ذیابیطس کی وجہ سے گردوں کی بیماری دنیا بھر میں دائمی گردوں کی بیماری کا سب سے بڑا سبب بن چکی ہے۔ اندازاً 30 سے 40 فیصد ذیابیطس کے مریض زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر گردوں کے نقصان کا شکار ہو جاتے ہیں، اور سی کے ڈی کے تقریباً 40–45 فیصد کیسز کی بنیادی وجہ ذیابیطس ہے۔ یہ بیماری گردوں کی کارکردگی آہستہ آہستہ کم کر کے آخرکار ڈائلیسس یا آخری درجے کی گردوں کی ناکامی تک لے جا سکتی ہے۔
Table of Contents
کے مختلف مراحل میں ذیابیطس کا کردار CKD
سی کے ڈی کے مراحل میں جیسے جیسے بیماری آگے بڑھتی ہے، ذیابیطس کا اثر بھی بڑھتا جاتا ہے۔ ابتدائی مراحل (درجہ ایک تا تین) میں تقریباً تیس سے پینتیس فیصد مریضوں میں ڈی کے ڈی پایا جاتا ہے۔ شدید سی کے ڈی (درجہ چار تا پانچ) میں یہ تناسب چالیس سے پچاس فیصد تک بڑھ جاتا ہے، جبکہ ڈائلیسس پر موجود مریضوں میں یہ پینتالیس سے ساٹھ فیصد تک ہو سکتا ہے۔ یہ اعداد و شمار ملک اور علاقے کے لحاظ سے مختلف ہو سکتے ہیں۔
علاقائی پہلو
جنوبی ایشیا، بشمول پاکستان، اور مشرقِ وسطیٰ میں ڈی کے ڈی کا تناسب اکثر زیادہ ہوتا ہے۔ اس کی وجوہات میں ذیابیطس کی بڑھتی ہوئی شرح، کم عمری میں ذیابیطس کا آغاز اور گردوں کی بیماری کی دیر سے تشخیص شامل ہیں۔
جدید علاجی رجحانات
گذشتہ دہائیوں میں ڈی کے ڈی کا علاج صرف بلڈ شوگر اور بلڈ پریشر کے اہداف تک محدود تھا، لیکن اب اس کا دائرہ گردوں اور دل کے تحفظ تک بڑھ چکا ہے۔ جدید طبی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ کچھ ادویات شوگر کنٹرول سے ہٹ کر بھی گردوں اور دل کے لیے اہم فوائد فراہم کرتی ہیں۔
گردوں اور دل کو فائدہ پہنچانے والی ادویات
SGLT-2 Inhibitors:
یہ ادویات CKD کی پیشرفت کو سست کرتی ہیں اور ڈائلیسس اور دل کے امراض کے خطرے کو کم کرتی ہیں۔
GLP-1 Receptor Agonists:
یہ ادویات دل کے امراض سے تحفظ فراہم کرتی ہیں اور پیشاب میں پروٹین کی مقدار کو کم کرتی ہیں۔
Finerenone (Non-steroidal MRA):
یہ سوزش اور گردوں کی فائبروسس کو کم کرتی ہیں اور گردوں کی کارکردگی میں کمی کی رفتار کو سست کرتی ہیں۔
موجودہ چیلنجز
ان ادویات کے براہِ راست تقابلی مطالعات محدود ہیں، اور تینوں ادویات کو ایک ساتھ استعمال کرنے پر طویل المدت ڈیٹا بھی محدود دستیاب ہے۔
بدلتی ہوئی کلینیکل سوچ
علاج کا رجحان اب زیادہ ہمہ جہتی رسک میں کمی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ زیادہ خطرے والے مریضوں کے لیے اب صرف ایک دوا کا انتخاب نہیں کیا جاتا بلکہ مکمل اور ہم آہنگ علاج فراہم کیا جاتا ہے۔ مقصد صرف شوگر کنٹرول نہیں بلکہ گردوں کو زیادہ سے زیادہ محفوظ رکھنا ہے۔
خلاصہ
ذیابیطس گردوں کی بیماری کا سب سے بڑا سبب ہے۔ بروقت تشخیص اور مناسب ادویات کے امتزاج سے گردوں کی ناکامی کو ٹالنے یا روکنے کا بہترین موقع ملتا ہے۔ جدید علاجی رجحانات سے مریضوں کی زندگی کے معیار اور بقائے زندگی میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