We have detected Lahore as your city

سردیوں میں مزیدار پستے کھانے کے فوائد جانئے

Ms. Mehak Zafar

1 sec read

Find & Book the best "Nutritionists" near you

 پستہ کا شمار خشک میوہ جات میں کیا جاتا ہے لیکن اسکی تاثیر گرم ہوتی ہے۔ ہر روز مٹھی بھر پستہ کھانا صحت اور خوبصورتی کا راز ہے۔  اگر آپ گری دار میوہ کھانے کے رجحان میں ہیں تو دوسروں کے مقابلے میں پستہ ایک بہرتین آپشنز میں سے ایک ہے۔ پسته پھلوں سے حاصل کرده ایک اناج ہے جسکا تعلق نسل ہینا کی انار کارڈیاسی سے ہوتا ہے۔ اس کا پھل ایک بہت موٹا اور پتلا درمیانے درجے کے درخت سے آتا ہے۔ پستہ کے متعدد کنبے ہیں جن کی کاشت کی جاتی ہے تاہم تجارتی مقاصد کے لیے تیار کی جانے والی سب سے مشہور قسم کرمان ہے۔

غذائی فوائد

:۔49 پستے کے دانوں میں غذائی فوائد موجود ہیں

  • 159 گلریز
  • 8 گرام کاربوہائڈریٹس
  • 3 گرام فایبر
  • 6 گرام پروٹین
  • 6 فی صید پوٹاشیم
  • 13 فیصد چکنائی
  • تھایا مائن 21 فیصد
  • 15 میگنیز
  • 6 فیصد فاسفورس
  • پستے کے چھلکے کا سفوف بنا کر روزانی صبح و شام اسے استعمال کیا جائے تو یہ بہت سی بیماریوں سے بچاتا ہے جیسے دل، انتریوں، معدہ، جگر اور دانتوں کے لیے بے حد مفید ہے۔
  • پرانے نزلہ زکام، سردرد، کمر درد، اور جسمانی کمزوری کی صورت میں مغز پسته ایک تولہ مکھن ایک تولہ گڑ میں ملا کر کھانے سے بے حد فائدہ ہوتا ہے اور اس سے درد کم ہوتا ہے۔ یہ پھیپھڑوں سے بلغم خارج کر کے انہیں صاف رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
  • پستے کھانے کا با قاعده استعمال سے دل کی دھڑکن بہتر ہو جاتی ہے اور بلڈ پریشر میں کمی آتی ہے جس کی وجہ سے زہنی تنائو میں بھی واضع کمی آتی ہے۔
  • وبائی امراض میں مغز پسته ایک تولہ اور کوزہ مصری ہم وزن لے کر انکا استعمال نہایت فائدے مند ہے۔ اسے قے اور متلی کی صورت میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ پستی اگر چینی اور مصری کے استعمال کیا جائے تو جسم سے زہریلے مودوں کو دور کرتا ہے۔
  • مستے میں کیلشیم، پوٹاشیم اور حیاتین بھی شامل ہوتے ہیں جو ہماری صحت کے لیے مفید ہیں۔ اسی طرح پستہ بھی ایک ایسا خشک پھل ہے جس میں زنک کی مقدار موجود ہوتی ہے۔
  • پستے میں صحت کے لیے فائدے مند چکنائی، اور پروٹین، فایبر، اور اینٹی  آکسیڈینت کی اچھی خاصی مقدار ہوتی ہے  اس کے ساتھ ساتھ اس میں متعدد اہم اجزا بھی ہوتے ہیں جن کو کھانے سے جسمانی جسم میں کمی آتی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق روزانہ 53 گرام پستہ کھانےسے جسم کے بڑھتے وزن میں کمی آتی ہے۔
  • یرقان جیسے جان لیوا امراض میں پستہ کا استعمال نہایت ضروری اور فائدہ مند ہے۔
  •  پستے میں  اینٹی آکسیڈینٹس کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ اچھی صحت کے لیے اینٹی آکسیڈینٹس بہت ضروری ہوتے ہیں یہ ہمیں ہر قسم کی بیماریوں سے بچاتی ہے۔

پستے کے چند حیرت انگیز فوائد

۔1 تنائو کو کم کرتا ہے

ہمارے روزمرہ کے کاموں کی وجہ سے بعض اوقات ہمارا بلڈ پریشر اور خون کی گردچ  کو تیز کرتا ہے لیکن پستہ کھانے کا استعمال خون کے کی گردش کو اس لیول تک تیز کرتا ہے جہاں تک ہمارے جسم کو اس گرش کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایہ کولیسٹرول کو کو بھی لیول میں رکھتا ہے۔ اس وجہ سے کم کیلیریز والی غذا میں پستوں کی ایک سفارش کردہ مقدار ہماری روزمرہ کی زندگی میں ان ارا جک لمحات میں کولیسٹرول کا دبائو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ 

۔2 ذیابیطس سے لڑتا ہے

ذیابیطس کے چکار افراد شوگر اور پروٹین کے ساتھ نامناسب پابندیاں بناتے ہیںاور جب یہ نامناسب طور پر کام کرتے ہیں تو پھر ای میں غلطیان نکال کر اسے نامناسب طور پر قرار دیتے ہیں اس عمل کو گلائیکشن کے نام سے جانا جاتا ہے۔ پستہ میں موجود اینٹی آکسیڈنٹ گلیکسیشن کے عمل کع کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ اسی طرر اس عمل سے ذیابیطس کی بیماری سے لڑا جاسکتا ہے۔

