کرونا کی وباء کے دوران سماجی فاصلے کی اہمیّت

Dr. Hira Tanveer

5 sec read

دنیا نے آج تک کروناوائرس سے پھیلی موجوددہ وباء کی طرح کی وباء کا سامنا نہیں کیا ہے۔ یہ تو 2009 میں پھیلنے والی سوائن فلو کی وباء سے بھی کہیں بڑھ کر ہے۔ ماہرین کے مطابق اس وباء کے تھم جانے یا جیسا کہ اٹلی جیسے ملک میں دیکھا گیا ہے ہے سست پڑ جانے کے ہی، امکانات نہیں پائے جاتے۔ پھر بھی، ہمارے جیسے ممالک، جہاں یہ وباء ابھی اتنا زیادہ نہیں پھیلی ہے، سماجی فاصلہ رکھنے کی احتیاطی تدبیر سے مستفید ہو سکتے ہیں۔

سماجی فاصلہ کیا ہے؟ 

سماجی فاصلہ بنیادی طور پر انسانی میل جول کے محدود کردیے جانے اور اپنے آپ کو دوسرے لوگوں سے کم از کم 6 فٹ کے فاصلے پر رکھنے کا نام ہے۔ چونکہ کرونا وائرس ہوا میں موجود ہوتا ہے لہٰذا اس کو پھیلنے سے روکنے کی ایک بہترین حکمت عملی یہی ہوگی کہ ہوا کی شراکت کو کم سے کم کیا جائے۔ اس پر عمل کے لیے ضروری ہو گا گھر سے کام کیا جائے، سماجی تقریبات منعقد نہ کی جائیں، ایسے پبلک مقمات جہاں اکثر بھیڑ لگی رہتی ہو، بشمول پبلک ٹرانسپورٹ، پر جانے سے گریز کیا جائے اور غیر ضروری سفر سے بھی پرہیز کیا جائے۔ 

سماجی فاصلے کا مقصد لوگوں کے وائرس کی زد میں آنے کے امکان میں کمی لانا اور آپسی رابطے میں ممکنہ حد تک کمی لانا ہے۔ یہ مقصد کسی کی بھی زندگی کو خطرے میں ڈالے بغیر روزمرہ کے انتہائی ضروری فرائض کی ادائگی پر مشتمل ہے۔ اس کے ذریعے نہ صرف یہ کہ خود وائرس کے حملے سے بچا جا سکتا ہے بلکہ دوسروں کو بھی اس سے بچایا جا سکتا ہے۔ 

کن افراد کو سماجی فاصلہ رکھنے کی سب سے بڑھ کر ضرورت ہے؟ 

سماجی فاصلے کی سب سے بڑھ کر ضرورت ایسے افراد کو ہوتی ہے جو وائرسی انفیکشن میں مبتلاء ہونے کا زیادہ امکان رکھتے ہوں جیسے کہ معمر افراد، کینسر کے مریض، جنکا مدافعتی نظام کمزور ہو اور بعض مخصوص ادویات جیسے کہ سٹیرائڈ لینے والے افراد۔ مزید برآں، پھیپھڑوں کے دائمی مرض، ذیابیطس (شوگر)، گردوں کی بیماری، میں مبتلاء افراد، حاملہ خواتین اور اعصابی مریض بھی اس وائرس کے انفیکشن کے شکار ہونے کے زیادہ خطرے کی زد میں ہوتے ہیں۔ 

زیادہ خطرے کی زد سے مراد یہ ہوتی ہے کہ اگر وباء بہت زیادہ پھیل جائے تو اس کے شکار عام لوگوں کی نسبت ان افراد کو اپنے مدافعتی نظام کے کمزور ہونے کی وجہ سے اس بیماری کی شدّت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس لیے سماجی فاصلہ ایسے افراد کی جانیں بچانے کی ایک تدبیر ہے۔ 

کیا جوانعمر لوگ محفوظ ہیں؟ 

یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ کسی ایک فرد کی صحت کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ ان گنت لوگوں کی صحت کو متاثر کرنے والی وباء ہے۔ گو اس میں کوئی شک نہیں کہ معمر افراد اس کا شکار ہونے کے زیادہ خطرے کی زد میں ہیں لیکن جوانعمر افراد بھی اس سے کوئی زیادہ محفوظ نہیں ہیں۔ 

