We have detected Lahore as your city

گرمیوں میں ہونے والی 8 خطرناک بیماریاں جن سے آپ کو بچنے کی ضرورت ہے

Dr. Hira Tanveer

4 min read

Find & Book the best "General Physicians" near you

موسم گرما کی آمد سے مختلف بیماریں پیدا ہونے لگتی ہیں جن میں سے چند بیماریوں کا ذکر اس آٹیکل میں کیا گیا ہے۔  

۔1 پیٹ کی بیماریاں

موسم گرما کے آتے ہی بچوں، بڑے اور بوڑھوں میں پیٹ سے متعلق متعدد امراض جنم لینے لگتے ہیں، جس کے چلتے گرمیوں کا گزرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ پیٹ، آنتوں اور معدے کے مختلف مسائل، گرمیوں میں ہر دوسرے فرد کو ہونے والے ہیٹ اسٹروک اور لو سے بچنے کے لیے چند مفید کاموں پر عمل کر کے ان مسائل سے بچا جا سکتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق گرمیوں کے آغاز سے ہی پیٹ سے متعلق شکایات میں بھی اضافہ ہونے لگتا ہے کیوں کہ گرمیوں میں بیکٹیریاز اور اس سے متعلق متعدد وائرسز زیادہ متحرک ہوتے ہیں۔ موسم گرما میں پیٹ کی بیماریوں میں سر فہرست ٹائیفائیڈ، ہیضہ اور لو لگنے کے سبب بھوک کا نہ لگنا، الٹیاں، دست اور بخار کا ہونا شامل ہے۔

ان میں سے کچھ بیماریوں کے بارے میں اس آٹیکل میں تفصیل سے بات کی گئی ہے۔

۔2 جلد کی بیماریاں

جلدی امراض کے طب کے مطابق گرم اور مرطوب موسم میں فنگل بیماریاں پیدا ہونے لگتی ہیں۔ فنگل انفیکشن جلد کے چھپے ہوئے یعنی ایسے حصوں پر ہوتا ہے جن حصوں پر ہوا کم لگتی ہے اور یہ انفیکشن ان لوگوں میں زیادہ ہوتا ہے، جو چست کپڑے یا سارا دن جوتے پہن کر رکھتے ہیں۔

اس انفیکشن سے بچنے کے لیے ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ جتنا ممکن ہو سکے دن میں نہائیں اور خود کو تازہ دم رکھیں۔ نہانے کے بعد جسمانی سطح جلد اور جوڑوں کے نیچے اینٹی فینگل پاؤڈر لگائیں اور رات سونے سے پہلے متاثرہ حصوں پر اینٹی فینگر کریم لگائیں۔ جلد کی بیماریوں سے بچنے کے لیے سب سے پہلے ضروری ہے کہ آپ کو زیادہ سے زیادہ نہانا چاہیے اور خود کو بہت زیادہ صاف ستھرا رکھنا چاہیے۔

گرمیوں میں فنگس یا انفیکشن سے دور رہنے کے لیے بہت ضروری ہے کہ دھوپ سے بچا جائے، گھر سے نکلتے ہوئے کسی لوشن یا سن بلاک کو اپنی جلد پر لگا کر باہر نکلا کریں۔

گرمی کے موسم میں عام طور پر ہوا میں نمی کا تناسب بڑھ جاتا ہے اور اس کے سبب جلد کے مردہ خلیات اور چکنائی مساموں کو بند کر دیتی ہے جس کی وجہ سے بلیک ہیڈز اور ایکنی کی افزایش بڑھ جاتی ہے جسے فنگل ایکنی کہا جاتا ہے۔ جلد کی بیماریوں سے بچنے کا بہت ہی آسان طریقہ یہ ہے کہ آپ جتنا ہو سکتا ہے دن میں پانی پئیں اور اپنی جلد کو تروتازه رکھیں۔

