We have detected Lahore as your city

انجائنا (angina) کے درد کا علاج

Dr. Tariq Mehmood

13 sec read

Find & Book the best "Cardiologists" near you

انجائنا کادرد ایک طرح کا سینے کادرد ہے جو دل کی طرف خون کے بہاؤ میں کمی کے آجانے سے جنم لیتا ہے۔ خون کے بہاؤ میں کمی کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آپ کے دل کے عضلات کو کافی آکسدیجن نہیں مل رہی۔ کوئی جسمانی مشقت یا ذہنی دباؤ انجائنا کا درد بڑھانے کی وجہ بنتے ہیں۔ 

انجائنا کا درد، دو طرح کا ہوتا ہے: 

  1. مستحکم انجائنا کا درد (Stable angina): اسے انجائنا پیکٹورس (angina pectoris) بھی کہتے ہیں۔  یہ عام طور پر پایا جانے والا انجائنا کا درد ہے اور اس کے لاحق ہونے کے انداز کو پہلے سے بھانپا جا سکتا ہے۔ یعنی آپ یہ جان سکتے ہیں کہ آپ نے کیا کیا تھا کہ جس کے نتیجے میں آپ کو ایسا انجائنا کا درد اٹھا تھا۔ اس درد کی وجہ دریافت کر لینے سے اس کی علامات سے بہتر طور پر نپٹا جا سکتا ہے۔ 
  2.  غیر مستحکم انجائنا کا درد (Unstable angina): یہ ایک اور طرح کا انجائنا کا درد ہے جو اچانک اٹھتا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔ یہ بالآخر دل کے دورے کی طرف لے جاتا ہے۔ 

اگرچہ مستحکم انجائنا کا درد غیر مستحکم انجائنا کا درد سے کم خطرناک ہوتا ہے لیکن اپنی وجہ سے ہونے والی تکلیف اور بیچینی میں اس سے کسی طرح بھی کم نہیں ہوتا۔ 

وجوہات

جب دل کے عضلات کو اتنی آکسیجن نہیں ملتی کہ جو ان کو اپنا کام جاری رکھنے کے لیے درکار ہو تو اینجائنا کا درد جنم لیتا ہے۔ دل کو ورزش، سخت مشقت کا کام کرنے یا کسی جذباتی دباؤ کی صورت میں زیادہ کام کرنا پڑتا ہے لہٰذا ایسی صورت میں اسے زیادہ آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے اس میں کمی آجانے سے بھی اینجائنا کا درد اٹھنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ 

بعض دیگر عوامل جیسے کہ شریانوں کا تنگ ہو جانا بھی دل تک آکسیجن کی درکار مقدار کے پہنچنے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ آپ کی شریانیں اس صورت میں تنگ ہونے لگتی ہیں جب ان کی دیواروں پر چربیلی کائی کی تہہ یا پلاک (plaque) جم جائے۔ شریانوں میں کسی خون کے لوتھڑے کی وجہ سے پیدا ہونے والی رکاوٹ دل کی طرف آکسیجن سے بھرپور خون کے بہاؤ میں کمی لاکر اینجائنا کا درد پیدا کر سکتا ہے۔ 

علامات یا انجائنا کا درد اٹھنے کی نشانیاں

انجائنا کا درد سینے کے وسط میں شدید بوجھ یا دباؤ کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ اس کی تکلیف کا احساس ایسا ہوتا ہے کہ جیسے کوئی بلا آپ کے سینے کو سکیڑ رہی ہو یا آپ کے سینے پر کوئی بہت بھاری وزن کی شئے رکھ دی گئی ہو۔ انجائنا کادرد سینے سے گردن، بازؤوں اور کندھوں کی طرف جاتا ہوا بھی محسوس ہو سکتا ہے۔ 

انجائنا کا درد دورے کی صورت میں طاہر ہوتے وقت مندرجہ ذیل علامات کا حامل بھی ہو سکتا ہے: 

  • سانس پھولنا؛ 
  •  متلی؛ 
  •  تھکاوٹ؛ 
  • غنودگی، 
  •  بے تحاشہ پسینہ آنا؛ اور
  •  بیچینی۔

انجائنا کا درد عام طور پر اس وقت شدّت اختیار کرلیتا جب آپ نے خود کو بہت زیادہ جسمانی مشقت سے تھکا لیا ہو۔ یہ علامات عارضی ہوتی ہیں اور اکثر کیسوں میں ان کا دورانیہ 15 منٹ سے زائد نہیں ہوتا۔ تاہم غیر مستحکم انجائنا کا درد اپنی علامات کے ختم نہ ہونے اور ان کی شدّت میں بتدریج اضافے کی وجہ سے اپنی خاص پہچان رکھتا ہے۔ انجائنا کا درد دن کے کسی بھی وقت اُٹھ سکتا ہےتاہم علی الصبح اس کے اٹھنے کے امکانات زیادہ ہو تے ہیں۔ 