کرونا وائرس کے کسی کے جسم میں داخل ہونے کے بعد اسے بیمار کر سکنے کے قابل رہنے کا عرصہ 14 دن ہے۔ یعنی اگر وہ میزبان جسم کو بیمار کر پائے تو اس کی علامات 14 دن کے اندر ظاہر ہو جائیں گی۔ لیکن اگر وہ اس میزبان جسم کو، اس کی قوتِ مدافعت طاقتور ہونے کی وجہ سے، بیمار نہ بھی کر پائے تو وہ یہاں سے کسی دوسرے کے جسم میں منتقل ضرور ہو سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس سے پہلے کہ آپ کے جسم میں وائرس کے موجود ہونے کی علامات ظاہر ہوں آپ وائرس کے، اپنے اہلِ خانہ یا قریبی رابطے میں رہنے والوں میں، منتقل ہونے کا سبب بن سکتے ہیں۔ 

انفیکشن زدہ افراد اکثر اس بات کو کوئی اہمیت نہیں دیتے کہ وہ انفیکشن کو اپنے اندر لیے پھر رہے ہیں اور اس کی منتقلی کا باعث بن سکتے ہیں۔ گو جوانعمر افراد کے لیے سماجی فاصلے کی پابندی ایک مشکل کام ہوتا ہے لیکن عام لوگوں کی صحت کی حفاظت کے حوالے سے یہ ایک لازمی امر ہے۔ 

اس وباء کے زمانے میں، اجتماعات میں لوگوں کی تعداد کو محدود رکھنااور سماجی میل جول کے لیے گھر سے باہر نہ نکلنا ہمارے جیسے ملک کے لوگوں کے لیے ایک بہت ضروری بات ہے۔ وباء پر قابو پانے میں حکومت کو عوام کے مکمل تعاون کی ضرورت ہے۔ 

کیسے محفوظ رہا جا سکتا ہے؟

کسی بہت ہی نگزیر ضرورت جیسے کہ روزمرہ گھریلو ضرورت کا سودا سلف لینے یا کوئی دوا خریدنے کے لیے گھر سے باہر نکلنے میں تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن اس دوران بھی دوسرے افراد سے قربت سے اجتناب کریں۔ بہتر ہو گا کہ ایسے وقت جایا جائے جب سٹور پر زیادہ رش نہ ہوتا ہو۔ جیسے کہ علی الصبح یا رات گئے۔ دوسروں سے آپ کا فاصلہ کم از کم 6 فٹ ہونا چایے۔ گھر سے جاتے وقت اس امر کو یقینی بنائیں کہ آپ نے ماسک پہنا ہو اور اپنے اس سارے دورے کے دوران ہاتھوں کو الکحل ملے جراثیم کش محلول یعنی سینی ٹائزر سے صاف کرتے رہیں۔ 

اپنے آپ اور دوسروں کو کرونا وائرس سے محفوظ رکھنے کی سب سے اہم تبیر، 20 سیکنڈ تک ہاتھ دھونے، خاص طور پر جب آپ باہر سے گھر آئیں، کھانا کھانے سے پہلے یا کسی بھی ممکنہ طور پر انفیکشن زدہ ہونے والے شخص سے ملنے کے بعد، کے معمول کا اپنانا ہے۔ 

جانز ہوپکینز یونیورسٹی کی ایپیڈیمیالوجسٹ (وبائی امراض کے پھیلاؤ کی سائنس کی ماہر) ڈاکٹر کیٹلین ریورز (Dr. Caitlin Rivers) نے تو یہاں تک تجویز کیا ہے کہ آپ کو اپنی شاپنگ کے دوران اپنا موبائل فون بھی استعمال نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس کی سکرین کی سطح بھی وائرس کے پھیلاؤ میں مددگار ہو سکتی ہے۔ اگر آپ وباء کے شکار ہونے کے خطرے کی زد میں ہوں آپ کو گھر سے باہر نکلنا بالکل ترک کر دینا چاہیے۔ آجکل گھر تک ضروریاتِ زندگی پہنچانے کی خدمات عام ہیں آپ گھر بیٹھے ایک فون کال کے زریعے اپنی ضرورت کی شئے منگوا سکتے ہیں۔ 

اپنے خاندان کے دوسرے افراد سے ملاقات

مہمان نوازی ہماری ثقافت کا ایک قابلِ فخر حصہ ہے۔ لیکن یہ زمانہ ایسے سماجی میل جول کا نہیں ہے خاص طور پر ایسے رشتہ داروں سے ملاقات سے پرہیز بہتر ہے جو کسی بیماری کا شکار ہوں۔ اگر مناسب احتیاطیں نہ برتی جائیں یا سماجی فاصلے کا خیال نہ رکھا جائے تو جہاں آپ کسی نقصان کا شکار ہو سکتے ہیں وہاں اپنے خاندان کے دیگر افراد ہی نہیں بلکہ پورے ملک کے لو گوں کی صحت کے نقصان کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔ 

