کمر درد کی وجوہات اور علاج

Prof. Dr. M. Tariq Sohail

9 sec read

کمر درد ایک عام طور پر سننے میں آنے والی جسمانی شکائت ہے۔ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کے شکار ہونے کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہم میں سے ہر کوئی کبھی نہ کبھی کمر کے درد کا شکار ضرور ہوتا ہے۔ تاہم بہت سے لوگوں میں یہ ایک مستقل شکل اختیار کر لیتی ہے۔ کمر درد بہت معمولی علاجی تدابیر سے خود بخود ٹھیک بھی ہو جایا کرتا ہے اور بعض کیسوں میں اس کے علاج کےلیے ڈاکٹر کے پاس بھی جانا پڑ سکتا ہے جو اس کے علاج کے لیے کھانے کی دوائیں یا ٹیکے تجویز فرماتے ہیں جن سے مریض شفایاب ہو جاتے ہیں۔ اس کے بہت کم مریض ایسے ہوتے ہیں کہ جنہیں اس کے علاج کے لیے جراحی کے عمل سے گزرنا پڑے۔ 

:کمر درد کی وجوہات 

  • کمر کے پٹھوں کا کھنچاؤ: یہ کمر درد کی وجوہات میں سب سے عام وجہ ہے جو کسی بھاری وزن کے غلط طریقے سے اٹھانے یا کمر کو جھٹکا لگنے سے جنم لیتی ہے۔ یہ بہت زیدہ جسمانی مشقت کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے؛ 
  •  تا دیر بیٹھے رہنا یا بیٹھنے کا غلط انداز؛ 
  • کمر کی قدرتی ساخت میں کسی خرابی کا واقع ہو جانا: کمر کی قدرتی ساخت میں ریڑھ کی ہڈی ایک ستون کا کام کرتی ہے۔ ریڑھ کی ہڈی دراصل ریڑھ کے مہروں پر مشتمل ہوتی ہے جو ایک دوسرے میں سلسلہ وار پیوست ہوتے ہیں اور ان کے درمیان ایک نرم اسفنج کی طرح کی کُرّی ہڈی ہوتی ہے۔ جسے ڈِسک (Disk) کہتے ہیں۔ اس ڈسک کی کوئی بھی خرابی، مہروں کے آپس میں ٹکرانے کی وجہ سے کمر کے درد کا سبب بنتی ہے؛ 
  •  آرتھرائٹس (Arthritis): کمر کے مہروں کے جوڑوں کی خرابی سے جنم لینے والی کمر درد کی وجوہات میں سے ایک ہے؛
  • اوسٹو پوروسس یا ہڈیوں کا بھر بھرا پن (Osteoporosis)؛
  • ریڑھ کی ہڈی میں میں کسی پھپھوندی یا بیکٹیریا کا انفیکشن، یا ٹی بی؛ 
  • ریڑھ کی ہڈی میں میں کینسری یا غیر کینسری گلٹی کا بننا؛ اور 
  •  گردوں میں انفیکشن یا پتھری 

کمر درد کا علاج

بہت سے لوگوں کو کمر درد کی درستی کے لیے کسی لمبے چوڑے علاج کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بغیر نسخے کے دستیاب درد دور کرنے کی دوائیں ہی اسے ٹھیک کر دیتی ہیں۔ بہت شدید درد کی صورتوں میں زرا سخت علاج کی ضرورت پیش آسکتی ہے جو لازمی طور پر کسی مستند ڈاکٹر کے مشورے اور نگرانی میں ہی ہو نا چاہیے۔ 

:ادویات 

  • نسیڈ (NSAID): کبھی کبھار اور عارضی وجوہات سے اٹھنے والے کمر درد کے لیے غیر سٹیرائڈی سوجن اور درد دور کرنے کی دوائیں جنہیں نسیڈ (NSAID) کہتے ہیں جیسے کہ بروفین اور نیپروکسن وگیرہ مفید ثابت ہوتی ہیں۔ بعض اوقات درد دور کرنے کی عام دوا یعنی پیراسٹامول ہی کارگر ثابت ہوتی ہے۔ تاہم بروفین کی قسم کی دوائیں اس صورت میں بڑی احتیاط سے لینا چاہیئں کہ اگر کسی کا ہاضمہ خراب ہو یا اس کے گردے صحیح کام نہ کرتے ہوں۔ 

