We have detected Lahore as your city

بچوں کی صحت پر ویڈیو گیمز کھیلنے کے منفی اثرات

Dr. Rizwan Gohar

5 min read

Find & Book the best "Child Specialists" near you

بچوں میں ہر وقت کھیلی جانے والی وڈیو گیمز کے منفی اثرات بچوں کی جسمانی اور دماغی صحت دونوں پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ بچے جتنا زیادہ وقت وڈیو گیمز میں گزاریں گے اتنا ہی ان میں دوسری سرگرمیوں میں اپنی کارکردگی کی صلاحیت کو  دکھانے کے عوامل کم ہوں گے نہ وہ باہری کسی کھیل میں اچھے ہونگے اور نہ ہی پڑھائی پر اچھے سے دھیان دے سکیں گے۔

اس کے علاوہ بہت زیادہ وڈیو گیمز کھیلنا وقت کے ضیا کے ساتھ ساتھ زندگی کے دیگر اہم پہلو بھی نظر انداز ہو سکتے ہیں جیسا کہ سب سے پہلے بچوں کی صحت جس میں نظر کی کمزوری شامل ہے، بچوں کا زیادہ گیمز میں وقت دینا ان میں چڑ چڑا پن پیدا کر سکتا ہے۔ بہت زیادہ وڈیو گیمز کھیلنا خراب سماجی زندگی، اسکول کے کام، کم پڑھنا، وزن کا بڑھنا، دیگر دلچسپ مشاغل سے دورے بنائے رکھنے کا باعث بن سکتی ہیں۔

بچے اور نوجوان دن رات کا بیشتر وقت وڈیو گیمز کھلینے میں صرف کر رہے ہیں۔ یہ پہلو لوگوں کی صحت کے لیے مضر صحت ثابت ہو رہا ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ وڈیو گیمز پر گھنٹوں بیٹھے رہنے سے نہ صرف آپ کے دماغ پر اثر پڑتا ہے بلکہ اس کے ساتھ آپ کی جسامی صحت بھی متاثر ہوتی ہے۔ کسی بھی کام کی زیادتی نقصان دہ ہ ہوتی ہے اس میں صرف وڈیو گیمز ہی شامل نہیں ہیں۔

۔1 صحت اور جسم سے متعلق مسائل پیدا ہوسکتے ہیں

موبائل فون کا بہت زیادہ استعمال کرنے والے بچوں میں جان لیوا بیماری کینسر کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ ایک ادارے سے اس بات کی تحقیق ہوئی ہے کہ موبائل فون سے نکلنے والی مقناطیسی شعاعیں بالغوں کے مقابلے میں بچوں کو بہت بُری طرح سے متاثر کر سکتی ہیں یہی وجہ ہے کہ آج کے زمانے میں ہر دوسرے بچے کو نظر کی عینک لگی دکھائی دیتی ہے۔

نظر کی خرابی کوئی وبائی مرض نہیں ہے بلکہ یہ انسان کا خود کا ایک ہیدا کردہ مسلہ ہے جس میں سب سے بڑا کردار موبائل فونز اور دیگر الیکٹرانک چیزوں کا ہے۔ وڈیو گیمز کی وجہ سے بچوں میں نیند کی کمی، موٹاپا، ہاتھوں پاؤں کی کمزوری، سر میں درد اور بے حسی دن با دن بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ 

کمپیوٹر سکرین کے سامنے ایک ہی طریقے سے لمبے عرصے تک بیٹھنے سے بچے کی  صحت پر سنگین اثرات پڑ سکتے ہیں، جیسے مستقل درد شقیقہ اور بازو اور کندھے کے مسائل و غیره ان مسائل میں کھنچاؤ کے پر جانے کی وجہ سے دل کی بیماریاں ہو سکتی ہیں۔

جتنی آپ کم حرکت اور کم ورزش کریں گے آپ کا جسم اتنا ہی  تکلیف میں رہے گا۔ وزن میں اضافہ، پٹھوں میں کمی، دردناک جوڑوں، اور خراب کھانسی یہ سب عام مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ بہت زیادہ موٹاپا دل کی بیماری اور دل سے متعلق دیگر مسائل کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

موٹاپے جیسی بیماری کی وجہ سے دیگر  خطرناک بیماریاں پیدا ہو سکتی ہیں اس لیے ضروری ہے کہ بچے کو وڈیو گیمز کے ساتھ جسمانی سرگرمیاں بھی کروائی جائیں اس سے بچے کی نشو و نما بھی ہو گی اور وہ ایک صحت مند زندگی بھی گزار سکے گا۔