پاکستان میں کرونا وائرس

آخری اطلاعات کے مطابق پاکستان میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 11362 اور اس سے مرنے والوں کی تعداد 239  ہو چکی ہے اور اس تعداد کا گراف پچھلے کچھ دنوں سے اوپر ہی اوپر جارہا ہے۔ 

ایسے ممالک جن میں کرونا سے ہلاکتوں کی تعداد بہت زیادہ ہے جیسے کی اٹلی وغیرہ انہوں نے اس بیماری سے بچاؤ کی حفاظتی تدابیر بر وقت اختیار نہیں کی تھیں اور اگر ہم نے بھی ویسا ہی طرزِ عمل اختیار کیے رکھا تو ہمارا حشر بھی ایسے ممالک جیسا ہی ہو سکتا ہے۔ 

اس حوالے سے سب سے اہم اور قابلِ غور بات یہ ہے کہ ہمارے ملک کے وسائل محدود ہیں اور کسی وباء کے پھیلنے کی صورت میں ہمارا صحت کا نطام بالکل ہی بیٹھ جائے گا۔ اب یہ ہماری یعنی عام عوام کی ذمّہ داری ہے کہ ہم اس وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پانے میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ اجتماعی ہلاکتوں سے بچا جا سکے۔ 

اب ہماری مسلح افواج بھی اس وباء کے پھیلاؤ کو روکنے میں عام عوام کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں۔ اس وبا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے ایسی ہی مشترکہ کاوشوں کی ضرورت ہے۔ پھر بھی سب سے اہم بات یہی ہے کہ اگر اس وائرس کو پھیلنے سے روکنا ہے تو ہم میں سے ہر کسی کو سماجی فاصلے کی تدبیر پر سختی سے عمل پیرا ہونا پڑے گا۔ 

اگر آپ خود میں یا اپنے کسی قریبی عزیز میں اس وائرس کے انفیکشن سے ہونے والی بیماری کووڈ۔19۔ کی ہلکی سی علامات بھی پائی جائیں تو فوری طور پر اس کی اطلاع متعلقہ ہیلپ لائن والوں کو دیں اور اپنا ٹیسٹ کروانے میں کسی ہچکچاہٹ کا اطہار نہ کریں اور ٹیسٹ کے مثبت آنے کی صورت میں خود کو باقی لوگوں سے الگ کرلیں۔ 

انتباہ (Disclaimer)

اس مضمون کے مندرجات صحت کے عمومی مسائل سے آگاہی فراہم کرنے کی نیّت سے تحریر کیے گیے ہیں اور انہیں اپنی صحت کے کسی مخصوص مسئلہ کے حل کی مسلمہ طبی تجویز کے طور پر نہیں لینا چاہیے۔ آپ اس مضمون میں تجویز کردہ کسی بھی دوا کے استعمال یا طبی طریقے پر عمل کرنے سے قبل کسی بھی مستند ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کر لیں۔ 

ڈاکٹر حرا تنویر

اس مضمون کی مصنِّفہ ڈاکٹر حرا تنویر ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں اور آج کل لاہور کے سی ایم ایچ ہسپتال میں اپنے فرائض سر انجام دے رہی ہیں۔ لکھنا انکا محبوب مشغلہ ہے۔ وہ اپنی پیشہ ورانہ مہارت و قابلیّت سے عوام الناس کو انکے صحت، عمومی خوشحالی، صحت بخش خوراک اور طرزِ زندگی سے معلقہ مسائل سے نپٹنے میں مدد فراہم کرنے میں دلی مسرّت محسوس کرتی ہیں۔

Disclaimer: The contents of this article are intended to raise awareness about common health issues and should not be viewed as sound medical advice for your specific condition. You should always consult with a licensed medical practitioner prior to following any suggestions outlined in this article or adopting any treatment protocol based on the contents of this article.

Dr. Hira Tanveer - Author Dr. Hira Tanveer is an MBBS doctor and currently serving at CMH Lahore. Writing is her favorite hobby as she loves to share professional advice on trendy healthcare issues, general well-being, healthy diet, and lifestyle.