We have detected Lahore as your city

فاسٹ فوڈ کھانے کے کیا نقصانات ہیں؟

Ms. Ayesha Nasir

5 min read

Find & Book the best "Nutritionists" near you

آج کے دور میں فاسٹ فوڈ سب سے جدی تیار ہونے والا کھانا ہے جو کہ ہوٹلوں اور ریسٹورنٹ وغیرہ میں بہت جلد آسانی سے کم وقت میں آرڈر پر دستیاب ہوتا ہے۔ دیگر دیسی کھانوں کے مقابلے میں ان کھانوں میں ایک تو غذایت کم ہوتی ہے دوسرا یہ گھر کے بنے عام کھانوں سے مہنگے بھی ہوتے ہیں۔ آج کل لوگ جلد اور کم وقت میں ہونے والی اشیاء کی طرف رجحان زیادہ بڑھا رہے ہیں، خاص طور پر آج کے دور کی نوجوان نسل فاسٹ فوڈ کو خریدنا اور اس پر زیادہ فضول خرچ کرنا پسند کرتی ہے۔

نہ صرف نوجوان نسل بلکہ بزرگ، بچوں سب کا لوگ فاسٹ فوڈ کو اپنے کھانے میں کھانا پسند کرتے ہیں۔ اگر ہم فاسٹ فوڈ کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ اس کا آغاز اٹھارویں صدی میں امریکہ سے ہوا تھا۔ ابتدا میں فاسٹ فوڈ کا ذائقے میں کم تر تھا جس کی وجہ سے یہ اتنا خاص لوگوں کو پسند نہ آیا، یوں یوں وقت گزا لوگوں کا دھیان برگر اور برگر کی مختلف اقسام کی طرف بڑھنے لگا۔

 اس طرح کے کھانوں میں بہت زیادہ کیلیریز موجود ہوتی ہیں، جو کہ خطرناک بیماریوں کو جنم دیتی ہیں جن میں جسم میں کولیسٹرول اور ہائی بلڈ پریشر کا بڑھ جانا فہرست  کے اول درجے میں ہیں۔ غذا انسانی جسم کے لیے بے حد ضروری ہے۔

انسان سارا دن کام کرتا ہے اور کام کے دوران اپنی خوراک کا دھیان نہیں رکھ پاتا اس لیے سب جنک فوڈ کا سوچتے ہیں لیکن اگر اپنی صحت پر دھیان نہیں دیں گے تو ہم ایک توازن زندگی نہیں گزار سکتے اور ایک اچھے کامیاب معاشرے کو تشکیل نہیں دے سکتے۔ ایک صحت مند زندگی کا ضامن ہونے کے لیے فاسٹ فوڈ کے مضر اثرات پر نطر ڈالنا بہت ضروری ہے۔

فاسٹ فوڈ کھانے کے نقصانات

۔1 فاسٹ فوڈ کے استعمال سے دل کے امراض ہوسکتے ہیں

دل کے امراض پھلینے کی سب سے بڑی وجہ فاسٹ کا استعمال ہے اور یہ استعمال جوان نسل میں بے حد عام ہے۔ اگر نوجوان دل کی بیماری سے بچنا چاہتے ہیں تو انہیں فاسٹ فوڈ کو چھوڑ کر سبزیوں اور چکنائی سے پرهیز کر کے اپنی روزمرہ کی روٹین میں ورزش کو اپنا معمول بنا کر اپنی صحت کو اچھا بنانے کے بارے میں سوچنا چاہیے۔

۔2 گردوں میں تکلیف کا سبب بنتا ہے

جنک فوڈ کی بہت ساری اشیاء میں نمک کی زیادتی ہوتی ہے جس کی وجہ سے ہمارے گردے خطرہ محسوس کرتے ہیں اور بیمار پڑ جاتے ہیں کیونکہ بہت زیادہ سوڈیم آپ کے گردوں میں پتھری پیدا کر سکتے ہیں جو کہ بعض اوقات موت کی وجہ بھی بن سکتے ہیں اگر وہ زیادہ پھیل جائیں اور ان کا بروقت علاج نہ کیا جائے۔