کمر درد کی وجوہات سے نجات کے لیے بغیر نسخہ دستیاب دواؤں تجویز کردہ خوراک اور لمبے عرصے تک لینا نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ 

  • مُقامی استعمال کی دوائیں: کمر درد کے علاج کے لیے کھانے کی ادویات کے علاوہ مقامی طور پر ملنے کی ادویات کریموں اور مالش کے تیلوں کی صورت میں بھی دستیاب ہوتی ہیں۔ ایسی کریموں میں دافع درد اور سوجن؛ اور درد کا احساس ختم کرنے والی دوائیں شامل ہوتی ہیں۔ 
  • افیونی مرکبات (opioids): شدید کمر درد کی وجہ سے ہونے والی بے سکونی کے علاج کے لئے افیونی مرکبات پر مشتمل دوائیں بھی استعمال کروائی جاتی ہیں۔ تاہم ان کا زیادہ اور لگاتار استعمال ان کا عادی بھی بنا سکتا ہے۔ 
  • عضلات کو ڈھیلا کرنے والی ادویات (Muscle relaxants): یہ ادویات ریڑھ کے عضلات میں تناؤ کو دور کر کے کمر درد کی وجوہات کے خاتمے کا کام کرتی ہیں۔ 
  • مایوسی دور کرنے والی دوائیں (Antidepressants): مایوسی دور کرنے کی دوائیں گو کسی اور مقصد کے لیے بنی ہوتی ہیں لیکن کمر میں شدید درد کی صورت میں ان کا ستعمال بھی کروایا جاتا ہے کیونکہ یہ نظامِ اعصاب کے ان مراکز پر بھی اثر رکھتی ہیں جو کسی درد کے رد عمل کے اظہار میں کسی مخصوص کردار کے حامل ہوتی ہیں۔ دافع مایوسی ادویات اعصاب سے متعلقہ درد دور کرنے میں مفید ثابت ہو تی ہیں۔
  •  سٹیرائڈ کے انجیکشن (steroid injection): آپ کے ڈاکٹر صاحب آپ کے کمر درد کے علاج کیلیے کارٹیسون کے انجیکشن آپ کی کمر میں لگا سگتے ہیں۔ تاہم ان کا اثر صرف تین ماہ تک برقرار رہتا ہے اور ان کی پھر سے ضرورت پڑتی ہے۔ 
  • جرّاحی: کمر درد کے علاج کے لیے جراحی کا استعمال ریڑھ کی ہڈی کی کسی ساختی تبدیلی کو درست کرنے کے لیے ہی بروئے کار لایا جاتا ہے۔ 

:دیگر علاج 

کمر درد کے لیے روائیتی میڈیکل علاج کے علاوہ دیگر علاج بھی مستعمل ہیں، جیسے کہ: 

  • آکو پنکچر؛ 
  • مساج؛ 
  • کائروہپریکٹک (chiropractic) یا انگلیوں کے دباؤ سے کھسکے ہوئے مہروں کو ان کی اصل جگہ پر واپس لانا؛ 
  •  سینک دینا؛
  •  برف پھیرنا؛
  •  تیل کی مالش؛ اور 
  • نیم گرم، نمک ملے، پانی کی ٹکور وغیرہ
Disclaimer: The contents of this article are intended to raise awareness about common health issues and should not be viewed as sound medical advice for your specific condition. You should always consult with a licensed medical practitioner prior to following any suggestions outlined in this article or adopting any treatment protocol based on the contents of this article.

Prof. Dr. M. Tariq Sohail - Author Dr. Tariq Sohail is an orthopedic surgeon, practicing in Lahore. He is Specialist in sports injuries, orthopedic physiotherapies hip replacement surgeries and lower back pain problems. You can book appointment with him through oladoc.
Best Internal Medicine Specialist in Pakistan