۔3 کولیسٹرول کو کم کرتا ہے

صبح ناشتے میں اگر پستے کو کھایا جائے تو یہ کولیسٹرول کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ کولیسٹرول آپکی شریانوں کو خون کے جمنے کی علامات کو کم کرنے میں مدد دہتا ہے جو دل کے دورہ پرنے کا سبب بن سکتی ہیں۔ جیسا کہ یم جانتے ہیں اس میں موجود وٹامن ای شریانوں میں خون کے جمنے کا عمل کم کر دیتی ہیں۔ انٹرنیشل فوڈ انفارمیشن کونسل یہ بتاتے ہیں کہ مردوں اور خواتین کے لیے اعلی غذا کے خدشات چربی کے حد سے متعلق ہو سکتے ہیں۔ ایک طبی تحقیق کے مطابق صحت مند افراد میں خون میں گلوکز کی سطح کو برقرار رکھتے ہیں ۔

۔4 آنتوں کی راہداری میں مدد کرتا ہے

پستہ غذائی ریشہ کا ایک اچھا ذریعہ ہے جو کھانے کو ہضم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ تین گرام غذائی ریشہ پر مشتمل ہوت ہے ۔ یہ غذائی مقدار اس قدر کافی ہوتی ہے کہ اس سے آنتوں سے ترسیل باآسانی حاصل ہوجاتی ہے۔ پستہ میں موجود قدرتی غذا آنتوں کو قدرتی چکنائی مہیا کرتے ہیں جس سے آنتوں میں کبھی رکاوٹ نہیں بنتی اور یہ آنتوں کی راہداری کو ٹھیک کرتا ہے اپنے کام سرانجام دینے کے لیے۔ پستے میں فائبر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جو کہ تقریبا 3 گرام ہر مشتمل ہوتی ہے۔

فایبر زیادہ تر ہمارے نظام انہضام کے زریعے ہضم نہیں ہوتے لیکن کچھ فائبر آنتوں میں اچھے بیکٹریا کے زریعے ہضم ہو جاتے ہیں جو پری بائیوٹکس کے طور پر کام کرتے ہیں۔ ہاضمے کی خرابی کی وجہ سے بہت ساری بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ پستے کی مدد سے آنتوں کے اچھے بیکٹریا کے ذریعے میں اضافہ ہوتا ہے، جو شارٹ چین فیٹی ایسڈ تیار کرتے ہیں۔

۔5 دل کی بیماری میں کمی کا باعث بنتا ہے

پستے کا با قاعده استعمال جسم میں موجود ایل ڈی ایل کولیسٹرول کر کم کردیتا ہے۔ پستے میں موجود اینٹی آکسیڈنٹ، فائٹو سٹیرولز، غیر سیر شدہ فیٹی ایسڈ دل کو صحت مند رکھنے میں فروغ دیتے ہیں۔

۔6 جنسی زندگی کو بہتر بناتا ہے

پستا کھانا مردوں کی طاقت کو بہت متاثر کرتے ہیں۔ جو مرد حضرات جم جاتے ہیں وہ مستے کو اپنی خوراک میں استعمال کرتے ہیں اپنی باڈی کو بنانے کے لیے جو کچھ ہی عرصہ میں مردوں کی جسمانی شخصیت میں اضافہ کرتے ہیں اور انکے جسم کو ایک خوبصورت شکل دیتے ہیں۔

۔7 مدافعتی نظآم کو مضبوط کرتا ہے

اگر آپ بیماریوں کا مقابلہ کرنے چاہتے ہیں تو اس کے لیے آپکو اپنا مدافعتی نظام بہتر بنانا ہوگا، اور اس کے لیے آپکو وٹامنز اور منرلز کی بہت ضرورت ہوتی ہے۔ پستے میں پایا جانے والا وٹامن 6 خون کے خلیات کو بے حد اچھا کام کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ پستہ کا استعمال ہمارے مدافعتی نظام کو مضبوط بناتا ہے۔

۔8 ہیموگلوبن 

پستے کا استعمال ہمارے اندر آکسیجن پہنچانے کا کام کرتا ہے۔ پستے کا استعمال جسم میں ہیموگلوبن کی اچھی پیداوار بڑھاتے ہیں تا کہ ہمارہ مجموعی صحت اچھی ہو۔ جسم میں خون کی کمی بہت سی بیماریوں کا باعث بن سکتی ہے۔ خون کی کمی کی وجہ سے ہمارے جسم میں سر درد کی بیماریر سے لے کر سانس تک کا مسئلہ ہو سکتا ہے جس کو ہم ہر گز نظر انداز نہیں کر سکتے۔

۔9 بینائی کو بہتر بناتا ہے

پستا کھانا آنکھوں کی صحت کے لیے بہت اچھا ہے یہ آنکھوں کی صحت کو بہتر بناتا ہے اس کے علاوہ جب ہم کیروٹینائڈز سے بھرپور کھانوں کا استعمال کرتے ہیں تو عمر کے ساتھ ریٹینا کی چوٹ کا امکان زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ اگر ہم اپنہ آنکھوں کی صحت چاہتے ہیں تو ہمیں آپنی زندگی میں پستے کا استعمال کرنا ہوگا۔

Disclaimer: The contents of this article are intended to raise awareness about common health issues and should not be viewed as sound medical advice for your specific condition. You should always consult with a licensed medical practitioner prior to following any suggestions outlined in this article or adopting any treatment protocol based on the contents of this article.

Ms. Mehak Zafar - Author Ms. Mehak Zafar is a very well regarded Dietitian and has a number of certifications under her belt, including Doctor of Nutrition Sciences (DNS) as well as 3 years of experience in her field.
Book Appointment with the best "Nutritionists"