۔3 فاسٹ فوڈ کا استعمال موٹاپا کرتا ہے

جنک فوڈ میں چونکہ کیلیریز کی مقدار بے جا ہوتی ہے اس لیے یہ ہمارے جسم کو موٹاپے جیسی بیماری میں مبتلا کر دیتا ہے۔ ہمارے جسم کو اک دن میں جتنی کیلریز کی ضرورت ہوتی ہے اگر ہم اس سے زیادہ کیلریز کا استعمال کریں گے تو ہمارا جسم بییماریوں کا شکار ہونے لگے گا جس میں سب سے واضع بیماری ماٹاپا ہے اور موٹاپا تمام بیماریوں کی جڑ ہے۔

اج کل کی نوان لڑکیاں فاسٹ فوڈ کا شوق رکھتی ہیں اس لیے لڑکیوں میں موٹاپے کی بیماری زیادہ دیکھی گئی ہے، جس کی وجہ سے لڑکیاں جب شادی کی عمر میں پہنچتی ہیں تو انہیں بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور وہ ذہنی مریض تک بن جاتی ہیں جو کہ موٹاپے سے بھی خطرناک بیماری ہے۔ 

۔4 فاسٹ فوڈ کے استعمال سے ذیابیطس کی بیماری ہوسکتی ہے

کم وقت میں تیار ہونے والے کھانے ہمارا وقت تو بچ رہا ہے لیکن ہم زیابچیس جیسی  بیماری کا بہت جلد اور آسانی سے شکار ہو جاتے ہیں۔ جب ہم کھانا کھاتے ہیں تو ہمارا جسم اس کھانے کو کاربوہائڈریٹس اور گلوکوز میں تبدیل کر دیتا ہے، جو کھانا ہمارے جسم کے لیے ضروری ہوتا ہے یعنی جس سے جسم کو آرام پہنچتا ہے وہ بھی جذب کرتا ہے اور ان کے ساتھ ان عناصر ہو بھی جو جسم مین ذیابیطس جیسی بیماری کا باعث بنتے ہیں۔

۔5 فاسٹ فوڈ سے ذہنی تناؤ بڑھ سکتا ہے

چونکہ فاسٹ فوڈز میں چکنائی زیادہ ہونے کے باعث زہنی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ چکنائی ہمارے جسم میں اگر زیادہ ہو جائے تو ہمارے جسم کے کسی نہ کسی آرگن پر جم جاتی ہے جس سے بہت ساری بیماریاں ہوتی ہیں جن میں معدے کی بیماری بہت عام ہے۔

ہم نے ایک قول بچپن سے سن رکھا ہے کہ اگر جسم اچھا کام کرے گا تو ہمارا زہن بھی اچھا کام کرے گا اور ہم ایک کامیاب راستے کی طرف تب ہی چل سکتے ہیں اگر ہماری صحت ٹھیک ہوگی۔ اگر آپ ذہنی تنائو سے بچنا چاہتے ہیں تو آپکو فاسٹ فوڈز سے دوری مستقل طور پر بنانی ہوگی اور اس پر مکمل طور پر عمل کرنا ہوگا۔

۔6 یادداشت میں کمزوری ہو سکتی ہے

فاسٹ فوڈ کے ہماری صحت پر بہت سارے منفی اثرات میں سے ایک اثر یادداشت میں کمزوری بھی ہے۔ گھریلو کھانوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے گھر کے لائنوں میں سبزیاں اگانے کے رواج کو بھڑاوا دیں جس سے ہمارے بچوں کے ذہنوں پر مثبت اثر پڑے گا۔

اپنے کھانوں میں زیادہ تر سبزیوں کے ساتھ گوشت کو استعمال کریں جو نہ صرف بچوں بلکہ ہر عمر کے لوگوں کے لیے ایک بہترین اور مکمل غذا سے کم نہیں ہے۔ دودھ اور دیگر غذائیت سے بھرپور اشیاء کو سوفٹ ڈرنکس کی جگہ پر استعمال کریں۔ فاسٹ فوڈ کلچر ہماری صحت کے لیے ایک کھلا خطرہ ہے۔

۔7 انسانی مدافعتی نظام کو کمزور کر دیتا ہے

فاسٹ فوڈ یا جنک فوڈ انسانی مدافعتی سسٹم کو کمزور کر دیتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کے مضر اثرات ہمارے ہارمونز کی تبدیلی کا بھی باعث بنتے ہیں۔ مدافعتی کمزوری ہمارے سارا دن کے کاموں میں رکاوٹ کا باعث بن سکتی ہے۔

