We have detected Lahore as your city

افطاری میں پیاس بجھانے کے لیے 10 بہترین مشروبات

Dr. Mehak Zafar

4 min read

Find & Book the best "Nutritionists" near you

رمضان میں روزے رکھنے کی وجہ سے پیاس کی شدت میں اضافہ ہونے لگتا ہے جس کی وجہ سے جسم میں پانی کی کمی بھی ہو سکتی ہے۔ اس لیے رمضان میں مختلف مشروبات کو استعمال کر کے آپ رمضان کو بہترین طریقے سے گزار سکتے ہیں۔

افطاری کے وقت پانی استعمال کرنے کے فائدے 

  • افطاری کا آغاز دو گلاس پانی سے کریں، ایسا کرنے سے رات سے لے کر سحری تک کم سے کم ڈیڑھ لیٹر چھ کپ پانی پینے کا ہدف ضرور لیں۔ 
  • افطاری کے وقت پانی ایک ہی وقت میں مت پئیں اس سے آپ کے گردوں پر بوجھ  پڑتا ہے۔ پانی کو اپنے اوقات میں پینا زیادہ مناسب ہو گا جیسا کہ اگر آپ کو پسینہ آیا ہے، گرمی لگ رہی ہے یا پھر آپ ورزش سے فارغ ہوئے ہیں تو آپ کو ٹھنڈا پانی پینا چاہیے، ٹھنڈا پانی جسم کی کمی کو پورا کرنے کے ساتھ جسم کو تروتازہ بھی بنا دیتا ہے۔
  • اگر آپ گرم پانی کا انتخاب کرتے ہیں تو گرم پانی آپ کی پیاس کو کم کرنے میں مدد کرے گا اور آپ کے ہاضمے میں مدد کرے گا۔ گرم پانی خون کی گردش میں بہتری لاتا ہے جو پٹھوں کے آرام اور قبض سے بچنے کے لیے بے حد مفید ہے۔
  • اس کے علاوہ آپ پانی کا استعمال جب بھی پینے کے لیے کریں یہ آپ کے لے مفید ہی ہے آپ کو فائدہ ہی پینچائے گا اس کا کوئی نقصان نہیں ہے، پانی کا صحیح استعمال کرنے کے لیے پانی کا ایک جدول بنا لیں، پانی کو کچھ وقفے کے ساتھ سارا دن میں پئیں۔ 

پانی کے علاوہ یہ کچھ مشروبات ہیں جو رمضان میں افطار کے لیے بہترین ہیں۔

۔1 رمضان کے روایتی مشروبات

رمضان میں جہاں لوگ پانی اور جوس کا بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں وہیں روح افزا جیسے روایتی مشروبات کا استعمال بھی عام ہے۔ یہ میٹھا مشروب پیاس بجھانے اور جسم کو ٹھنڈا کرنے میں مدد کرتا ہے۔

روح افزا کے ساتھ تخم ملنگا کا استعمال بھی رمضان میں کافی عام ہے۔ اس کے علاوہ لوگ ٹينگ اور مینگو اسکواش جیسے فوری مشروبات بھی استعمال کرتے ہیں۔ یہ فوری جوس آسانی سے چند منٹوں میں بنائے جا سکتے ہیں اور افطاری میں استعمال ہو سکتے ہیں۔

۔2 دودھ سے بنے مشروبات کا استعمال کریں 

 رمضان میں دودھ یا دہی کو بطور مشروب استعمال کرنا بھی ایک اچھا عمل ہو گا۔ جہاں یہ جسم کو آبیدہ بنانے میں مدد دیتے ہیں وہاں ہمیں ان سے کیلشیم، معدنیات اور پروٹین بھی حاصل ہوتا ہے جو اس ماہ مقدس میں روزے رکھنے کی وجہ سے ہمیں نہیں ملتی۔ شدید پیاس کو بجھانے میں پانی کے مقابلے میں دودھ یا دہی زیادہ مفید ثابت ہوتے ہیں۔