۔2 اعصابی نظام اور دماغی حس کمزور ہونے لگتی ہے

جب کوئی بچہ وڈیو گیمز کھیلتا ہے تو اسکرین سے نکلنے والی چمکدا اور تیز شعاعیں بچے کے اعصابی نظام اور اس کی دماغی حس کو نقصان پہنچتا ہے۔ جب بچہ بہت زیادہ وقت وڈیو گیمز میں گزارنے کا عادی ہو جائے گا پھر جب اسے منع کیا جائے کہ وڈیو گیمز میں اتنا وقت نہ دے تو وہ چڑ چڑا ہونے کے ساتھ اس میں دوروں اور درد شقیقہ جیسی بیماریاں بھی پیدا ہونے کا اندیشہ ہو سکتا ہے۔

جب بچہ بہت زیادہ وقت  ٹکنالوجی کا استعمال کرے گا تو اس کی دماغی اور اعصابی دونوں حالتیں خراب ہو سکتی ہیں۔ بچہ کہیں بھی فیملی کے ساتھ جائے گا تبھی بھی ہر وقت اس کے ذہن میں وڈیو گیمز ہی چل رہی ہونگی ان گیمز کی لت پڑ جاتی ہے جس سے جان چھُرانا آسان نہیں ہوتا اس لیے والدین کو چاہیے کہ بچے پر نظر رکھیں اور جو بھی وہ کام کر رہا ہو اس کی ایک خاص روٹین بنائیں اور روٹین پر بچے کا عمل کروائیں تا کہ وہ آپ کا بچہ ایک صحت مند زندگی گزار کر اپنے اچھے مستقبل پر دھیان دے۔

۔3 وڈیو گیمز کھیلنے کی وجہ سے بچوں کا رویہ جارحانہ ہوسکتا ہے

اگر آپ کا بچہ جو ویڈیو گیمز کھیلتے ہوئے زیادہ وقت گیمز میں ہی گزار رہا ہے تو جب اس بچے کو گیمز کھیلنے سے روکا جائے تو اس کی وجہ سے وہ اپنے رویے میں بے صبری اور جارحانہ رویہ اختیار کرتے ہیں۔ جب بچے یہ دیکھتے ہیں کہ چیزیں ان کے منصوبے کے مطابق نہیں چل رہی ہیں تو وہ  سب کے بارے میں جارحانہ خیالات رکھنا شروع کر دیتے ہیں جو پریشان کن رویے میں ظاہر ہو سکتے ہیں اور والدین کے لیے ایک بڑے مسلے میں بھی تبدیل ہو سکتا ہے۔

ویڈیو گیمز کھیلنا کوئی بری چیز نہیں ہے لیکن بطور والدین آپ کو اپنے بچوں کے لیے صحیح ویڈیو گیمز کا انتخاب کرنا چاہیے۔ اس کے علاوہ، آپ کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ آپ کے بچے  گیمز کے عادی نہ ہوں۔ 

وڈیو گیمز میں زیادہ تر تشدد ہی تو دیکھایا جاتا ہے اس لیے بچے جو دیکھیں گے ویسا ہی رویہ اختیار کریں گے جو ان کی صحت کو بھی خراب کر سکتا ہے۔ بچے معصوم ہوتے ہیں اس لیے بڑوں کو بھی چاہیے کہ اگر وہ وڈیو گیمز کے شوقین ہو ہی گئے ہیں تو اپنے بچوں کے لیے اچھی وڈیو گیمز کا انتخاب کریں جس سے بچوں کو سبق سیکھنے کو ملے جس سے بچے مثبت سوچنا شروع کر دیں نہ کہ بد تمیزی کا رویہ اختیار کر کے سب کو پریشیان کرنے لگیں۔

کمپیوٹر گیمز کثرت سے کھیلے جانے کی وجہ سے مختلف نفسیاتی بیماریاں بھی پیدا ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔ خاص طور پر بچے زیادہ تر پریشانی، تناؤ یا یہاں تک کہ ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ آج کے وڈیو گیمز حد سے زیادہ تشدد کو فروغ دیتے ہیں جو بچے کو زیادہ جارحانہ بنا سکتے ہیں۔