انجائنا کا درد اٹھنے کے خطری عوامل یا رسک فیکٹرز (Risk Factors) 

مندرجہ ذیل خطری عوامل انجائنا کا درد اٹھنے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے ہیں: 

  •  وزن کا زیادہ ہونا؛ 
  •  پہلے سے دل کی کسی بیماری کا شکار ہونا؛ 
  •  خون میں کولیسٹرول کی مقدار کا زیادہ ہونا؛ 
  •  بلڈ پریشر کا زیادہ ہونا، 
  •  ذیابیطس کا شکار ہونا؛ 
  •  سگریٹ  نوشی؛ اور 
  •  ورزش نہ کرنا۔

بہت زیادہ کھانا، بہت زیادہ جسمانی مشقت اور شدید گرم یا سرد موسم بھی بعض افراد میں انجائنا کا درد بڑھانے کا خطری عوامل ثابت ہو سکتے ہیں۔ 

تشخیص

انجائنا کا درد مندرجہ ذیل طبی تشخیصی ٹیسٹوں کے ذریعے پہچانا جاتا ہے۔ آپ کے ڈاکٹر صاحب آپ کے جسمانی معائنے اور میڈیکل ہسٹری کے بارے میں جاننے کے بعد اگر ضروری خیال کریں تو مندرجہ ذیل ٹیسٹوں کا کیا جانا تجویز فرما سکتے ہیں: 

  •  الیکٹرو کارڈیو گرام یا ای سی جی (Electrocardiogram or ECG) اس ٹیسٹ کی مدد سے دل کی برقی کیفیّت کو ماپا جاتا ہے اور دل کی دھڑکن میں ہم اہنگی کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ 
  •  اینجیو گرافی (Angiography): یہ ایک طرح کا ایکسرے ہوتا ہے جس سے آپ کے ڈاکٹر صاحب آپکی خون کی نالیوں کی اندرونی صورتحال اور ان میں سے خون کی گردش کا جائزہ لیتے ہیں۔

انجائنا کا درد محسوس کرنے والے مریض کے مندرجہ بالا ٹیسٹوں کی مدد سے یہ پتہ چلایا جاتا ہے کہ کیا زیرِ علاج شخص کا دل درست کام کر رہا ہے اور کیا اس کی خون کی نالیوں میں کوئی رکاوٹ تو نہیں پائی جاتی؟ 

انجائنا کا درد محسوس کرنے والے مریض کے مندرجہ بالا ٹیسٹوں کے علاوہ اس کا سٹریس ٹیسٹ (stress test) اور خون میں کولیسٹرول اور سی ریئکٹیوّ پروٹین یا سی آر پی (C-reactive protein or CRP) کی موجود مقدار معلوم کرنے کا ٹیسٹ بھی کیا جا سکتا ہے۔ 

انجائنا کا درد دور کرنے کے طریقے

انجائنا کا درد دور کرنے کے لیے اس کا علاج اپنے طرزِ زندگی کے تبدیل کرنے اور دوا لینے یا سرجری کے ذریعے کیا جاتا ہے اہم بات یہی ہے کہ جیسے ہی آپ انجائنا کا درد محسوس کریں تو فوری طور پر اپنے ڈاکٹر سے رابطہ کریں اور ان کے بتائے گئے علاج پر عمل کریں۔

Disclaimer: The contents of this article are intended to raise awareness about common health issues and should not be viewed as sound medical advice for your specific condition. You should always consult with a licensed medical practitioner prior to following any suggestions outlined in this article or adopting any treatment protocol based on the contents of this article.

Dr. Tariq Mehmood - Author Prof. Dr. Tariq Mahmood Malik is a cardiologist of international stature and fame. Prof. Dr. Tariq Mahmood Malik moved back to Pakistan from USA; during the peak of his career in 1993. He graduated from King Edward Medical College and went to USA for higher education and training. Academically he went as high as high as one can go;Three Board Certifications and Fellowship to all prestigious professional colleges i.e. American College of Cardiology, American college of Physicians, American College of Chest physicians and Clinical Council of American Heart Association. He distinguished himself in research and for his contributions to medical science for management of Heart arrhythmia, he received The Recognition award from the National Heart institute of America.
Best Pediatrician in Pakistan


Book Appointment with the best "Cardiologists"