۔8 نظام انهزام کو خراب کرتا ہے

جنک فوڈ نہ صرف کھانے کو ہضم کرنے بلکہ چڑچڑا پن آنتوں والے سنڈروم کا سبب بنتے ہیں۔ یہ ہضمہ کی دیگر پریشانیوں کا باعث بن سکتے ہیں جیسا کہ تیزابیت، گیس، اپھاڑا و غیره شامل ہیں۔ ان تیز کھانے کی اشیاء کھانے کی وجہ سے ہمارے پیٹ میں سوڈیم کی مقدار زیادہ ہو جاتی ہے جو پیٹ میں پانی کی مقدار کو برقرار رکھنے کی وجہ بنتا ہے جس کی وجہ سے آپ اپنے پیٹ کو پھولا ہوا محساس کرتے ہیں۔

۔9 جگر کو نقصان پہنچانے کا سبب بنتا ہے

جنک فوڈ تیز مرچوں والا ہوتا ہے جو ہمارے جگر کے لیے نهایت خطرناک اور زہریلا ثابت ہوتا ہے کیونکہ ان کھانوں میں چربی، چکنائی اور شوگر زیادہ ہوتا ہے۔ چربی کا زیادہ استعمال جگر میں اکھٹا ہوجاتا ہے جس کے نتیجے میں غیر الکحل فیٹی جگر کی بیماری میں اضافہ کرتے ہیں۔

۔10 جلد کو متاثر کرتا ہے

بہت زیادہ جنمک فوڈز جیسی تلی ہوئی اور پروسیسڈ کھانا کھانے کی وجہ سے چہرے پر مختلف طرح کے مسائل پیش آتے ہیں جیسے کہ کیل مہاسے جھڑیاں وغیرہ۔ ایک تحقیق کے مطابق یہ بتایا گیا کہ جو بچے اور نو عمر افراد ہفتے میں تین بار سے زیادہ روز کھانا کھاتے ہیں ان لوگوں کو شدید قسم کا ایکزیمیا کی بیماری ہوتی ہے۔

۔12 کینسر کے خطرے کو مزید بڑھاتا ہے

فاسفیت، آلو کے چیپس،  اور کارن چپس جیسے فاڈز فوڈ کھانے سے بڑی آنت کے کینسر کا خطرہ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ ایک ہفتہ میں تلی ہوئی آلو کی ایک سے دو یا پانچ سرونگ یا ہر ہفتے چکن سینڈوچ کی دو سے تین سرونگیں کھانے سے بھی بڑٰ آنت کے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

۔13 فاسٹ فوڈ کھانا افسردگی کا باعث بن سکتا ہے

فاسٹ فوڈز کا استعمال دماغ کی سرگرمیوں میں ردوبدل کا باعث بن سکتے ہیں جن سے انخلا کی عامات ظاہر ہو سکتی ہیں، یہہ وجہ ہے کہ اس طرح کے کھانے آپ کی افسردگی کا سبب بن سکتے ہیں۔ لوگ فاسٹ فوڈز کے اتنے شوقین ہیں کے اس کو تیزی سے کھانے کے عادی بن گئے ہیں جس کی وجہ سے معدہ تکلیف محسوس کرتا ہے اور ہمیں ڈاکٹرز کا سوچ کر ہسپتال کے چکر لگوانے پر مجبور کر دیتا ہے۔

اولا ڈاک کی مدد سے کسی بھی ماہرِ غذانیات کے ساتھ اب آپ کی اپائینٹمنٹ صرف ایک کلک کی دوری پر ہے۔ آپ یہاں کلک کرکے گھر بیٹھے ہی اپنے موبائل سے ایک ورچوئل یا ان-آفس اپائینٹمنٹ بک کروا سکتے ہیں۔ آپ اپنی اپائینٹمنٹ بک کروانے کے لئے صبح 9 بجے سے 11 بجے تک اولا ڈاک کی ہیلپ لائن 04238900939 پر بھی کال کرسکتے ہیں۔ 

Disclaimer: The contents of this article are intended to raise awareness about common health issues and should not be viewed as sound medical advice for your specific condition. You should always consult with a licensed medical practitioner prior to following any suggestions outlined in this article or adopting any treatment protocol based on the contents of this article.

Ms. Ayesha Nasir - Author Ms. Ayesha Nasir is a very well known dietitian and nutritionist in Lahore thanks to her numerous television appearances and a stellar reputation. She has appeared on City@10 as an expert guest numerous times and is also currently regularly seeing new patients.
Book Appointment with the best "Nutritionists"