ماہر امراض جلد کے مطابق اگر آپ بہت خارش کرتے ہیں تو خارش کے نتیجے میں جلد پر سرخ نشانات نمودار ہونے لگتے ہیں تو یہ آپ کے لیے ایک الارم ہے، اس کے بعد جسم پر زخم بن کر الرجی بڑھنے لگتی ہے اور وہ الرجی ایک خوفناک بیماری میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

اگر خارش کے دوران جلد پر تھپڑ، گول نشانات، آبلے اور سفید نشانات ظاہر ہوتے ہیں تو جلد پر خراشوں کا ابھرنا یا خارش کا دورانیہ معمول سے زیادہ بڑھ جانا ایک خطرے کی گھنٹی ہے جس کے ظاہر ہونے سے اپنے ڈاکٹر سے فوری طور پر رجوع کریں۔

۔3 ٹائیفائید

طبی ماہرین کے مطابق گرمی کے موسم میں بہت زیادہ پھیلنے والا بخار ٹائیفائیڈ ہوتا ہے اور یہ بخار ایک “سالمونیلاٹائفی” نامی بیکٹیریا کے سبب پھیلتا ہے اور اس کی وجہ گندا کھانا یا گندا پانی جو مضر صحت ہے اس کا استعمال کرنا ہے۔

ٹائیفائیڈ کی علامات میں سے بخار کے ساتھ سر اور پیٹ میں درد اور موشن کا ہونا شامل ہے۔ ٹائیفائیڈ سے متاثر مریض کو مکمل آرام اور ہلکی سی صاف گھر میں بنی ہوئی غذائیں اور گھر میں ابلے ہوئے صاف شفاف پانی پینے کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔

ٹائیفائیڈ کے دوران چائے، کافی اور کاربونیٹیڈ مشروبات سے گریز کرنا چاہیے۔ ٹائیفائیڈ سے بچاؤ کے لیے صحت اور صفائی کا ہر ممکن خیال رکھنا چاہیے اور کھانا کھانے سے قبل ہاتھوں کو اچھی طرح سے صابن سے دھو لینا چاہیے۔

۔4 هیضه

گرمیوں کے موسم کی عام بیماری ہیضہ ہے جو کہ ایک بیکٹیریا وائبرو کولیرا کے ذریعے سے پھیلنے لگتی  ہے، ویبرو کولرا  کا سبب زیادہ تر گندا پانی اور پرانی اور باسی خوراک کا استعمال بنتا ہے۔

ماہرین طب کے مطابق جن افرا کا ہاضمہ کمزور ہوتا ہے وہ ہیضے جیسی بیماری میں بہت جلد مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اس بیماری کا آسان ہدف چھوٹے بچے ہوتے ہیں، اس بیماری کا علاج اگر بروقت نہ کیا جائے تو مریض نمکیات اور پانی کی کمی کے سبب نڈھال ہو کر بے ہوشی کی کیفیت میں جا سکتا ہے۔

۔5 ہیپاٹائیٹس اے

گرمیوں میں عام بیماریوں میں سے سامنے آنے والی ایک بیماری ہیپاٹائیٹس اے ہے جو گندے پانی سے پھیلتی ہے اور مریض کے جسم میں وائرس داخل ہونے کے چار ہفتے بعد پیٹ میں درد، بخار اور قے اور پیشاب کا پیلا پر جانا ہے اس کے علاوہ شدید کمزوری کی علامتیں ظاہر ہونے لگتی ہیں۔

طبی ماہرین کی جانب سے تجویز کیا جاتا ہے کہ ہیپاٹائیٹس اے سے بچنے کے لیے صاف ستھرا پانی اور خوراک کا استعمال کرنا چاہیے۔ سبزیوں اور تازہ پھلوں کو استعمال کرنے سے پہلے ہی اچھی طرح سے دھو لیں اور کھانے کھانے سے پہلے اور بعد میں ہاتھوں کو اچھی طرح سے دھو لیں، ایسا کرنے سے بھی ہیپاٹائیٹس اے جیسی بیماری سے بچا جا سکتا ہے۔