ان میں موجود کاربوہائیڈریٹس اور الیکٹرولائٹس جسم میں پانی کی کمی کو پورا کرتے ہیں، یہیوجہ ہے کہ اکثر افراد افطار کے وقت دودھ والے شربت کو استعمال کرتے ہوئے افطار کرتے ہی، جس سے نہ صرف ان کی پیاس فوری بجھ جاتی ہے بلکہ روزے دار کے جسم میں ہونے والی پانی کی کمی بھی پوری ہو جاتی ہے۔ اسی طرح سحری میں بھی پراٹھے اور مصالحے دار کھانے وغیرہ کھانے کی

مزیدار دودھ سوڈا بنانے کے لیے آپ تخم ملنگا اور اسپرائٹ کو بھی دودھ میں ملا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ افطار میں اپنے کھانے کے ساتھ میٹھی یا نمکین لسی پی سکتے ہیں۔

۔3 پھلوں کا ملک شیک بنا کر پئیں

اکثر پھلوں کا استعمال جسم میں پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے بہت مفید ہوتا ہے، لیکں اگر ان پھلوں کا رس نکال لیا جائے یا پھر ان کو دودھ یا پانی میں ملا کر ان کا شیک بنا لیا جائے تو اس کے اثرات بھی جسم پر بہت اچھے پڑتے ہیں۔

سحر و افطار دونوں اوقات میں پھلوں کا ملک شیک بنا کر پینا بہت مفید ہے کیوں کہ یہ پھل غذائیت سے بھرپور ہوتے ہیں۔ عام طور پر تربوز، اسٹرابڑی، کیلے، اورنج وغیرہ ایسے پھل ہیں جن کا ملک شیک بنا کر پینے سے روزے دار کی صحت کے لیے اچھا ہے۔

آپ کیلے اور کھجور کا ملک شیک بھی بنا سکتے ہیں۔ یہ غذائیت سے بھرپور مشروب مزیدار بھی ہے اور آپ کی صحت کے لیے بھی اچھا ہے۔

۔4 جنجر لائم فز بنائیں

یہ مشروب ان لوگوں کے لیے بہترین ہے جو اپنی صحت کو بہت ترجیج دیتے ہیں۔ اس مشروب میں شامل ادرک پیٹ پھولنے اور گیس کا عارضی علاج ہے۔

یہ مشروب صرف تین اجزا سے مل کر بنتا ہے جن میں ادرک کا جوس، کنور پروفیشنل لائم سیزنینگ پاؤڈر اور اس میں  شفاف پانی ملائیں تو یہ مشروب تیار ہو جاتا ہے۔ اس مشروب میں موجود اجزا نہ صرف ذائقے کے لحاظ سے مفید ہیں بلکہ یہ پیٹ کی بھی حفاظت کرتے ہیں۔

۔5 ستو ملا شربت پئیں

مصنوعی مشروبات پینے سے پیٹ میں بہت زیادہ گیس بننے لگتی ہے اور ایسے مشروبات کا استعمال گردوں اور جسم کے باقی آرگنز کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ گرمی کے اس موسم میں روزہ افطاری کے لیے ایک بہترین مشروب ستو اور شکر ڈال کر ڈال  کر پئیں۔

ستو تاثیر میں نہایت ٹھنڈے ہوتے ہیں۔ گرمی کے موسم میں روزے ہونے کی وجہ سے روزہ افطار ستو اور شکر ملے پانی سے کرنا چاہیے۔ اس مشروب کے استعمال سے نہ صرف پیاد کم ہو جاتی ہے بلکہ روزے کی صورت میں جو دن بھر کھانے کا وقفہ ہوتا ہے اس کے نتیجے میں جو غذائی کمی ہو جاتی ہے وہ رفع ہونے لگتی ہے اور اس کے ساتھ جسم میں پانی کی کمی بھی نہیں ہوتی۔

