موٹاپا کم کرنے کے آسان طریقے

Ms. Sarah Farooqi

0 sec read

motapa-kum-karne-ke-asaan-tareeqay

موٹاپا جسم میں چربی کے زیادہ ہو جانے سے جنم لینے والی ایک پیچیدہ بیماری ہے۔ موٹاپا محض جسمانی خوبصورتی کا مسئلہ ہی نہیں بلکہ ایک ایسا طبّی طور پر توجہ طلب مسئلہ ہے جو نظر انداز کئے جانے کی وجہ سے کئی اور جسمانی تکالیف اور بیماریوں کا باعث بن سکتا ہے۔ جیسے کہ دل کی بیماریاں، ذیابیطس یعنی شوگر، بلڈ پریشر میں اضافہ اور کئی طرح کے کینسر وغیرہ۔ یہی وجہ ہے کہ موٹاپا کم کرنے کے طریقے جاننا ہر اس شخص کے لیے ایک لازمی بات ہے جو اپنی صحت کو مثالی بنانا چاہتا ہو اور اپنی کسی لا پرواہی کی وجہ سے بیمار پڑنے سے بچنا چاہتا ہو۔ 

ذیل میں ہم کچھ ایسے موٹاپا کم کرنے کے طریقے بتا رہے ہیں کہ جن پر عمل کرکے موٹاپے کو با آسانی کنٹرول کیا جا سکتا ہے 

 :پانی کا بکثرت استعمال

پانی خاص طور پر کھانے سے آدھ گھنٹہ قبل پینا موٹاپا کم کرنے کے طریقوں میں سے مؤثّر ترین طریقہ ہے اور یہ بات بالکل صحیح ہے کیونکہ ایک تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ کھانے سے پہلے پانی پینے والے افراد ایسا نہ کرنے والوں کے مقابلے میں اپنا وزن 44فیصد تک زیادہ کم کر سکتے ہیں۔ 

 :ناشتے میں انڈہ کھانا

تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ ناشتے میں اناج سے بنی اشیا کی جگہ پورا انڈہ کھانا جسم میں اگلے 36 گھنٹے تک غذائی حرارے لینے کی ضرورت کو گھٹا دیتا ہے جسکی وجہ سے جسم میں پہلے سے موجود چربی استعمال میں لا کر موٹاپا کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ 

 :کافی پینا

کافی کے دیگر فوائد کے علاوہ ایک اور فائدہ اس کا موٹاپا کم کرنے میں اکثیر ہونا بھی ہے لیکن شرط یہ ہے کہ اسے بہت کم شکر یا دودھ کے ساتھ یا ان کے بغیر لیا جائے۔

 :سبز چائے

اس کے فوائد بھی کافی کی طرح کے ہیں۔

:وقفے سے فاقہ کریں

کچھ دنوں کے بعد ایک دن روزہ رکھنا یا کسی دن تین کی بجائے صرف دو مرتبہ کھانا بھی موٹاپا دور کرنے طریقوں میں سے ایک خاصا مفید ثابت ہونے والا طریقہ ہے۔ 

 :اضافی چینی کا استعمال ترک کردینا

کسی بھی کھانے یا پینے کی شئے میں چینی کا اضافہ کرکے اسے لینا ترک کر دینا چاہیے۔

 :بہت زیادہ چھنا ہوا یا باریک آٹا استعمال نہ کریں

اس کی بجائے بغیر چھنا ہوا آٹا وزن کم کرنے کے طریقے کے طور پر عمل میں لایا جانا چاہیے۔ 

  :چھوٹی پلیٹوں کا استعمال

چھوٹی پلیٹوں کا استعمال کھانا کم کھانے کی ایک تدبیر ہے۔ اور جب کھانا تھوڑا کھایا جائے تو جسم میں پہلے سے موجود چربی استعمال ہوکر موٹاپا کم کرنے میں مدد گار ہوتا ہے۔ 

 :اپنی خوراک کے اجزأ پر نظر رکھیں

اپنے کھانے میں شامل اجزأ پر نظر رکھنا موٹاپا کم کرنے کے طریقے کے طور پر اپنانا بہت مفید ثابت ہوتا ہے۔ اس کی وجہ سے آپ یہ معلوم کر پاتے ہیں کہ آپ کے کھانے میں شامل کون سی اشیاء جسم میں چربی کے اضافے کا باعث ہوتی ہیں اور کون سی کم غزائی حراروں یا کیلوریز پر مشتمل ہونے کی وجہ سے جسم میں پہلے سے موجود چربی کے استعمال سے موٹاپا کم کرنے کا کام کر سکتی ہیں۔ اس مقصد کے لیے اپنے ہر کھاننے کی ایک باقاعدہ ڈائری مرتب کرنا یا اس کی تصویر بناکر بعد میں تجرئے کے لیے محفوظ کرلینا بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ 

:ایروبِک ورزشیں (aerobic excersises)

ایروبک ورزشیں ایسی جسمانی حرکات پر مشتمل ہوتی ہیں جو جسم میں آکسیجن ملی ہوا کے گزر میں اضافہ کرنے والی ہوں۔ ہمارا جسم کسی بھی حرکت کے دوران توانائی کا ستعمال کرتا ہے جو اسے جسم میں موجود شکری یا چربیلے مادوں کے آکسیجن کے ساتھ مل کر جلنے سے حاصل ہوتی ہے۔ اسی لیے جب جسم کو ورزش کی وجہ سے زیادہ توانائی کی ضرورت ہوتی ہے اور ورزش ہی کی وجہ سے اسے زیادہ آکسیجن بھی دستیاب ہو تو جسم میں موجود چربی کے استعمال ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں جو موٹاپا کم کرنے کے طریقے کے طور پر عمل میں آتے ہیں۔ ایروبک ورزشوں کا معمول اپنانا پیٹ کی چربی کم کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔

 :زیادہ ریشوں یعنی فائبر والی خوراک لینا

زیادہ ریشوں والی خوراک کا لینا جہاں ہاضمے کے لیے مفید ہے وہاں اس کا حجم زیادہ ہونے کی وجہ سے یہ کم غذائی حراروں پر مشتمل ہوتی ہے جس کی وجہ سے جسم اپنی توانائی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے اپنے اندر موجود چربی کو استعمال میں لاتا ہے اور موٹاپا کم ہونے لگتا ہے۔ 

:سبزیاں اور پھل زیادہ کھانا

پھل اور سبزیاں اپنے صحت بخش ہونے کے علاوہ کچھ ایسے خواص کے بھی حامل ہیں کہ جن کی وجہ موٹاپا کم ہوتا ہے۔ 

:ڈائٹنگ نہ کریں

بالکل نہ کھانا یا کھانے کے لیے ضروری اجزاء میں سے کسی ایک کا کم یا زیادہ لینا خوراک کو صحت بخش نہیں رہنے دیتا۔ لہٰذا اسے موٹاپا کم کرنے کے طریقے کے طور پر عمل میں لانا صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ 

Disclaimer: The contents of this article are intended to raise awareness about common health issues and should not be viewed as sound medical advice for your specific condition. You should always consult with a licensed medical practitioner prior to following any suggestions outlined in this article or adopting any treatment protocol based on the contents of this article.

Ms. Sarah Farooqi - Author Ms. Sarah Farooqi is a leading Nutritionist/Dietician based in Lahore. She has deep expertise in a number of areas including weight management, obesity, diabetes, gastritis, and hypertension. If you need a consultancy or a diet plan, book an appointment with her through oladoc.com.