۔4 اسکولوں میں کارکردگی خراب ہونے لگتی ہے

ویڈیو گیمز کھیلنے سے بچے کی تعلیم پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ ہر چار بچوں میں سے، ویڈیو گیمز کھیلنا ایک بچے کی تعلیمی کارکردگی میں مداخلت کرتا ہے۔ کچھ بچے اپنا زیادہ تر وقت گیمز کھیلنے میں اس حد تک گزارتے ہیں کہ اپنے ہوم ورک کو ہی بھول جاتے ہیں اس طرح بچوں کو ہوم ورک کرنے کا وقت بھی نہیں بچتا اور وہ اگلے دن ٹیچرز سے ڈانٹ کھاتے ہیں۔ دوسرے طرف ایسا بھی ہوتا ہے کہ بچے جان بوجھ کر اپنا سارا وقت گیم کھیلنے میں لگا دیتے ہیں تاکہ وہ پڑھائی نہ کریں ہوم ورک سے بچ جائیں۔

اپنی پڑھائی کو سنجیدگی سے نہ لینے کی وجہ سے بچوں اکثر اپنے تعلیمی کام میں خراب کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اس سے ان کی زندگی متاثر ہوتی ہے کیونکہ تعلیم کے بغیر ان کے لیے کوئی اچھی نوکریاں نہیں ہیں کوئی اچھا مستقبل نہیں ہے۔ مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ اسکول میں خراب کارکردگی کھیل کھیلنے میں وقت گزارنے کے براہ راست متناسب ہے۔

جتنا زیادہ وقت  بچے وڈیو گیمز کھیلنے میں ہی گزار دیں گے اتنی ہی اسکول میں بچوں کی کارکردگی خراب یا سست ہو گی۔ ویڈیو گیمز کے عادی بچے سکولوں میں کم درجے کے نمبرز حاصل کرتے ہیں۔ بچے جارحانہ رویوں پر عمل کرنے میں بھی کافی وقت صرف کرتے ہیں جیسے کہ اپنے اساتذہ سے بحث کرنا اور لڑائی کرنا۔ کچھ طلباء یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ان کی ویڈیو گیم کی عادتیں اسکول میں ان کی کارکردگی کو متاثر کرتی ہیں۔

۔5 بچوں کو وڈیو گیمز کی بُری لت لگ جاتی ہے

 کسی بھی کام یا چیز کی لت کی تعریف کی جائے تو یہ ایسا یہ کہ اس کام کو مسلسل کرنے کے منفی نتائج کے باوجود اس کام کو کرتے جانا ہے۔ کچھ لوگ جو دیگر عام سرگرمیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اسکرین ٹائم یا ویڈیو گیمز میں مگن رہتے ہیں وہ اس تعریف کو مکمل طور پر پورا کرتے نظر آتے ہیں۔

دوسرے کاموں پر غور کرنے کے بجائے مسلسل کمپیوٹر گیمز کھیلنا بچوں کو بہت مہنگا پڑ سکتا ہے بچے وڈیو گیمز کھیلنے کے عادی بھی ہو سکتے ہیں۔ خود پر قابو  رکھنے والے لوگ اکثر کمپیوٹر گیمز کے عادی ہو جاتے ہیں۔ خاص طور پر، بچے اپنی تعلیم کو ترجیح دیے بغیر گیم کھیلنے پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ کھیلوں میں گزارے گئے وقت کو کچھ نتیجہ خیز کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

۔6 بچوں کی سماجی مہارتوں سے دوری ہونے لگتی ہے

کمپیوٹر گیمز کو بہت زیادہ اہمیت دینا آپ کو آس پاس کے لوگوں سے دور کر سکتا ہے۔ ایسے بچے اپنے قریبی دوستوں اور رشتوں کے ساتھ قت گزارنے میں ناکام ہو سکتے ہیں۔ کمپیوٹر گیمز کی لت سماجی مہارتوں کے معیار اور مقدار کو متاثر کر سکتی ہے۔

دوسرے الفاظ میں، کمپیوٹر گیمز کی لت جتنی زیادہ ہوگی، سماجی مہارتیں اتنی ہی کم ہوں گی۔ کمپیوٹر گیمز کے عادی افراد میں سماجی مہارتیں کم ہوتی ہیں۔ وڈیو گیمز کی لت بچوں کو تنہائی پسند بھی بنا دیتی ہے اور بدقسمتی سے اس سے جو سماجی بے چینی  پیدا ہوتی ہے وہ بہت ساری بُرائیوں کو جنم دیتی ہے جس میں سب سے پہلے تو اپنوں سے دوری شامل  ہے۔ 

Disclaimer: The contents of this article are intended to raise awareness about common health issues and should not be viewed as sound medical advice for your specific condition. You should always consult with a licensed medical practitioner prior to following any suggestions outlined in this article or adopting any treatment protocol based on the contents of this article.

Dr. Rizwan Gohar - Author Dr. Rizwan Gohar is a well regarded pediatrician in Lahore. You can book an appointment with him using oladoc.
Book Appointment with the best "Child Specialists"