بال گرنے کی وجوہات اور علاج

3 sec read

بال گرنے کی وجوہات اور علاج

بالوں کا گرنا آپ کے سر کے گنجا ہونے کے علاوہ باقی جسم کے بالوں والے حصّوں کے بالوں سے محروم ہو جانے پر بھی مشتمل ہو سکتا ہے۔ بال گرنے کی وجوہات ایک موروثی خواص اور کسی ہارمونی تبدیلی، کسی اور بیماری کا شکار ہونے اور اس کے طِبّی علاج کے کسی ذیلی اثر پر بھی مشتمل ہو سکتی ہیں گو بال گرنے کی شکائت ہر کسی میں پیدا ہوسکتی ہے لیکن عام طور پر مرد اس کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔

گنجے پن کی اصطلاح عام طور پر کھوپڑی کے بال گرنے کی حالت کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ کسی خاص عمر میں موروثی طور پر بالوں کا گرنا گنجے پن کی وجوہات میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے۔ بعض لوگ اپنے سر کے بالوں کے گرنے پر کسی تشویش میں مبتلاء نہیں ہوتے اور اپنے سر کو قدرتی طور پر گنجا ہونے دیتے ہیں اور اس کا کوئی علاج کرنے یا اپنے گنجے سر کو چھپا کر رکھنے کی کوئی تدبیر نہیں کرتے۔ جبکہ بعض لوگوں کے لیے یہ بڑی تشویش کا باعث ہوتا ہے اور وہ اسے اپنے بال بنانے کے سٹائل، یا کسی وگ، ٹوپی یا پگڑی سے چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور کچھ لوگ تو اپنی اس کمی کے تدارک کے لیے ہر طرح کے علاج کو آزمانے پر آمادہ رہتے ہیں۔

بال گرنے کی وجوہات:

بال گرنے کا علاج کرنے سے پہلے بال گرنے کی وجوہات کو جاننا ضروری ہے۔ ہر شخص کے روزانہ 100 سر کے بال گرنا کسی طور بھی قابلِ تشویش بات نہیں ہوتی کیونکہ اس سے سر پر موجود بالوں کے گھنے پن میں کوئی خاص فرق نہیں پڑتا اور ان کی جگہ نئے بال بھی اگتے رہتے ہیں۔ سر کے بالوں کا گرنا اس صورت میں قابلِ تشویش ہو تا ہے جب بال جھڑنے اور ان کے دوبارہ اگنے کا توازن بگڑ جائے اور جلد نیچے موجود بالوں کی بالیاں (hair follicles) ناقص ہو جاتی ہیں اور ان کی جلد سے باہر نکلنے کے سوراخ بند ہو جاتے ہیں۔

بال گرنے کی وجوہات مندرجہ ذیل عوامل پر مشتمل ہیں:

:موروثی (hereditary)

بال گرنے کی وجوہات میں سب سے عام وجہ موروثی طور پر ایسے اوصاف کا حامل ہونا ہوتی ہے۔ اس کا انداز مردوں اور خواتین میں ایک جیسا نہیں ہوتا۔ لیکن یہ کیفیّت عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ بتدریج سامنے آتی ہے۔ مردوں میں اس کا انداز بالوں کے مکمل صفائے سے لیکر چند جگہوں سے ان کا جھڑ جانے کی شکل میں سامنے آتا ہے جبکہ عورتوں میں اس کا انداز بالوں کے باریک ہو جانے یا ان کے گھنے پن میں کمی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔

ہارمونی تبدیلیاں (Hormonal changes):

بال گرنے کی وجوہات میں سے ایک جسم میں بالغ ہوتے وقت، حمل کے دوران، زچگی کے بعد، سنِ یاس اور تھائرائڈ غدود کی کسی بیماری کی وجہ واقع ہونے والی ہارمونی تبدیلیاں بھی ہوتی ہیں۔ انکی وجہ سے بالوں کا گرنا عارضی بھی ہو سکتا ہے اور مستقل بھی۔

امراض: بال گرنے کی وجہ ایلوپیشیا ایریٹا (alopecia areata) جو جسم کے بالوں والے حصّوں میں پھاہوں کی شکل کے بے بال حصّوں کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے، سر پر ہونے والے رنگ وورم یا کسی اور انفیکشن یا بال توڑ (trichotillomania) جیسی بیماریاں بھی بنتی ہیں۔

:دوائیں یا اضافی غذائیں (Medication and supplements)

بالوں کا گرنا بعض دواؤں، جیسے کہ کینسر، ہڈیوں کی سوزش، مایوسی یا دل کی بیماریوں، گھنٹیا اور بلڈ پریشر کو دور کرنے کے لیے استعمال کی جانے والی ادویات، کا ذیلی اثر بھی ہوتا ہے۔

:شعاعی علاج یا ریڈیئیشن تھیراپی (Radiation therapy)

جب کسی مرض کے علاج کے لیے شعاعوں کا استعمال کیا جاتا ہے تو یا تو بال بالکل جھڑ جاتے ہیں یا دوبارہ پہلے کی طرح کے جاندار اور گھنے نہیں رہتے۔

:دباؤ (Stress)

بعض لوگ زندگی میں پیش آنے والے کسی صدمے یا جذباتی دباؤ کے دوران یا اس کے کئی ماہ بعد تک بھی بالوں کے گرنے کا شکار رہتے ہیں۔ تاہم یہ ایک عارضی کیفیّت ہوتی ہے۔

:بال بنانے کا انداز اور انہیں بہتر کرنے کی تدابیر

  بالوں کو مختلف انداز بنانا یا بہت کھینچ کر چوٹی باندھنا بالوں کے گرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ بالوں میں تیل گرم کرکے لگانے یا انہیں کوئی مستقل شکل دینے کی تدابیر بھی بالوں کے گرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔ ایسا کرنے میں اگر بالون کے فولیکلز میں انفیکشن ہو جائے تو پھر مستقل گنجے پن کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

:علاج

باوجود اس کے کہ آپ کو کئی کتابوں، رسائل، اخبارات اور سوشل میڈیا پر بالوں کو گرنے کے کئی نسخے بتائے جاتے ہیں اور بیشمار کھانے کی دوائیں اور لگانے کے تیل اشتہاری دعووں کے ساتھ پیش کیے جاتے ہیں بالوں کےگرنے کا کوئی بھی علاج ابھی تک سائنسی تصدیق حاصل نہیں کرسکا۔ تاہم اپنے معمولات کے تجزئے سے بال گرنے کی وجوہات معلوم کرنے سے اور پھر ان کے تدارک سے بالوں کا گرنا روکا جا سکتا ہے اور ان کی نشونما میں آنے والی کسی خرابی کو دور کیا جا سکتا ہے۔ پھر بھی موروثی اور ایک دفع مستقل طور پر بالوں کے گرنے کا کوئی علاسج نہیں ہے۔

Disclaimer: The contents of this article are intended to raise awareness about common health issues and should not be viewed as sound medical advice for your specific condition. You should always consult with a licensed medical practitioner prior to following any suggestions outlined in this article or adopting any treatment protocol based on the contents of this article.