کا لینا، ہلکی پھلکی چہل قدمی یا ورزش، زیادہ جسمانی مشقت سے گریز کرنا اور سحر و افطار کے درمیان زیادہ سے زیادہ پانی کا استعمال کرنا شامل ہیں۔

ایک صحت مند بچے کی پیدائش کے لیے ضروری ہے کہ حاملہ خاتون کو غذا میں پھل سبزیاں بالخصوص گہری سبز، نارنجی اور سرخ سبزیوں کا استعمال کرنا بے حد ضروری ہے۔ اس کے علاوہ پھلیاں جیسا کہ لوبیا، سویابین، دالیں اور چنے، اناج کی ترجیحات میں غذائیت سے بھرپور گندم، مکئی، جئی اور جو، گوشت میں مچھلی، مرغی، گائے، انڈے، پنیر اور دودھ کی بنی سب غذا کی ترجیحات شامل ہیں۔ بہتر ہے کہ روغن، چینی اور نمک کم مقدار میں استعمال کیا جائے تو ہی بہتر رہے گا۔  

حاملہ خواتین کو چاہیے کہ کیفین والے مشروبات سے پرہیز کریں اور ایسے مشروبات سے بھی پرہیز کریں جنہیں محفوظ رکھنے یا انہیں ذائقے دار بنانے کے لیے دیگر اشیا جیسے کہ رنگ اور ذائقوں کو استعمال کیا جائے۔ نشاستہ دار غذا اور ناقص خوراک زہر پھیلنے کا سبب بن سکتی ہے۔

روزہ رکھنے کے دوران حاملہ خواتین کو بہت مشکل ہو سکتی ہے جیسا کہ اکثر چکر آنا، تھکاوٹ محسوس کرنا یہ بلڈ پریشر کی علامت بھی ہو سکتی ہے ایسی صورت میں اپنی معالجہ سے رجوع کریں۔ 

اگر آپ کو متلی ہو، چکر آئیں اور دھیان برقرار رکھنے میں مشکل ہو تو یہ اس بات کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ آپ کو پانی کی کمی ہوئی ہے اور جتنی مقدار پانی کی آپ کے جسم کو چاہیے تھی اتنی مقدار پانی کی آپ کے جسم تک نہیں پہنچی ہے۔ رمضان میں کم پانی پینے کی وجہ سے گردے میں پتھری بننے کا سبب بن سکتا ہے۔ اس لیے ماہ رمضان میں ہی نہیں عورتوں کو نو مہیںے تک پانی کی مقدار کو زیادہ کرنا چاہیے اس سے ان کے بچے کی صحت پر اچھا اثر پڑے گا۔

روزے کے دوران قبض، ہاضمے کی خرابی اور تیزابیت ہو جانا عام ہے، ان مسائل سے بچنے کے لیے یہ اہم ہے کہ جن اوقات میں کھانے پینے کی اجازت ہو آپ کو چاہیے کہ آپ صحت بخش غذا کھائیں جو ماں اور بچے دونوں کے لیے مفید ہو۔

قران میں جن مقامات پر روزے کی تاکید کی گئی ہے، اسی جگہ پر اللہ نے مسافروں، مریضوں کو اس فرض کی ادائیگی کی چھوٹ بھی دی ہے۔ حاملہ خاتون روزہ توڑ دے یا اسے چوڑ دے تو اسے ایک روزے کے بد لے ایک ہی روزہ رکھنا ہوگا، اس سے کوئی کفارہ یا گناہ نہیں ہوگا اور یہ اللہ کے عدل و انصاف کے مطابق ہے۔ یہ ااس حالت میں ہے کہ بچے کو دوران حمل مکمل خوراک نہیں مل پاتی لیکین اس کے برعکس روزہ رکھ لینا افضل والا عمل ہے۔ 

حضرت محمدﷺ نے حاملہ اور دودھ پلانے والی عورتوں کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے کہ جیسا کہ آللہ تعالیٰ نے مسافر کو آدھی نماز معاف فرمائی ہے اسی طرح حاملہ اور دودھ پلانے والی عورتوں کے لیے روزہ بھی معاف فرما دیا گیا ہے۔ اس حدیث میں مسافر، دودھ پلانے والی اور حاملہ کے لیے رعایت کو ایک ہی سیاق میں بیان کیا گیا ہے مگر ان کی تفصیل میں کچھ فرق نہیں ہے۔

اس میں تو کائی شک نہیں ہے کہ مسافر کو روزہ معاف ہے مگر اس کی قضا واجب ہے جیسا کہ قرآن کریم میں بیان ہوا ہے۔ لیکن حاملہ اور بچے کو دودھ پلانے والی عورت کے متعلق علمائے امت کی چار آراء حسب ذیل ہیں۔

  • ان کے لیے فدیہ طعام ہی کافی ہے
  • ان پر نہ قضا ضروری ہے اور نہ ہی ان پر فدیہ لازمی ہے
  • یہ دونوں فدیہ طعام کے علاوہ بعد میں قضا کے طور پر روزے بھی رکھیں گی

ہمارے رجحان کے مطابق حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کے لیے جائز ہے کہ وہ روزہ ترک کردیں، اگرچہ وہ دونوں بیماری نہ ہوں کیوںکہ حدیث میں ان دونوں عورتوں کو مسافر کے طور پر بیان کیا گیا ہے ان کے لیے مزید بیان کیا گیا ہے کہ جب انہیں روزہ رکھنے میں کوئی مشقت نہ ہو انہیں روزہ رکھنا لازم اور اسے ترک کرنا حرام ہے کیونکہ روزہ چھوڑنے کے لیے ان کے پاس کوئی عذر نہیں ہے۔

ایسی حالت میں عورت کے لیے روزہ رکھنا مکروہ ہے اس بارے میں ابن عقیلؒ نے ذکر کیا ہے اگر حاملہ اور دودھ پلانے والی حمل کا بچے کو نقصان ہونے کا خطرہ ہو تو اس کے لیے روزہ رکھنا حلال  نہیں ہے، اور اگر اسے خدشہ نہ ہو تو پھر روزہ رکھنا حلال ہے۔ 

جب حامله اور دودھ پلانے والی طاقت رکھنے والی  اور چاق و چوبند اور بغیر کسی کے روزہ نہ رکھے اور نہ ہی وہ روزے سے متاثر ہو تو ایسی خواتین کے لیے حکم ہے کہ وہ بغیر کسی عذر کے روزہ رکھیں۔ عورت اگر قوی اور چست ہو تو اور روزہ رکھنے سے اسے کوئی مشقت نہ ہو تو اور نہ ہی اس کے بچے پر کوئی بُرا اثر ہو تو ایسی عورت پر روزہ رکھنا واجب ہے، اس لیے کہ روزہ ترک کرنے کے لیے اس کے پاس اس صورتحال میں کوئی عذر نہ ہوگا۔

Disclaimer: The contents of this article are intended to raise awareness about common health issues and should not be viewed as sound medical advice for your specific condition. You should always consult with a licensed medical practitioner prior to following any suggestions outlined in this article or adopting any treatment protocol based on the contents of this article.
Book Appointment with the best "Gynecologists"