۔6 فوڈ پوائزننگ

گرمیوں کے موسم میں فوڈ پوائزننگ کی بیماری زیادہ عام ہے۔ وقت پر ریفریجیریٹر میں نہ رکھنے والا کھانے میں بیکٹیریا کی وجہ سے زہر کا سبب بن سکتا ہے۔

ریڈ میٹ سلاد دودھ کی اپنے کھانے کو ریستوران، مصنوعات، میئونیز وغیرہ  شامل کرنا خاص طور پر خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔ فوڈ پوائزننگ سے بچنے کے لیے یہ لازم  ہے کہ آپ فریج میں رکھا کھانا کھائیں لیکن وہ کھانا دیر تک نہ رکھا ہو کہ کیوں کہ وہ زیادہ دیر رکھنے سے زہر میں تبدیل ہو جاتا ہے اور تب آپ اس کھانے کو اگر  استعمال کریں تو  یہ فوڈ پوزنگ کے علاوہ اور بھی بہت سی بیماریوں کی وجہ بن سکتا ہے۔

۔7 درد شقیقہ اور سر درد  

طبی ماہرین کے مطابق الٹراوایلٹ شعاؤن کی نمائش کی وجہ سے بار بار سر درد اور مہاس کی گرمی  میں ایک ایسی عام  سر درد کی بیماری ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ دھوپ سے چہرے اور پٹھوں میں ضرورت سے زیادہ تناؤ سر درد کی وجہ بن سکتا ہے۔

دھوپ میں بہت زیادہ وقت گزارنا مائگرینوں کی وجہ بن سکتا ہے۔ موسم گرما کی ان بیماریوں سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ جب دھوپ میں باہر نکلیں تو سن گلاسس پہن کر باہر نکلا کریں اور اپنیے چہرے  پر سن بلاک لگا کر باہر دھوپ میں جائیں اور اپنے جسم میں پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ پانی کا استعمال کیا کریں۔

۔8 سن سٹروک

سن سٹروک کی علامت میں جلد خشک اور گرم ہو جاتی ہے، پسینہ آنا بند ہوجاتا ہے۔ جسم کا درجہ حرارت اور دل کی دھڑکن اچانک تیز ہونے لگتی ہے۔

اس کے علاوہ سر میں شدید درد ہونے لگتا ہے، وہ افراد جو اپنا زیادہ تر وقت باہر دھوپ میں گزارتے ہیں یا وہ لوگ جو گرم موسم میں پانی پئیے بغیر زیادہ جسمانی سرگرمیاں یا مشقت کرتے ہیں اور موسم گرما کی مناسبت سے لباس بھی زین تن نہیں کرتے ایسے لوگوں میں لو لگنے کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے۔

سن اسٹروک کے دوران جسم میں نہ صرف پانی کی کمی ہو جاتی ہے بلکہ جسم کے نمکیات اور الیکٹرولائٹس کی بھی کثیر تعدار ضائع ہو جاتی ہے۔ اس صورت میں مریض کو چاہیے کہ نمکیات کی کمی کو دور کرنے کے لیے او-آر-ایس یا نمک ملا پانی کا زیادہ استعمال کرے۔

Disclaimer: The contents of this article are intended to raise awareness about common health issues and should not be viewed as sound medical advice for your specific condition. You should always consult with a licensed medical practitioner prior to following any suggestions outlined in this article or adopting any treatment protocol based on the contents of this article.

Dr. Hira Tanveer - Author Dr. Hira Tanveer is an MBBS doctor and currently serving at CMH Lahore. Writing is her favorite hobby as she loves to share professional advice on trendy healthcare issues, general well-being, healthy diet, and lifestyle.
Book Appointment with the best "General Physicians"