ستو کا شربت پیاس کو کم کر کے ہمارے جسم کو تسکین پہنچاتا ہے اور طبعیت کو فرحت بخشتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ شربت ہاتھ پاؤں کی جلن کو ختم کرتا ہے اور گرمی کے اثرات سے محفوظ رکھتا ہے۔

۔6 شربت بادام پئیں 

شربت بادام رمضان میں پینے سے آپ کی پیاس کی شدت کو بجھانے کے ساتھ ساتھ آپ کی غذائی ضروریات کو بھی پورا کرتا ہے۔ اس شربت کو بنانا بھی نہایت آسان ہے۔

دودھ میں حسب پسند بھیگے اور چھلے ہوئے بادام لیں، اس میں چٹکی بھر زعفران شامل کریں اور پھر سبز الائیچی کے چند دانے ڈالیں اور اس میں حسب ذائقہ چینی ڈال کر اس مکسچر کو گرائینڈ کر لیں اور پھر اس مشروب کو سحر و افطار میں مزے سے پئیں۔

۔7 شہد کا پانی پینا مفید ہے

شہد کو پانی کے ساتھ ملا کر پینا توانائی کے علاوہ جسم کی اضافی چکنائی کو بھی ختم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس مشروب کو تیار کرنا نہایت آسان ہے، نیم گرم پانی میں حسب پسند شہد ملائیں اور اسے اچھی طرح سے مکس کریں پھر اس میں تھوڑی سی برف شامل کریں، آپ کا ہنی واٹر تیار ہے جو نہ صرف رمضان کے مہینے میں بلکہ اس کو اپنی روٹین میں شامل کرنے سے آپ کو نہایت فائدے دے مہیا کر سکتا ہے۔

۔8 ملٹھی اور املی سے بنے مشروبات استعمال کریں

ملٹھی اور املی سے بنے مشروبات جسم سے تیزابیت کے اخراج میں مدد سیتے ہیں۔ لیکن یہ یاد رکھیں کہ بلند فشار خون کے حامل افراد کے لیے ملٹھی اور املی سے بنے مشروبات کا استعمال موزوں نہیں ہے۔

۔9 خوبانی کا جوس بنا کر پئیں 

خوبانی کا جوس جو کہ قمرالدین کے طور پر بھی جانا جاتا ہے یہ آنتوں کی حرکت اور ان کی صفائی میں مدد کرتا ہے۔ متزکرہ مشروبات بہت زیادہ میٹھے اور حراروں پر مشتمل ہوتے ہیں اس لیے ایسے مشروبات کو اپنے جسم کی مناسبت سے استعمال کریں۔

۔10 چقندر کا جوس بنا کر پئیں

ماہ رمضان میں چقند کا جوس بنا کر پینے سے پیاس کا احساس کم ہونے لگتا ہے۔ اس کے جوس کا ایک کپ عام طور پر سو کیلریز اور پچس گرام کاربوہائیڈریٹس پر مشتمل ہوتا ہے۔

چقندر فولیٹ، پوٹاشیم، کیلشیم، ریشے اور دافع تیزابیت اور نائٹریس کا خزانہ ہے۔ یہ نہ صرف جسم میں پانی کی مقدار کو پورا کرنے میں مدد دیتے ہیں بلکہ بلڈ پریشر کم کرنے اور سٹیمنا بڑھنانے میں بھی مفید ثابت ہوتے ہیں کیوں کہ ان سے گردش خون اور آکسیجن کی فراہمی میں بہتری ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

Disclaimer: The contents of this article are intended to raise awareness about common health issues and should not be viewed as sound medical advice for your specific condition. You should always consult with a licensed medical practitioner prior to following any suggestions outlined in this article or adopting any treatment protocol based on the contents of this article.

Dr. Mehak Zafar
Dr. Mehak Zafar - Author Dr. Mehak Zafar is a very well regarded Dietitian and has a number of certifications under her belt, including Doctor of Nutrition Sciences (DNS) as well as 4 years of experience in her field.
Book Appointment with the best "Nutritionists"